دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

سپین629 مہاجرین کو لیے امدادی بحری جہاز ایکوارئیس ہسپانوی بندرگاہی شہر ویلنیسا لنگر انداز ہو گیا
تاریخ :   17-06-2018

سپین (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) مہاجرین سے بھرا بحری جہاز ایکوارئیس اسپین لنگر انداز ہو گیا ہے۔ اٹلی نے اس امدادی بحری جہاز کو ملکی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، جس کی وجہ سے یورپی یونین میں مہاجرت کے حوالے سے اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔ اتوار کے دن بتایا ہے کہ 629 مہاجرین کو لیے امدادی بحری جہاز ایکوارئیس ہسپانوی بندرگاہی شہر ویلنیسا لنگر انداز ہو گیا ہے۔ اس اطالوی کوسٹ گارڈز بحری جہاز میں وہ مہاجرین سوار تھے، جنہیں بحیرہ روم میں امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو کیا گیا تھا۔ گزشتہ سات دنوں سے یہ جہاز سمندر میں ہی موجود تھا کیونکہ اطالوی حکومت نے اسے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

روم حکومت کی طرف سے اس امدادی جہاز کو ملک میں لنگرانداز ہونے سے روکنے کے نتیجے میں یورپی یونین کی سطح پر اختلافات زیادہ واضح ہو گئے ہیں کہ مہاجرین کا بحران کس طرح حل کیا جانا چاہیے اور یہ کہ پناہ دیے جانے کی مشترکہ یورپی پالیسی کیا ہونا چاہیے۔

شورش زدہ اور تنازعات کے شکار ممالک سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے شمالی افریقہ سے لوگ پرخطر سمندری راستوں کا استعمال کرتے ہوئے اٹلی یا اسپین جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہسپانوی حکام نے بتایا ہے کہ ایکوارئیس کے لنگر انداز ہونے کے بعد اتوار کے دن ہی دو مزید امدادی بحری جہاز ملکی ساحلی علاقوں میں لنگر انداز ہوں گے، جن میں موجود مہاجرین کو ملکی اور یورپی قوانین کے تحت امداد پہنچائی جائے گی۔ تاہم کہا گیا ہے کہ ایسے مہاجرین کو واپس ان کے ممالک روانہ کیا جا سکتا ہے، جن کے پاس پناہ حاصل کرنے کا قانونی حق نہیں ہے۔

ہسپانوی حکومت کے مطابق ان امدادای جہازوں کے ذریعے ملک میں داخل ہونے والے تمام مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر فردا فردا کارروائی کی جائے گی اور پرکھا جائے گا کہ ان میں سے کتنے افراد اقتصادی مقاصد کی خاطر مہاجرت اختیار کرنے کی کوشش میں ہیں اور کن مہاجرین کے دعوے سچے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مکمل چھان بین کے بعد ہی ان مہاجرین کو اسپین میں پناہ کی اجازت دی جائے گی۔

ہسپانوی حکام کے مطابق ایکوارئیس کے ذریعے اسپین پہنچنے والے ان مہاجرین میں سات حاملہ خواتین اور 123 بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طبی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ امدادی جہاز ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور ایس او ایس میڈیٹیرئین نامی غیر سرکاری اداروں کی مشترکہ معاونت سے کام کر رہا تھا۔

گزشتہ ہفتے مالٹائی اور اطالوی حکام نے اس جہاز کو اپنے اپنے ممالک میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس جہاز میں مجموعی طور پر چھبیس ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن افراد سوار تھے، جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور افغان بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی امدادی بحری جہاز ایکوارئیس نے لیبیا کی ساحلی حدود سے ان مہاجرین کو ریسکیو کیا تھا، جس کے بعد انہیں یورپ منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اطالوی حکومت کا الزام ہے کہ یہ امدادی مشن ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، جو غیرقانونی طور پر یورپ آنے کی کوشش میں ہیں۔

اطالوی وزیر داخلہ ماتیو سالوینی کے بقول ایک طرح سے یہ امدادی مشن انسانوں کے اسمگلروں کی مدد ہی کر رہا ہے کیونکہ افریقی ساحلی حدود میں مختلف کشتیوں پر سوار افراد کو بچا کر یورپ لانے سے ان کے حوصلے مزید بلند ہو جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکہ نے آئندہ چند دنوں میں ترکی کو ایف 35 جنگی طیارہ دینے کا اعلان
آرمی چیفجنرل قمر جاوید باجوہ نے عید کا پہلا روز لائن آف کنٹرول پر جوانوں کیساتھ گزارا
Translate News »