چودھری پرویزالٰہی سے فردوس عاشق اعوان کی ملاقات     No IMG     یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب     No IMG     وزیروں کو نکالنے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی, بلاول بھٹو زرداری     No IMG     ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں سعد آباد محل میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا باقاعدہ اور سرکاری طور پر استقبال     No IMG     بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG    

سعودی عرب میں بنگلہ دیشی خواتین کو جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا
تاریخ :   09-09-2018

بنگلہ دیش ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جب میں واپس وطن لوٹی تو بیس دنوں کے لیے مجھے ہپستال میں داخل رہنا پڑا۔ نہ میں چل سکتی تھی اور نہ ہی کچھ کھا سکتی تھی‘، یہ کہنا ہے پچیس سالہ شیفالی بیگم کا، جوبطور ڈومیسٹک ورکر سعودی عرب کام کرنے کی غرض سے گئی تھیں۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی پچیس سالہ شیفالی بیگم نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کو بری طرح استحصال کا شکار بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مالکان انہیں مارتے پیٹتے بھی تھے، ’’وہ مجھے تاروں اور ڈنڈوں سے پیٹتے تھے۔ میری رانوں پر اس تشدد کے نشانات ابھی تک موجود ہیں۔‘‘
شیفالی کے مطابق اسے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی دیا جاتا تھا، ’’میں جب بھی کھانا مانگتی تو وہ مجھے تشدد کا نشانہ بناتے۔‘‘ شیفالی کا تعلق مانک گنج ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ وہ اچھے مستقبل اور گھر والوں کی مالی مدد کی خاطر بطور ڈومیسٹک ورکر سعودی عرب گئی تھی۔ تاہم جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ وہ سعودی عرب میں نہیں رہ سکتی۔
شیفالی کے مطابق تین ماہ بعد ہی اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ سعودی عرب میں کام نہیں کرے گی، ’’جس ایجنسی کے ذریعے میں کام کرنے سعودی عرب گئی تھی، جب اس نے مجھے واپس روانہ کرنے کا انتظام کیا تو اس سے ایک روز قبل ہی میرے مالکان نے مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میرے مالکان کی بیٹی نے میری ایک انگلی بھی توڑ دی۔‘‘

شیفالی کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سعودی عرب میں اس کے مالکان نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ’تشدد کے راز افشا‘ کیے تو وہ اسے ہلاک کر دیں گے، ’’وہ مجھے ٹیلی فون پر میرے گھر والوں سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے اور نہ ہی میری مکمل اجرت دیتے تھے۔‘‘
شیفالی ایسی ساڑھے چھ ہزار بنگلہ دیشی خواتین میں سے ایک ہیں، جو سن دو ہزار پندرہ کے بعد سے سعودی عرب میں کام ترک کر کے واپس وطن لوٹ چکی ہیں۔ شیفالی جیسی خواتین کی مدد کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے BRAC کے مطابق سن 1991 تا سن 2005 بتیس ہزار تین سو تیرہ خواتین سعودی عرب میں کام کرنے کی غرض سے منتقل ہوئیں۔ تاہم ڈھاکا اور ریاض حکومتوں کے مابین سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعد بنگلہ دیش سے سعودی عرب جانے والی خواتین کی تعداد میں ایک دم تیزی پیدا ہو گئی۔
غیر سرکاری ادارے BRAC کے مطابق اس ڈیل کے بعد گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران دو لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد بنگلہ دیشی خواتین بطور ڈومیسٹک ورکرز سعودی عرب جا چکی ہیں۔ اس ادارے سے منسلک شفیع الحسن نےمیڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والوں باشندوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالکان کے ہاتھوں خواتین کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، انہیں تنخواہوں کے معاملے پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
شفیع الحسن نے مزید کہا کہ ان خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے جبکہ انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی خاطر فوری اقدامات کرے۔ دوسری طرف ڈھاکا حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان شکایات کے تناظر میں سعودی حکومت سے رابطے میں ہے اور ان مسائل کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کئی حلقوں کے خیال میں سعودی عرب میں بنگلہ دیشی خواتین کی صورتحال اتنی بھی ابتر نہیں، جتنا کہ میڈیا میں اچھالا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
سعودی عرب,شاہ سلمان اور ولی عہد کی عارف علوی کو مبارک باد
دبئی حکومت نے4مختلف شعبوں میں 3500غیرملکیوں کی جگہ شہریوں کو بھرتی کرنے کا اعلان
Translate News »