امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

سعودي عرب

  • سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا

    ریاض ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) بری نقل و حمل کی قومی کمیٹی کے چیئرمین سعود النفیعی نے واضح کیا ہے کہ سعودی سرمایہ کار وں کو ٹرکوں پر غیر ملکی ڈرائیوروں کی تقرری اور بری ٹرانسپورٹ کی سعودائزیشن کے سرکاری فیصلے منظور ہیں۔ حب الوطنی کا تقاضا بھی یہی ہے البتہ اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کی بات پر عمل ہو تو سرمایہ کاروں سے وہی مطالبہ کرے جسے وہ پورا کرسکتے ہوں۔
    انہوں نے توجہ دلائی کہ مملکت میں 20لاکھ سے زیادہ ٹرک اور بسیں چل رہی ہیں۔ پورے ملک میں ہیوی ڈیوٹی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والے سعودی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ سعودی ڈرائیور بری ٹرانسپورٹ کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے۔ سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے بھی بہت بڑا ملک ہے۔ اس کی ضرورتیں بہت ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ڈرائیورو ں پر پابندی اور شہروں میں ٹرکوں کے داخلے کے اوقات محدود کرنے کے باعث ٹرک ٹرانسپورٹ کے مالکان کو ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہو رہا ہے۔

    اس شعبہ کے مالکان کو ڈر ہے کہ یہ صورتحال برقرار رہی تو لاگت بڑھ جائے گی۔ اس کا نتیجہ اشیاء صرف کے مہنگا ہونے اور ان کی قیمتیں 30فیصد تک بڑھ جانے کی صورت میں برآمد ہوگا۔وزارت محنت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے اقاموں میں توسیع کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو نئے ویزے بھی جاری نہیں کئے جا رہے ہیں جبکہ محنت او رکفالت کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی ہو رہے ہیں۔
    ایک اطلاع یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں ایسے پیشوں پر عملہ حاصل کر رہے ہیں جن کی سعودائزیشن کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ دریں اثناء ٹرانسپورٹ کے ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ سال مملکت میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ بنی کبیر سوسائٹی کے چیئرمین حسین بن علی آل ایوب نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک خدمات کے شعبے میں زبردست تغیرات آئیں گے۔ اس شعبہ میں 100ارب ریال سے زیادہ کیسرمایہ کاری ہوئی ہے۔

  • سعودی عرب کی کابینہ نے سعودی عرب۔ کویت رابطہ کونسل کے قیام کی باضابطہ منظوری دے دی

    سعودی عرب( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) کی کابینہ نے سعودی عرب۔ کویت رابطہ کونسل کے قیام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

     سعودی کابینہ کا اجلاس خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت جدہ میں ہوا۔ اجلاس میں سعودی عرب ۔ کویت رابطہ کونسل کے لیے وزیر خارجہ عادل الجبیر کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

    خیال رہے کہ ماضی میں بھی سعودی عرب مختلف ملکوں کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی رابطہ کونسلوں کے قیام کے لیے اقدامات کرتا رہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب متحدہ عرب امارات، مصر اور عراق کے ساتھ رابطہ کونسلیں قائم کرچکا ہے۔ رابطہ کونسل کے قیام کا مقصد سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

  • مُتحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین کا ’بی آؤٹ کیو’ کے خلاف سعودی اقدامات کا خیر مقدم

    مُتحدہ عرب امارات( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو)، مصر اور بحرین نے سعودی عرب کی طرف سے ایک نجی نشریاتی ادارے’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے قبل فٹ بال کی عالمی ایسوسی ایشن [ فیفا] کی جانب سے ’بی آؤٹ کیو‘ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا جس پر سعودی عرب کی طرف سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ٹی وی چینل سعودی عرب میں روس میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کو غیر قانونی

    طور پر نشر کررہا ہے۔

    تینوں عرب ممالک نے ’بی آئوٹ کیو‘ کے خلاف سعودی عرب کے اقدمات کو درست اور قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بھی اپنے ہاں اس تی وی چینل کے خلاف ایسے قانونی اقدامات کریں گے۔

    تینوں ممالک نے کہا ہے کہ ’بی کیو اؤٹ کیو‘ٹی وی چینل عرب ممالک کے نظریاتی مالکانہ حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

    مُتحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا کونسل نے سعودی عرب اور ’فیفا‘ کی طرف سے نجی ٹی وی چینل کے خلاف اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی چینل سعودی عرب کے شاہی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

    ادھر مصر کی سپریم کونسل برائے اطلاعات نے بھی’بی آئوٹ کیو‘ کے معاملے میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کو مسترد کردیا ہے۔

    سعودی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیفا کی جانب سے اس اقدام سے مملکت کی وزارت تجارت اور سرمایہ کاری کی بی آؤٹ کیو ٹی وی اور بی اِن کی غیر قانونی نشریات کو رکوانے کے لیے ان تھک کوششوں کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب اپنی حدود میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ بی آؤٹ کیو کی نشریات سعودی عرب کے علاوہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ] مینا] کے خطے کے ممالک میں بھی غیر قانونی طور پر اور سرقہ بازی کے ذریعے دکھائی جارہی ہیں۔اس کے باوجود بعض غیر ذمے دارانہ میڈیا رپورٹس میں سعودی عرب کو بی آؤٹ کیو کے سرقے سے جوڑنے کی غیر منصفانہ اور غلط کوشش کی گئی ہے۔

  • سعودی عرب کا ایک جنگی طیاروہ جنوب میں العسیر علاقہ میں گر کرتباہ

    سعودی عرب (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو)کا ایک جنگی طیاروہ سعودی عرب کے جنوب میں العسیر علاقہ میں گر کرتباہ ہوگيا ہے۔ یمنی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کا جنگی طیارہ صعدہ میں بمباری کرکے واپس جارہا تھا جو العسیر علاقہ میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی ابھی تک اس خـر کی تائید یا تردید نہیں کی ہے۔

  • سعودی شہزادہ خالد الفیصل کی زیر سربراہی جدہ میں علما کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پاکستان کے 12 علما بھی شامل تھے

    الریاض (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) سعودی شہزادہ خالد الفیصل کی زیر سربراہی جدہ میں علما کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پاکستان کے 12 علما بھی شامل تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کرکے امن مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا
    اختتامی خطاب میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سربراہ يوسف بن احمد العثيمين نے کہا کہ مکہ اعلامیہ مسئلہ افغانستان کا پر امن شرعی حل پیش کرتا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود فریقین جنگ بندی کرکے تشدد، اختلافات اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کریں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ مکہ کانفرنس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔
    افغان طالبان نے کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی اسے مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے بارے میں بھی انتہائی سخت بیان جاری کیا۔ طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی جنگ کوئی مقامی اندرونی تنازع نہیں بلکہ ایک اسلامی ملک پر کفار کی جارحیت ہے جس کے خلاف طالبان کی مزاحمت جہاد فرض ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس جہاد کو فساد قرار دے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے دیں گے۔
    طالبان نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور علما سے یہ امید نہیں کہ وہ کفر اور اسلام کی جنگ میں امریکی حملہ آور کا ساتھ دیں گے، بلکہ وہ توقع کرتے ہیں اسلامی کانفرنس پہلے کی طرح ان کی جائز جدوجہد کی حمایت کرے گی۔
    طالبان کے اسی سخت ردعمل کی وجہ سے مکہ اعلامیے میں افغان طالبان کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں جاری کیا گیا اور صرف اعلامیے پر ہی اکتفا کرلیا گیا۔ ورنہ اس کانفرنس کے دعوت نامے میں افغانستان میں جاری طالبان کی جدوجہد کو دہشت گردی اور طالبان کو غیرقانونی مسلح گروہ اور جرائم پیشہ افراد کہہ کر پکارا گیا تھا۔

  • سعودی عرب کے شہر جدہ میں امریکی حکام اور سعودی عرب کے وزير خارجہ نے ایران اور خطے کی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال

    سعودی عرب  (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) کے شہر جدہ میں امریکی حکام اور سعودی عرب کے وزير خارجہ عادل الجبیر نے ایران اور خطے کی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔امریکی اور سعودی عرب کے حکام نے امریکہ کی طرف سے ایران کے تیل کی برآمدات اور فروخت میں خلل ایجاد کرنے کے بارے میں ایران کے رد عمل پر تبادلہ خیال شروع کردیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے تیل کی فروخت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو آبنائے ہرمز سے کسی کے تیل کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

  • حجر اسودکے بارے میں نیا انکشاف سامنے آ گیا

    ریاض(ورلڑ فاسٹ نیوز فار یو) مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان مکّہ معظمہ کا رُخ کرتے ہیں اور اپنے یہاں قیام کے دوران عمرہ یا حج کی رسومات ادا کرتے ہیں۔ یہاں تشریف لانے والے لاکھوں کروڑوں زائرین کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی

    طرح انسانوں کے اس عظیم الشان اجتماع کے دوران حجر اسود کو چھُونے یا چُومنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔یہ مبارک پتھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی اور حضورؐ کے جد امجد حضرت ابراہیم کو حضرت جبرئیل کے ذریعے بھجوایا تھا۔ حجر اسود کے سامنے ہمہ وقت ایک گارڈ تعینات ہوتا ہے جو حجر اسود کی نگرانی کے ساتھ ساتھ اس کی زیارت کے مشتاق زائرین کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ ہر ایک گھنٹے بعددُوسرا گارڈ پُرانے گارڈ کی جگہ لے کر حجر اسود کی حفاظت کا ذمہ سنبھال لیتا ہے۔حرمین شریفین کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حجر اسود کی حفاظت پر تعینات افراد کا انتخاب اُن کی فٹنس‘ صحت ‘ گرمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور دیگر قابلیتوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ کعبہ شریف کے ملازمین ہر نماز کے بعد کعبۃ اللہ کو گلاب کے پھولوں‘ عود اور دُوسرے لوازمات کے ساتھ صاف کرتے ہیں۔ جبکہ اس کی فضاء کو معطر رکھنے کے لیے 24 گھنٹے خوشبو کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا ہے۔بہت سے افراد کا خیال ہے کہ حجر اسود ایک پتھر کا نام ہے‘ حالانکہ یہ آٹھ چھوٹے پتھروں کا مجموعہ ہے‘ جن میں سے سب سے بڑا پتھر کھجور کے سائز کا ہے۔ ان پتھروں کو آپس میں جوڑا گیا ہے۔حجر اسود کعبہ شریف میں زمین کی سطح سے تقریباً ڈیڑھ فٹ اُونچا نصب کیا گیا ہے۔ جس پر خالص چاندی کا چوکھٹا چڑھایا گیا ہے۔ حجر اسود کعبۃ اللہ کے گرد طواف شروع کرنے کی نشانی ہے جبکہ طواف کا ہر چکر اسی پر ختم ہوتا ہے ۔ ہر طواف کے دوران حاجیوں اور عمرہ زائرین کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اس مقدس پتھر کو چھونے یا چُومنے میں کامیاب ہو جائیں۔

  • قطری عازمین حج جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے سعودی عرب میں داخل ہو سکتے ہیں۔

    سعودی عرب( ورلڑ فاسٹ نیوز فاریو) کی وزارت حج وعمرہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر کے عازمین حج جدہ میں قائم شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے راستے سعودی عرب میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت حج عمرہ کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1439ھ کے حج سیزن پر دنیا بھر سے دو ملین سے زاید عازمین حج کی مملکت میں آمد متوقع ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے عازمین حج کو مناسک حج کی ادائی کے لیے ہرطرح کی سہولت فراہم کرنے اور ان کی تمام مادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہرممکن سہولت کی فراہمی کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عازمین حج اطمینان کے ساتھ مناسک حج ادا کرسکیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطرکے محکمہ امور حج کی طرف سے رواں سال حج کی درخواستوں پر کارروائی کرنے کے بجائے وقت ضائع کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے بعد سعودی وزارت حج عمرہ نے قطری عازمین حج کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت مہیا کی ہے۔ قطری عازمین حج جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے سعودی عرب میں داخل ہو سکتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت قطری عازمین حج کو دیگر ممالک سے آئے مہمانوں کے برابر ہرممکن سہولیات اور خدمات فراہم کرے گی۔ مدینہ منورہ، مکہ معظمہ اور مشاعر مقدسہ میں ان کی آمد ورفت اور قیام سمیت ہرطرح کی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

  • تفریحی سلسلے کو فروغ اور فعال افراد کی گرفتاریاں

    سعودی عرب(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اصلاحاتی عمل میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی حکومت نے انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔

    رواں برس فروری میں سعودی سلطنت نے تفریحی شعبے کے لیے اربوں ڈالر کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا۔ ریاض حکومت اس شعبے میں چونسٹھ بلین ڈالر سے انقلابی تبدیلیوں کی خواہشمند ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں تفریحی سیکٹر کو وسعت دینے کے عمل میں حکومت مختلف مقامات پر تھیم پارکس کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ان میں خاص طور پر سیاحتی ساحلی شہروں کو فوقیت دی جا سکتی ہے۔

    اسی تفریحی اصلاحاتی سلسلے میں سعودی عرب میں سن 2017 کے دوران پہلا کنسرٹ منعقد کیا گیا۔ اس کے بعد رواں برس فروری میں سعودی سرزمین پر مغربی کلاسیکی موسیقی کے جاز کنسرٹ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اسی طرح ریاض یونیورسٹی میں مغربی اسٹیج پرفارمنس اوپیرا کی پیشکش کو ایک انتہائی بڑے ہجوم نے ذوق و شوق سے دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں فنکاروں کو داد دی۔

    سعودی عرب  کے دارالحکومت ہی میں خواتین کے ملبوسات کا اولین شو منعقد کیا گیا۔ نسائی لباس کا یہ شو خاص طور پر خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اسی طرح ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹیمنٹ (WWE) کے پیشہ ور پہلوانوں کا ایک دنگل جدہ میں منعقد کیا گیا۔

    سعودی عرب میں دنیا کے انتہائی وسیع تفریحی پارک قِدیہ کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شاہ سلمان اور ولی عہد شریک ہیں

    امریکی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ای کے پہلوانوں کے دنگل کے بعد جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے سعودی ولی عہد کے لیے انتباہ جاری کیا کہ وہ ایسے اصلاحاتی پروگرام سے اجتناب کریں جو عریانیت اور گناہ کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔

    اسی طرح تقریباً پینتیس برسوں بعد سعودی عرب میں سینما گھر کھول دیے گئے۔ تین دہائیوں کے بعد کھلنے والے سینما گھر کے اولین شو کے تمام ٹکٹس ایڈوانس میں خرید لیے گئے۔ سعودی خواتین و حضرات نے ہالی ووڈ کی مقبول فلم ’بلیک پینتھر‘ کو دیکھ کر خوب لطف اٹھایا۔

    دوسری جانب رواں مہینے کے دوران حکومت نے سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام کے تحت سترہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ بعض حکومتی ذرائع کے مطابق جن افراد کو حراست میں لیا گیا کہ وہ حد سے زیادہ آزاد خیالی کو فروغ دینے میں کوشش کر رہے تھے۔ سعودی حکومت کے ناقدین کا خیال ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد بنیادی طور پر انسانی حقوق کی سرگرمیوں اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کے فعال کارکن ہیں۔ ان میں گرفتار شدگان میں شامل چار خواتین کو رہا کر دیا گیا تھا۔

     

  • سعودی عرب، منشیات کا دھندہ کرنیوالے اور پولیس کے درمیان جھڑپ 1اہلکار شہید

    ریاض:(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) سعودی امن عامہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی نشیوں کے خلاف کارروائی کے دوران ہونے والی جھڑپ میں ایک اہلکار شہید ہو گیا جبکہ 4 غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے منشیات اور نشہ آور مشروبات کا دھندا کرنے والوں کے ایک اڈے پر چھاپہ مارا جس کے دوران دھندا کرنے والوں نے فرار ہونے کی کوشش کی

    فائرنگ کا تبادلہ کے نتیجہ میں سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار شہید اور ایتھوپیا کا ایک کاروباری ہلاک جبکہ موقع پرموجود ایک سعودی شہری زخمی ہوگیا فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 4 ایتھوپین کو گرفتار کرلئے گئے

  • سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم دو مزید خواتین کو گرفتار کر لیا

    سعودی عرب (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم دو مزید خواتین کو گرفتار کر لیا ہے۔ علاوہ ازیں متعدد خواتین کے ملک سے باہر جانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ قدامت پسند ملک سعودی عرب میں حقوق نسواں کے لیے سرگرم عمل خواتین کارکنان کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

    خواتین پر عشروں سے عائد ڈرائیونگ کی پابندی ختم ہونے سے کچھ ہفتے قبل ہونے والی ان گرفتاریوں سے ایک بار پھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وہ نقطہ نظر تنقید کی زد میں آ گیا ہے جس کے مطابق وہ ملک میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نئی اصلاحات کے ذریعے بظاہر ملک میں موجودہ سخت سماجی قوانین میں نرمی لانا چاہتے ہیں لیکن حالیہ کریک ڈاؤن نے سعودی عرب میں ولی عہد کے ترقی پسندانہ رحجانات کے نفاذ کے عمل کو متاثر کیا ہے۔

    ایکٹیوسٹ حضرات اور سعودی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں گرفتاریوں کی نیا سلسلہ غالباﹰ ملک میں قدامت پسند عناصر کو خوش کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ شاید یہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے مطالبات پیش کرنے میں حکومت کی متعین کردہ حدود سے باہر نہ نکلیں۔

    ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے مصنفہ اور ایکٹویسٹ خاتون نوف عبدالعزیز کو چھ جون کو گرفتار کیا تھا جب انہوں نے مئی میں گرفتار ہونے والی سات ایکٹیوسٹ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔

    خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جن سات سرکردہ خواتین کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا، وہ سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے کے حق میں بھی اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

    اس ماہ کے اوائل میں جس دوسری خاتون ایکٹیوسٹ کو گرفتار کیا گیا اُن کا نام مایا الزہرانی ہے۔ الزہرانی کو مبینہ طور پر نوف عبدل العزیز کا ایک خط انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ ایسا انہیں نوف عبدالعزیز نے اپنی گرفتاری کی صورت میں کرنے کو کہا تھا۔

    مشرق وسطیٰ میں ہیومن رائٹس واچ کی سربراہ سارہ لی وٹسن کا کہنا ہے،’’عبدالعزیز اور الزہرانی کا واحد ’جرم‘ گرفتار ایکٹیوسٹ خواتین سے اظہار یکجہتی نظر آتا ہے۔‘‘

    سعودی عرب میں چوبیس جون سے خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں اور کارکنوں کے مطابق حکومت اس حوالے سے اجتماعی سرگرمیوں کو روکنا چاہتی ہے کیوں کہ اس ملک میں مذہبی قدامت پسند جدیدیت کی شدید مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

     

  • مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اردن کے حوالے سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی کوششوں کو سراہا۔

    ریاض( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیرنے کہاہے کہ اردن کی سپورٹ کے لیے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کا منصوبہ باور کراتا ہے کہ مملکت اپنے برادر ممالک کے استحکام کی خواہاں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کیمطابق ٹوئیٹر پر اپنے

    بیان میں الجبیر نے کہا کہ خادم حرمین شریفین کا اردن کو بحران سے نکالنے کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں اجلاس منعقد کرنے کے واسطے امارات اور کویت کی قیادت کے ساتھ رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب عرب ممالک اور ان کے عوام کو استحکام اور ترقی کی نعمت سے بہرہ مند دیکھنا چاہتا ہے۔ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اردن کے حوالے سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں شاہ سلمان کی بھرپور کوششوں کو گراں قدر سمجھتا ہوں جن کا مقصد عرب یک جہتی کو مضبوط بنانا اور تمام جہتوں میں عرب مواقف کو سپورٹ کرنا ہے۔ السیسی نے برادر ملک اردن کی سپورٹ کیلئے شاہ سلمان کے جذبے کے حوالے سے اپنی نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔