وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

سری لنکا ميں مسلم مخالف فسادات کی تحقيقات جاری سياستدان اور پوليس بھی ملوث
تاریخ :   25-03-2018

سری لنکا( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) ميں مسلم مخالف فسادات کی تحقيقات جاری ہيں۔ ايک طرف حکومت سابق صدر کے حاميوں کو قصور وار قرار ديتی ہے تو دوسری جانب سابق صدر کا کہنا ہے کہ يہ پيش رفت سياسی نوعيت کی ہے، جس ميں انہيں نشانہ بنايا جا رہا ہے۔

تحقيقاتی رپورٹ ميں عينی شاہدين، سرکاری اہلکاروں اور سی سی ٹی وی فوٹيج کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے کہ سری لنکا ميں مسلمانوں پر اسی ماہ ہونے والے پرتشدد حملوں ميں سابق صدر مہندرا راجا پاکسے حامی سياستدان اور پوليس اہلکار بھی شامل تھے۔

سری لنکا کے وسطی شہر کينڈی ميں مسلمانوں کے سينکڑوں مکانات، مساجد اور دکانوں پر اسی مہينے منظم حملے کيے گئے تھے۔ حکومت نے بد امنی پر قابو پانے کے ليے ملک میں ايک ہفتے کے ليے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے علاوہ سوشل ميڈيا کی ويب سائٹس پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ حملے تين دن تک جاری رہے۔ سری لنکا ميں مسلم مخالف فسادات، خطے ميں بڑھتے ہوئے بدھ قوم پرست اور مسلم مخالف رجحانات کی ايک اور مثال ہيں۔ سری لنکا کی کل اکيس ملين کی آبادی ميں ستر فيصد بدھ مذہب کے ماننے والے ہيں جبکہ مسلمانوں کی شرح نو فيصد ہے۔

اس فسادات کے متاثرين اور عينی شاہدين نے دعوی کيا ہے کہ خصوصی پيرا ملٹری پوليس يونٹ (STF) کے اہلکاروں نے مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں اور اماموں کو تشدد کا نشانہ بنايا۔ روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق سی سی ٹی وی سے حاصل کردہ فوٹيج کے مطابق ان کے دعوے درست نظر آتے ہيں۔ اس معاملے پر جب متعلقہ يونٹ سے ان کا موقف جانا گيا، تو انہوں نے کوئی بيان دينے سے انکار کر ديا۔

کينڈی کی ايک مسجد کے امام اے ايچ رميس نے بتايا، وہ حملے کرنے ہی آئے تھے۔ وہ چلا رہے تھے اور نازيبا زبان استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل ہماری وجہ سے ہی ہيں اور يہ کہ ہم سب دہشت گردوں کی طرح ہيں۔‘‘ اس مسجد کو بھی فسادات ميں نشانہ بنايا گيا تھا۔

سری لنکا ميں پوليس فورسز کے قومی سطح پر ترجمان روون گنا سيکرا نے اتوار کو اپنے ايک بيان ميں کہا کہ ايک خصوصی يونٹ معاملے کی تحقيقات کر رہا ہے جبکہ ايک اور يونٹ فسادات ميں سياستدانوں کے مبينہ کردار کی بھی جانچ پڑتال ميں مصروف ہے۔

کولمبو حکومت کے وزير برائے قانون رنجيت مدوما بندارا نے ايک پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ کينڈی ميں رونما ہونے والے فسادات انتہائی منظم تھے اور ان کی کڑياں سابق صدر راجا پاکسے کی حمايت يافتہ سری لنکا پودوجانا پيرامونا (SLPP) نامی پارٹی سے ملتی ہيں۔ اس جماعت نے حال ہی ميں منعقدہ علاقائی انتخابات ميں کاميابی حاصل کی تھی۔

دوسری جانب اسی ماہ ايک پريس کانفرنس ميں راجا پاکسے نے ايسے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ خلاف يہ الزامات سياسی نوعيت کے ہيں۔ انہوں نے کہا کولمبو حکومت نے اپنی خامياں چھپانے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے فسادات کو طول دی۔

Print Friendly, PDF & Email
گجرات میں پولیس کی غنڈہ گردی عروج پر
برطانوی صحافی کومتحدہ عرب امارات میں سزا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »