گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم حسین کو 90 دن رینجرز کی حراست میں رکھنے کے خلاف درخواست
تاریخ :   10-11-2017

کراچی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم حسین کو 90 دن رینجرز کی حراست میں رکھنے کے خلاف درخواست پر متعلقہ دستاویزات 24 نومبر تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جمعہ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو رینجرز نے 90 روز کیلئیحراست میں لیا، 93 دن رکھا۔ڈاکٹر عاصم کو نامعلوم جگہ پر رکھا گیا، فیملی اور وکلا سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ انور منصور نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم پر بدترین ٹارچر کیا گیا اور مرضی کے بیانات لیے گئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا یا جے آئی ٹی نے بیان لیا۔ جس پر انور منصور نے کہا کہ ڈاکٹرعاصم کا بیان دیگر اداروں نے مل کرلیا اور تمام بیانات پبلک بھی کیے گئے۔چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ آپ کا کہنا ہے بیان پبلک کرکے ڈاکٹر عاصم کی تذلیل کی گئی ہی انور منصور بولے کہ جی رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کا بیان دلوا کر ان کی تذلیل کی۔ جسٹس کے کے آغا نے ریماکس میں کہا کہ رینجرز کو دیے گئے اختیار میں تو یہ موجود ہے کہ وہ کسی کو بھی گرفتار کرسکتے ہیں۔ انور منصور نے کہا کہ اس قانون میں یہ بھی ہے کہ آرٹیکل 10 تحت ان کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔رینجرز کو ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوری اور دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے اختیار دیا گیا تھا۔ دہشت گردوں کو بھی ٹھوس شواہد اور اطلاع پر گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ ڈاکٹر عاصم حسین کسی بھی سنگین واردات میں مطلوب نہیں تھے۔ڈاکٹر عاصم بے دہشت گردوں کو فنڈنگ نہیں کی تھی۔ ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردوں کی معاونت نہیں بلکہ علاج کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم کیس سے متعلق تمام دستاویزات طلب کرتے ہوئے سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
قومی احتساب بیوروکا برطانوی حکومت کو شریف خاندان کی کمپنیوں اور جائیداد کا ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے خط
ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ قابل تحسین ،اس سے دینی جماعتوں کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »