محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

سعودی عرب میں بنگلہ دیشی خواتین کو جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا
تاریخ :   09-09-2018

بنگلہ دیش ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جب میں واپس وطن لوٹی تو بیس دنوں کے لیے مجھے ہپستال میں داخل رہنا پڑا۔ نہ میں چل سکتی تھی اور نہ ہی کچھ کھا سکتی تھی‘، یہ کہنا ہے پچیس سالہ شیفالی بیگم کا، جوبطور ڈومیسٹک ورکر سعودی عرب کام کرنے کی غرض سے گئی تھیں۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی پچیس سالہ شیفالی بیگم نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کو بری طرح استحصال کا شکار بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مالکان انہیں مارتے پیٹتے بھی تھے، ’’وہ مجھے تاروں اور ڈنڈوں سے پیٹتے تھے۔ میری رانوں پر اس تشدد کے نشانات ابھی تک موجود ہیں۔‘‘
شیفالی کے مطابق اسے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی دیا جاتا تھا، ’’میں جب بھی کھانا مانگتی تو وہ مجھے تشدد کا نشانہ بناتے۔‘‘ شیفالی کا تعلق مانک گنج ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ وہ اچھے مستقبل اور گھر والوں کی مالی مدد کی خاطر بطور ڈومیسٹک ورکر سعودی عرب گئی تھی۔ تاہم جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ وہ سعودی عرب میں نہیں رہ سکتی۔
شیفالی کے مطابق تین ماہ بعد ہی اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ سعودی عرب میں کام نہیں کرے گی، ’’جس ایجنسی کے ذریعے میں کام کرنے سعودی عرب گئی تھی، جب اس نے مجھے واپس روانہ کرنے کا انتظام کیا تو اس سے ایک روز قبل ہی میرے مالکان نے مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ میرے مالکان کی بیٹی نے میری ایک انگلی بھی توڑ دی۔‘‘

شیفالی کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سعودی عرب میں اس کے مالکان نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ’تشدد کے راز افشا‘ کیے تو وہ اسے ہلاک کر دیں گے، ’’وہ مجھے ٹیلی فون پر میرے گھر والوں سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے اور نہ ہی میری مکمل اجرت دیتے تھے۔‘‘
شیفالی ایسی ساڑھے چھ ہزار بنگلہ دیشی خواتین میں سے ایک ہیں، جو سن دو ہزار پندرہ کے بعد سے سعودی عرب میں کام ترک کر کے واپس وطن لوٹ چکی ہیں۔ شیفالی جیسی خواتین کی مدد کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے BRAC کے مطابق سن 1991 تا سن 2005 بتیس ہزار تین سو تیرہ خواتین سعودی عرب میں کام کرنے کی غرض سے منتقل ہوئیں۔ تاہم ڈھاکا اور ریاض حکومتوں کے مابین سن دو ہزار پندرہ میں طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعد بنگلہ دیش سے سعودی عرب جانے والی خواتین کی تعداد میں ایک دم تیزی پیدا ہو گئی۔
غیر سرکاری ادارے BRAC کے مطابق اس ڈیل کے بعد گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران دو لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد بنگلہ دیشی خواتین بطور ڈومیسٹک ورکرز سعودی عرب جا چکی ہیں۔ اس ادارے سے منسلک شفیع الحسن نےمیڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والوں باشندوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالکان کے ہاتھوں خواتین کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، انہیں تنخواہوں کے معاملے پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
شفیع الحسن نے مزید کہا کہ ان خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے جبکہ انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی خاطر فوری اقدامات کرے۔ دوسری طرف ڈھاکا حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان شکایات کے تناظر میں سعودی حکومت سے رابطے میں ہے اور ان مسائل کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کئی حلقوں کے خیال میں سعودی عرب میں بنگلہ دیشی خواتین کی صورتحال اتنی بھی ابتر نہیں، جتنا کہ میڈیا میں اچھالا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
سعودی عرب,شاہ سلمان اور ولی عہد کی عارف علوی کو مبارک باد
دبئی حکومت نے4مختلف شعبوں میں 3500غیرملکیوں کی جگہ شہریوں کو بھرتی کرنے کا اعلان
Translate News »