وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ایک روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے     No IMG     مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت نے آصف زرداری کو تمام قانونی سہولتیں دینے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکہ نے 18 سالہ افغان جنگ میں حقائق کو عوام سے ہمیشہ چھپایا۔     No IMG     امریکی کمیشن کی بھارتی قیادت پر پابندیاں عائد     No IMG     مسلم لیگ نون نے چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر اہم معاملات پرقانون سازی کا حصہ نہ بننے کا اعلان     No IMG     وفاقی کابینہ اجلاس میں مریم نواز کو بیرون ملک بھیجنے کی مخالفت     No IMG     منی لانڈرنگ کیس: احتساب عدالت نے نیب کو حمزہ شہباز سے متعلق بڑا حکم جاری کر دیا     No IMG     پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹرانسپورٹ اورنج لائن میٹروٹرین نے اپنے پورے روٹ پر آزمائشی سفر کا آغاز کردیا     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس     No IMG     مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 116واں روز, وادی میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں برقرار     No IMG     برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن نے مسلمان خواتین سے متعلق غیر اخلاقی بیان پر معافی مانگ لی     No IMG     جعلی پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی, مولانا فضل الرحمان     No IMG     اسرائیل نے القدس میں سب سے بڑی کالونی کے قیام پر کام شروع کردیا     No IMG     عراق میں مظاہرین نے ایرانی سفارتخانےکو آگ لگا دی     No IMG     ثابت ہوگیا کہ عمران خان نالائق تھے، نالائق ہیں اور نالائق ہی رہیں گے,مریم اورنگزیب     No IMG    

سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع
تاریخ :   28-11-2019

اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کر دی۔ عدالت نے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا آرمی چیف کی توسیع آج رات 12 بجے سے شروع ہوگی اور موجودہ تقرری قانون سازی سے مشروط ہوگی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت اس معاملہ پر تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، عدالت مناسب سمجھتی ہے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ آرمی چیف کی سروس کی شرائط اور مدت کو قانون سازی کے ذریعے کلیریفائی کرے ، پارلیمنٹ آرٹیکل 243 کے دائرہ اختیار کو بھی واضح کرے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا جنرل قمرجاوید باجوہ 6 ماہ تک بطورآرمی چیف اپنی خدمات جاری رکھیں گے، نئی قانون سازی آرمی چیف کی مدت اور قواعد و ضوابط کا تعین کرے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، وفاقی حکومت اس معاملے پر اپنا موقف بدلتی رہی،کبھی آرٹیکل 243 اور کبھی ریگولیشن 255 پر انحصار کیا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کی معاونت سے ہم آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے کوئی قانونی نقطہ تلاش نہیں کر پائے، کیا آرمی چیف کو ری اپوائنٹ یا توسیع دی جا سکتی ہے؟ ایسا کوئی نقطہ نہیں ملا۔ عدالت کا کہنا تھا اٹارنی جنرل کے ہمارے سوالات پر جوابات پاکستان آرمی میں رائج روایات پر منحصر تھے، اٹارنی جنرل نے واضح یقین دہانی کرائی ہے جو روایات ہیں انہیں قانونی شکل دی جائے گی۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا۔ اٹارنی جنرل بولے ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھے ہوں گے، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس میں مزید کہا آرمی چیف ملکی دفاع پر نظر رکھے یا آپ کے ساتھ بیٹھ کر قانونی غلطیاں دور کرے؟۔
اٹارنی جنرل نے مدت اور مراعات سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرادی ، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پارلیمان اور حکومت پر چھوڑ رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان کہتے ہیں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، اس پر عمل درآمد کریں گے، دو تہائی کی ضرورت نہیں ، سادہ اکثریت سے قانون منظور ہوجائے تو مسئلہ نہیں ہوگا، ایک سے ڈیڑھ ماہ میں قانون سازی ہو جائے گی، حکومت نے اپنی طرف سے کوئی نئی چیز شامل نہیں کی تھی۔ قانون سازی ہونے پر عدالت 6 ماہ بعد پھر جائزہ لے لگی۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت نے مسعود اظہر اور حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے دیا
Translate News »