وزیراعظم عمران خان نے امیرقطر امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ون آن ون ملاقات     No IMG     بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کی طرف سے کراچی میں مذکورہ سوسائٹی کو قانونی دائرے میں لانے کی لیے 350 ارب کی پیشکش     No IMG     وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG    

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے18 قاتلوں کو ملک بدر کر کے ترکی کے حوالے کرنے سے انکار
تاریخ :   27-10-2018

الریاض ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے اٹھارہ مشتبہ سعودی قاتلوں کو ملک بدر کر کے ترکی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ سعودی عرب ہی میں چلایا جائے گا۔

ترک حکام نے ابھی کل جمعہ چھبیس اکتوبر کے روز ہی کہا تھا کہ انہوں نے ایک ایسی تحریری درخواست تیار کر لی ہے، جس میں ریاض حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں دو اکتوبر کو قتل کر دیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مشتبہ قاتلوں کو ترک محکمہ انصاف کے حوالے کر دیا جائے تاکہ ان کے خلاف استنبول کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے۔
اس پر اپنے ردعمل میں ہفتہ ستائیس اکتوبر کو سعودی وزیر خارجہ الجبیر نے کہا کہ ریاض حکومت چاہتی ہے کہ ان ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی سعودی عرب ہی میں مکمل کی جائے۔ خلیجی عرب ریاست بحرین کے دارالحکومت مناما میں ایک علاقائی دفاعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا، ’’جہاں تک ملک بدری کا سوال ہے تو یہ مشتبہ افراد سعودی شہری ہیں۔ انہیں سعودی عرب ہی میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف چھان بین بھی سعودی عرب ہی میں ہو رہی ہے۔ اس لیے ان کے خلاف عدالتی
کارروائی بھی سعودی عرب ہی میں مکمل کی جائے گی۔‘‘

الجبیر کے اس بیان کے ساتھ ہی خاشقجی کے قتل سے متعلق مشتبہ ملزمان کے خلاف کسی بھی ممکنہ عدالتی کارروائی کا معاملہ ایک ایسا رنگ اختیار کر گیا ہے، جس میں ترک اور سعودی موقف ایک دوسرے سے قطعی مختلف اور متصادم ہو گئے ہیں۔ ابھی کل ہی خود ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ ریاض حکومت ان 18 مشتبہ ملزمان کو ملک بدر کر کے انقرہ کے حوالے کرے۔
ب سعودی وزیر خارجہ کا نیا بیان اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سعودی حکمران ایسا کرنے پر بالکل تیار نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں خاشقجی کے قتل کی مشترکہ چھان بین میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل بھی کل اتوار اٹھائیس اکتوبر کو ترکی کا ایک دورہ کرنے والے ہیں۔

جمال خاشقجی کے قتل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی حکمرانوں کا ناقد یہ سعودی صحافی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے جانے کے بعد سے لاپتہ تھا۔ سعودی حکام پہلے دو ہفتوں تک یہی کہتے رہے تھے کہ وہ نہیں جانتے کہ خاشقجی کہاں ہے۔

پھر اس بارے میں ترک ماہرین استغاثہ کی طرف سے جمع کردہ شواہد کی روشنی میں جب واضح طور پر خاشقجی کو قتل کر نے والے سعودی کمانڈوز کی ایک پندرہ رکنی ٹیم کا ذکر بھی ہونے لگا، تو سعودی حکام نے پہلے یہ تسلیم کیا کہ خاشقجی کو قتل کیا جا چکا ہے۔ پھر وزیر خارجہ عادل الجبیر نے یہ اعتراف بھی کر لیا تھا کہ خاشقجی کا قتل ’ایک بہت بڑی اور سنگین غلطی‘ تھا
اسی قتل کے سلسلے میں کئی حلقے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی لے رہے تھے کہ یہ قتل مبینہ طور پر انہی کے حکم پر کیا گیا تھا۔ لیکن وزیر خارجہ الجبیر اور دیگر اعلیٰ سعودی نمائندوں نے اس الزام کی پرزور تردید کر دی تھی کہ اس قتل کا سعودی علی عہد سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہے یا تھا۔

اس بارے میں الجبیر نے ہفتے کے روز مناما میں یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو اس قتل کی تفتیش کے نتائج سامنے آنے کا انتطار کرنا چاہیے۔ الجبیر کے مطابق، ’’تفتیش جاری ہے۔ ہم سچ جان جائیں گے۔ اس قتل کے ذمے دار افراد کو جواب دہ بنایا جائے گا اور اس بات کو یقینی بھی، کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘‘

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے مناما سے ملنے والی اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ جمال خاشقجی کے قتل پر میڈیا کی مسلسل اور بھرپور توجہ ایک ’ہیجانی‘ صورت حال کا رنگ اختیار کر چکی ہے حالانکہ پبلک کو سعودی قیادت کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے حقائق سامنے آنے کا انتطار کرنا چاہیے۔ عادل الجبیر کے الفاظ میں، ’’ہم اس (صورت حال) پر قابو پا لیں گے۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
چین, اور جاپان کا مستحکم باہمی تعلقات کے قیام پر اتفاق
ترکی میں شامی بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں
Translate News »