چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

سپریم کورٹ کا اسلام آباد دھرنے کے شرکا کیخلاف آپریشن سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر برہمی کا اظہار
تاریخ :   01-12-2017

اسلام آباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سپریم کورٹ کے جج قاضی جسٹس فائز عیسی نے اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے خلاف آپریشن سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے میں شریک مظاہرین کو پولیس کا مقابلہ کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھیاں اور ماسکس کس نے فراہم کیی ۔

جمعرات کو جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے اسلام آباد دھرنے کے نوٹس پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت سے استدعا کی کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہیں لہذا اس کیس کی سماعت منگل تک کیلئے ملتوی کی جائے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب آپ موجود ہیں تو کیس کو کیوں ملتوی کیا جائے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اور حساس اداروں کی رپورٹس عدالت میں پیش کر دی گئی ہیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کی رٹ پورے پاکستان میں ہے، اس کی رپورٹ کہا ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ سر بمہر لفافے میں پیش کی گئی ہے۔جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اس رپورٹ میں خفیہ رکھنے والی کوئی بات نہیں تو کیا آئی ایس آئی رپورٹ میں کوئی کلاسیفاڈ معلومات ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئی ایس آئی خاموش کیوں ہے، ان کا اعلی سطحی نمائندہ عدالت میں کیوں نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو ملک کے غریب عوام پیسے دیتے ہیں تاہم ریاست کا تحفظ آئی ایس آئی کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فیض آباد دھرنے اور اس کے خلاف آپریشن کے بعد کی صورتحال کے پیش نظر ملک کو 14 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ اس دوران ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل آفس کو موصول ہونے والی رپورٹ میں کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں ہے، املاک کا مجموعی طور پر کتنا نقصان ہوا ہی جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے مطابق میٹرو بس اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں کو مظاہرین نے نقصان پہنچایا ہے۔جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر وفاقی دارالحکومت کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا تو پورے ملک کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا۔انہوں نے استفسار کیا کہ مظاہرے میں موجود جن افراد کے پاس آتش گیر مادہ تھا ان کے خلاف مقدمات درج ہوئی جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ ایسے واقعات میں 27 مقدمات کا اندراج کیا جاچکا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس ملک کے لوگ بہت شریف ہیں اور شرافت میں مارے جاتے ہیں اور ہم یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے دھرنے کیے جائیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مجھے پرواہ نہیں کوئی مجھے کتنی گالیاں دے، اسلام کردار سے پہلے ہے اور میں اسلام اور پاکستان کی بات کرتا رہوں گا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاک فوج اور حکومت کے علیحدہ علیحدہ ہونے کا غلط تاثر پیش کیا جارہا ہے جبکہ حکومت سے فوج الگ نہیں ہے لہذا ان کو بدنام نہ کیا جائے کیونکہ فوج کو بدنام کرنے والے اپنے ذاتی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں ایک چینل کا بھی ذکر ہے کیا اب بھری عدالت میں اس چینل کا نام لیا جائی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے استفسار کیا کہ پاکستانی میڈیا فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا حوصلہ شکنی کرتا ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آزاد میڈیا ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے تاہم میڈیا پر گالم گلوچ کی اجازت کسی ملک میں نہیں دی جاتی لہذا ٹی وی چینلز کی ذمہ داری ہے کہ تشدد کو ہوا نہ دیں اور اگر میڈیا اپنا قبلہ درست نہیں کرتا تو ہم اسے بھی دیکھ لیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق عدالتِ عظمی نے حکم دیا کہ آج کی سماعت کا حکم نامہ چیمبر میں لکھوائیں گے جبکہ تحریری حکم نامے میں کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کی جائیگی۔

Print Friendly, PDF & Email
تاجدار مدینہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اصلاح کا عمل شروع کردیا جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے مسائل دم توڑ جائیں گے محمد عثمان طور
   گوجرانوالہ شہر بھر میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم عقیدت اور احترام سے منایا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »