سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجاپاکسے مستعفی ہوگئے     No IMG     سپریم کورٹ نے افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا     No IMG     بھارتی ارب پتی مکیشن امبانی کی شادی پر خزانوں کے منہ کھُل گئے     No IMG     ایرانی وزیر خارجہ کی قطر کے وزير اعظم سے ملاقات     No IMG     وزیر اعظم کا دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کرنے کا عزم     No IMG     فرانسیسی پولیس کا معذور افراد پر بھی ظلم و ستم     No IMG     چین کینیڈین شہریوں کو رہا کرے، امریکی وزیر خارجہ     No IMG     بھارتی ریاست کرناٹک میں زہریلی خوراک کھانے سے تقریباً ایک درجن یاتریوں کی ہلاکت     No IMG     یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں، آسٹریلیا     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے کے پاس اب فقط چار آپشنز موجود ہیں۔     No IMG     سپریم کورٹ کا دہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم     No IMG     باردوی سرنگ کے دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکار ہلاک     No IMG     آئی ایم ایف سے پیکج صرف پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھ کر لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسد عمر     No IMG     ہنگری میں غلام ایکٹ کے خلاف مظاہرے     No IMG     امریکی ایوان نمائندگان نے روہنگیا مسلمانوں پر بربریت کونسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور     No IMG    

ستائیس برس کی کشیدگی کے بعد ریاض اور بغداد کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ امریکا
تاریخ :   22-10-2017

تقریبا ستائیس برس کی کشیدگی کے بعد ریاض اور بغداد کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ امریکا کو امید ہے کہ اس طرح علاقائی سطح پر ایران کے اثرو رسوخ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی موجودگی میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اور سعودی شاہ سلمان نے جوائنٹ کوآرڈینیشن کونسل کی بنیاد رکھی ہے۔ دو طرفہ تعاون کی اس کونسل کے ذریعے دونوں ملک مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے اس پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشترکہ تعاون کونسل نہ صرف داعش کے خلاف جنگ بلکہ آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم اس پیش رفت کے حوالے سے شکر گزار ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح یہ خطہ مزید مستحکم ہوگا۔

عراق کے اپنے ہمسایہ شیعہ ملک ایران سے قریبی تعلقات ہیں اور اس وقت عراق میں لڑنے والے متعدد شیعہ ملیشیا گروپوں پر ایران کا اثرو رسوخ ہے۔ اب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا گروہ عراق سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ اب ختم ہونے کو ہے، اس لیے ایسے جنگجو گروہوں کو اب عراق سے نکل جانا چاہیے۔ ریاض میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ تمام غیر ملکی جنگجوؤں کو اب عراق چھوڑ دینا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت پالسیاں اپنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ریکس ٹلرسن نے سعودی شاہ سلمان سے خصوصی ملاقات کرتے ہوئے خطے میں ایران کا اثرو رسوخ کم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

سعودی عرب عراق مشترکہ تعاون کونسل کے قیام کے حوالے سے آج ریاض میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ اس سے عراق کے اندر ایران کے منفی اثر و رسوخ کا کسی حد تک مقابلہ کیا جا سکے گا۔‘‘

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق عراق کی سرحدوں کو خطے میں مستقبل کی نسلی اور مذہبی تشکیل کے حوالے سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ سن انیس سو نوے میں سابق عراقی صدر کے کویت پر حملے کے بعد بغداد اور ریاض میں تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اب ان میں بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ ان کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب نے عراق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا اور رواں برس کے آغاز پر اس ملک سے متصل اپنی سرحد بھی کھول دی تھی۔ دوسری جانب عراق میں دن بدن بڑھتا ہوا ایرانی اثر و رسوخ نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکا کو بھی ناپسند ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مک ماسٹر کا کہنا تھا، ’’صدر ٹرمپ ایک مستحکم عراق دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ کہ اسے ایران سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی عرب اہم اور وسیع کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا یہ بھی خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے عراق مزید خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے جیسا کہ عراق میں فوجی مداخلت کے بعد ہوا تھا اور داعش جیسی تنظیم وجود میں آ گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
کسی عہدہ دار نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا،’سعودی وزارتِ خارجہ
اب شمالی کوریا سے ثابت قدمی سے نمٹا جائے گا، آبے،جاپانی وزیراعظم آبے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »