بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG    

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا عبوری حکم جاری
تاریخ :   20-11-2018

سلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو )سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض دھرنا کیس میں عبوری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ اس معاملے میں ہمیں تعین کرنا ہے کہ احتجاج کی حدود کیا ہوتی ہیں، یہ بھی تعین کرنا ہے کہ ریاست احتجاج کرنے والوں سے کیا سلوک کرے، یہ بھی دیکھنا پڑے گا آیا

تحریک انصاف کے دھرنے کا اس احتجاج سے تقابل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت گزشتہ ہفتے ہوئی تھی۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی جس کا تحریری حکم نامہ منگل کو جاری کیا گیا۔الیکشن بل 2017 میں حلف نامے کے الفاظ کو تبدیل کیے جانے پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر 22 روز تک دھرنا دیا گیا۔ مظاہرین کے خلاف ایک آپریشن بھی کیا گیا، جس کے بعد ایک معاہدے کے بعد دھرنا اختتام پذیر ہوا۔مظاہرین کے مطالبے کے بعد اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔پانچ صفحات پر مشتمل تحریری عبوری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن سے متعلق رپورٹ الیکشن کمیشن نے جمع کرائی، سیکرٹری الیکشن کمیشن طلبی کےباوجود پیش نہیں ہوئے اور انکی عدم حاضری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تاثر یہ ہے کہ حکومت اس کیس کو چلانا نہیں چاہتی، ایسی جماعت جس نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا، اربوں روپے کا معاشی اور جانی نقصان بھی ہوا، اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن بتائے کیا اس طرح کی پارٹی کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کیا جا سکتا ہے؟عدالت نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن کے لئے ایسے شخص کا شناختی کارڈ دیا گیا جس کا رہائشی پتا دبئی کا ہے۔ الیکشن کا نمائندہ یہ بتانے میں ناکام رہا آیا کہ مزکورہ شخص دوہری شہریت کا حامل ہے یا نہیں۔ تحریک لبیک پاکستان نے اپنے اخراجات کی تفصیلات بھی جمع نہیں کرائیں، جب الیکشن کمیشن کے نمائندے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ الیکشن ایکٹ ایک مصنوعی قانون ہے۔ ہمارے لیے یہ بات تعجب کا باعث ہے کہ الیکشن کمیشن کا نمائندہ اپنے ادارے کے قانون کو مصنوعی کہہ رہا ہے۔ اس بیان سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بری طرح سے مجروح ہوئی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن وضاحت کرے کیا وہ اپنے نمائندے کے بیان سے متفق ہے۔ اس معاملے میں ہمیں تعین کرنا ہے کہ احتجاج کی حدود کیا ہوتی ہیں۔ یہ بھی تعین کرنا ہے کہ ریاست احتجاج کرنے والوں سے کیا سلوک کرے۔ یہ بھی دیکھنا پڑے گا آیا تحریک انصاف کے دھرنے کا اس احتجاج سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ چیئرمین پیمرا سے چینلوں کی بندش کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی۔ دیکھنا پڑے گا کہ کیا کیبل آپریٹر چینلز بند کر سکتے ہیں۔ اظہار راہے کی آزادی بنیادی حق ہے۔ وہ وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور دیگر ذیلی اداروں کے بارے میں لاگو قوانین پر رپورٹ دے۔ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر لیگل اس بارے میں کوئی جواب نہیں دے سکے۔ کیس کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے،تحریک لبیک کے اس دھرنا کے بعد یہ جماعت پنجاب میں ایک موثر سیاسی قوت بن کر ابھری اور بیشتر مقامات پر تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بعد اس کے امیدواروں نے ووٹ حاصل کیے لیکن اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جماعت سے نالاں ہیں لیکن اس کی شہر بند کروانے کی صلاحیت اور سٹریٹ پاور کے پیش نظر اس کے خلاف کوئی بھی سخت اقدام کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست نے امریکی معاشرے کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے،سینیٹر شیری رحمان
کابل میں عید میلاد النبی (ص) کے جلسے میں دھماکے سے 40 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی
Translate News »