پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن میں انتقال کر گئیں
تاریخ :   11-09-2018

لندن( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں انتقال کر گئی ہیں۔ اس بارے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے تایا کہ کلثوم نواز کی میت کو پاکستان لایا جائے گا۔ بیگم

کلثوم نواز کینسر کے مرض کیلئے لندن میں زیرعلاج تھیں۔ ان کی تدفین جاتی امراء رائیونڈ میں کی جائے گی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کی وفات شریف خاندان کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ نواز شریف نے ہر مشکل وقت میں اہلیہ سے مشاورت کی۔ مرحومہ نے گھر بھی سنبھالا، آزمائش پڑی تو چاردیواری سے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز مشکل حالات میں باہر نکلیں اور ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کلثوم نواز کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہلخانہ کو قانون کے مطابق تمام سہولیات دے گی۔ عمران خان نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو سہولیات کی فراہمی میں معاونت کی ہدایت کر دی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بھی ڈی جی آئی ایس پی آر مجیرجنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی سائیٹ ٹوئٹر پر تعزیتی بیان جاری کیا جس میں آرمی چیف نے مرحومہ کے بلند درجات کی دعا کی اور لواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے جمہوریت کے لئے جدوجہد کی۔ بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ء کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972ء میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ 2 اپریل 1971ء کو بیگم کلثوم اورنواز شریف نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔ نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز اور دو بیٹیاں مریم نواز اور اسماء نواز ہیں۔نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ء کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ء تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ء کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ء میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی اور لیگی کارکنوں کو متحرک کیا ۔ وہ 2002ء میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔اس دوران لاہور میں ایک اجتجاج کے دوران گاڑی میں بیٹھی کلثوم نواز کی گاڑی کو پولیس نے لفٹر سے اٹھوا لیا لیکن کلثوم نواز نے اس دور میں بھرپور انداز میں پارٹی کی قیادت سنبھالی۔جون 2013ء میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ء تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جہاں لندن کے بہترین ڈاکٹرز کی ایک ٹیم ان کا علاج کر رہی تھی۔ دوران علالت ہی الیکشن میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جس پر مسلم لیگ ن کے حلقوں کی جانب سے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا گیا۔ مگر وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے سے قاصر رہیں۔بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے دوران بے ہوشی کی حالت میں رہیں۔ اس دوران ان کی بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بھی ہسپتال میں مسلسل موجود رہے اور ان کی تیمارداری میں مصروف تھے۔ اس دوران انہیں ایک دو بار ہوش بھی آیا اور انہوں نے ہسپتال میں موجود اپنے اہلخانہ سے بات چیت بھی کی جس کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ ان کی حالت بہتر ہوجائے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا اور وہ اسی علالت کے دوران خالق حقیقی سے جا ملیں۔نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے بعد کلثوم نواز کے ساتھ ان کا رابطہ اس طرح نہ رہ سکا کیونکہ شدید علالت کے باعث وہ وینٹی لیٹر پر تھیں اور ٹیلی فون پر بات کرنے کے قابل بھی نہ تھیں۔ اسی حالت میں وہ انتقال کر گئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار افسوس
کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 3 نوجوان شہید
Translate News »