آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پر فرد جُرم عائد کر دی گئی     No IMG     محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG    

سری لنکا ميں مسلم مخالف فسادات کی تحقيقات جاری سياستدان اور پوليس بھی ملوث
تاریخ :   25-03-2018

سری لنکا( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) ميں مسلم مخالف فسادات کی تحقيقات جاری ہيں۔ ايک طرف حکومت سابق صدر کے حاميوں کو قصور وار قرار ديتی ہے تو دوسری جانب سابق صدر کا کہنا ہے کہ يہ پيش رفت سياسی نوعيت کی ہے، جس ميں انہيں نشانہ بنايا جا رہا ہے۔

تحقيقاتی رپورٹ ميں عينی شاہدين، سرکاری اہلکاروں اور سی سی ٹی وی فوٹيج کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے کہ سری لنکا ميں مسلمانوں پر اسی ماہ ہونے والے پرتشدد حملوں ميں سابق صدر مہندرا راجا پاکسے حامی سياستدان اور پوليس اہلکار بھی شامل تھے۔

سری لنکا کے وسطی شہر کينڈی ميں مسلمانوں کے سينکڑوں مکانات، مساجد اور دکانوں پر اسی مہينے منظم حملے کيے گئے تھے۔ حکومت نے بد امنی پر قابو پانے کے ليے ملک میں ايک ہفتے کے ليے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے علاوہ سوشل ميڈيا کی ويب سائٹس پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ حملے تين دن تک جاری رہے۔ سری لنکا ميں مسلم مخالف فسادات، خطے ميں بڑھتے ہوئے بدھ قوم پرست اور مسلم مخالف رجحانات کی ايک اور مثال ہيں۔ سری لنکا کی کل اکيس ملين کی آبادی ميں ستر فيصد بدھ مذہب کے ماننے والے ہيں جبکہ مسلمانوں کی شرح نو فيصد ہے۔

اس فسادات کے متاثرين اور عينی شاہدين نے دعوی کيا ہے کہ خصوصی پيرا ملٹری پوليس يونٹ (STF) کے اہلکاروں نے مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں اور اماموں کو تشدد کا نشانہ بنايا۔ روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق سی سی ٹی وی سے حاصل کردہ فوٹيج کے مطابق ان کے دعوے درست نظر آتے ہيں۔ اس معاملے پر جب متعلقہ يونٹ سے ان کا موقف جانا گيا، تو انہوں نے کوئی بيان دينے سے انکار کر ديا۔

کينڈی کی ايک مسجد کے امام اے ايچ رميس نے بتايا، وہ حملے کرنے ہی آئے تھے۔ وہ چلا رہے تھے اور نازيبا زبان استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل ہماری وجہ سے ہی ہيں اور يہ کہ ہم سب دہشت گردوں کی طرح ہيں۔‘‘ اس مسجد کو بھی فسادات ميں نشانہ بنايا گيا تھا۔

سری لنکا ميں پوليس فورسز کے قومی سطح پر ترجمان روون گنا سيکرا نے اتوار کو اپنے ايک بيان ميں کہا کہ ايک خصوصی يونٹ معاملے کی تحقيقات کر رہا ہے جبکہ ايک اور يونٹ فسادات ميں سياستدانوں کے مبينہ کردار کی بھی جانچ پڑتال ميں مصروف ہے۔

کولمبو حکومت کے وزير برائے قانون رنجيت مدوما بندارا نے ايک پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ کينڈی ميں رونما ہونے والے فسادات انتہائی منظم تھے اور ان کی کڑياں سابق صدر راجا پاکسے کی حمايت يافتہ سری لنکا پودوجانا پيرامونا (SLPP) نامی پارٹی سے ملتی ہيں۔ اس جماعت نے حال ہی ميں منعقدہ علاقائی انتخابات ميں کاميابی حاصل کی تھی۔

دوسری جانب اسی ماہ ايک پريس کانفرنس ميں راجا پاکسے نے ايسے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ خلاف يہ الزامات سياسی نوعيت کے ہيں۔ انہوں نے کہا کولمبو حکومت نے اپنی خامياں چھپانے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے فسادات کو طول دی۔

Print Friendly, PDF & Email
گجرات میں پولیس کی غنڈہ گردی عروج پر
برطانوی صحافی کومتحدہ عرب امارات میں سزا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »