شمالی کوریا کا ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا عزم     No IMG     عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق     No IMG     جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔     No IMG     ایران کو شام میں فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے,اسرائیل کے وزير اعظم     No IMG     مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی سے اپیل     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توہین آمیز پریس ریلیز جاری کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔     No IMG     قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات     No IMG     پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا     No IMG     پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 5 کروڑ46 لاکھ ہو گئی،     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں     No IMG     حافظ آباد میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی     No IMG     پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدے داروں کی پریم کہانی شروع ہو گئی     No IMG     امريکا نے 5 ايرانی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی     No IMG     موجودہ حکومت نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور توانائی بحران کو حل کیا ، ملکی معیشت کو مستحکم کردیا, لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم     No IMG     پی ٹی آئی گزشتہ 5 سالوں میں خیبرپختونخوا میں ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، مائزہ حمید     No IMG    

ٹیکنالوجی

  • چوری اور گم شدہ موبائل فونز اب کسی کے کام نہیں آئیں گے

    اسلام آباد ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) چوری اور گم شدہ موبائل فونز کے استعمال کی روک تھام کیلئے پی ٹی اے نے نئے نظام کو فعال کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فونز اب کسی کے کام کے نہیں آ سکیں گے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نئے نظام کو فعال کردیا ہے۔ نئے نظام کے تحت چوری شدہ یا گم شدہ موبائل فونز کو شکایت موصول ہوتے ہی فوری مفلوج کر دیا جائے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے موبائل فون کی چوری کے سدباب کے لیے ڈی آئی آر بی ایس سسٹم (ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم) کا آغاز کردیا ہے

    ۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران چئیرمین پی ٹی اے محمد نوید نے ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ایسی ڈیوائس حاصل کرلی گئی ہے جس کی مدد سے موبائل فون ڈیوائسز کی رجسٹریشن کی جا سکے گی۔ ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے آنے سے چوری شدہ ڈیوائسز کام نہیں کرسکیں گی۔ اس سسٹم کی بدولت موبائل چوری کا خاتمہ ہوگا اور سروسز کا معیار بھی بہتر ہوگا۔ ڈی آئی آر بی سسٹم سے اسمگلنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہو پائے گا اور حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔ ڈی آئی آر بی ایس سسٹم سے نہ صرف ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری آئے گی بلکہ ٹیکس محصولات جمع کرنے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے تعاون سے غیر قانونی ڈیوائسز پکڑنے میں مدد ملےگی۔ چئیرمین پی ٹی اے نے اعلان کیا کہ ڈی آئی آر بی ایس کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے جو موبائل سسٹم سے منسلک ہوگا۔ اس ڈیوائس کو جی ایس ایم ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ پہلے فیز میں چوری اور گم شدہ ڈیوائسز کو بلاک کیا جائے گا، جبکہ دوسرے فیز میں ایسی ڈیوائسز کی جانچ پڑتال کی جائے گی جو لوگوں کے استعمال میں ہیں۔ اس سسٹم سے صارفین ڈیوائس کا اسٹیٹس معلوم کرسکیں گے۔

  • میرا فون ریکارڈ نکال لیں، مجھے بھی کہا گیا کہ میں تحریک انصاف میں جاؤں, ن لیگی رہنما جعفر اقبال

    اسلام آباد( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ):نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنما جعفر اقبال نے خفیہ ایجنسیوں پر الزام عائد کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پروگرام میں بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما جعفر اقبال نے کہا کہ میں یہ بات آن ریکارڈ کہہ رہا ہوں کہ آپ میرا 2012ء

    کا ریکارڈ نکال لیں۔ میری جنوری سے لے کر مارچ تک کی کالز کا ریکارڈ نکال لیں۔مجھے کہا گیا کہ آپ پاکستان تحریک انصاف میں جائیں۔ جعفر اقبال نے کہا کہ ووٹ عوام نے دینا ہے، اب حالات بدل گئے ہیں۔جعفر اقبال کے اس دعوے پر پروگرام میں موجود دیگر افراد نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ عام انتخابات قریب آتے ہی سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے۔ حکمران جماعت کے کئی رہنما اور ایم پی ایز نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر یا تو پاکستان تحریک انصاف یا پھرپاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔سیاسی رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے پر مسلم لیگ ن کو ایک شدید جھٹکا تو لگا ہے لیکن مسلم لیگ ن اپنا بیانیہ قائم رکھے ہوئے ہے۔ مسلم لیگ ن چھوڑنے والے کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی پالیسی سے اختلاف پر ہی پارٹی کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ ملکی اداروں کے خلاف نواز شریف کے اس بیانیے کی مزید حمایت نہیں کر سکتے۔ سیاسی رہنماؤں کی پی ٹی آئی میں شمولیت پر اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی بازی لے جائے اور اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہو ، اور اسی وجہ سے ہی سیاسی رہنما اپنا رُخ پی ٹی آئی کی جانب موڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پی ٹی آئی عام انتخابات میں کامیاب ہو گی۔دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی کے لاہور میں کامیاب جلسے نے بھی مسلم لیگ ن کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، اور اب مسلم لیگ مزید پارٹی ارکان کے چھوڑ جانے اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجانے کے خوف میں مبتلا ہے۔آئندہ انتخابات میں کون سی جماعت کامیاب ہو گی اور کون حکومت میں آئے گا، اس کا فیصلہ تو انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ہوگا

  • پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کے بعد 5 جی انٹرنیٹ متعارف کرانے کا اعلان

    اسلام آباد (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کے بعد 5 جی انٹرنیٹ متعارف کرانے کا اعلان، ملک میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے حکومت تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔

    زیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن انوشہ رحمٰن نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاکستان موبائل کانگریس2018 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 2020 تک پاکستان میں 5جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے تاکہ اسے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ضمن میں ترقی یافتہ معیشتوں کے برابر لایا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت فائیو جی ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے تمام شراکت داروں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ممکنہ طریقوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرے گی۔

  • گاجرکا رس معدے کے سرطان اور لیوکیمیا سے بچاسکتاہے, برطانوی ماہرین صحت

    سرگودھا (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو)برطانوی ماہرین صحت نے کہاہے کہ گاجر کے رس کے استعمال سے معدے‘ چھاتی کے سرطان‘ پھیپھڑوں کے امراض اور خونکی کمی کے مرض لیوکیمیا بچا سکتا ہے۔ یونیورسی آف لیڈزکے شعبہ صحت کے ماہرین کی جدیدتحقیق سے معلوم ہواہے کہ گاجرکا جوس معدے کے کینسر کودوررکھنے میں مددگارہوتاہے ،اگرمسلسل گاجر کھائی جائے تو معدے کے سرطان کے امکانات 26فیصد تک کم ہوجاتے ہیں‘گاجر میں موجودکیروٹینوئیڈز چھاتی کے کینسرکو دوبارہ حملہ کرنے سے روکتی ہیں ‘خون میں کیروٹینوئیڈزکی مقدارجتنی زیادہ ہوگی بریسٹ کینسرکے لوٹنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوجاتاہے‘گاجر کا جوس وٹامن سی سے بھرپورہوتاہے اور یہ سانس کے ایک مرض کرونک اوبسٹر کٹیوپلمونری ڈیزیز کی شدت کم کرتاہے۔

  • روزانہ کتنے گلاس پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک رہتا ہے

    آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ کتنے گلاس پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک رہتا ہے ؟ یقیناً بیشتر افراد کے ذہنوں میں 8 کا ہندسہ گونجا ہوگا جو کہ ہمارے ذہنوں میں برسوں سے روزانہ پانی کے استعمال کی مثالی مقدار کی شکل میں چپک چکا ہے۔

    مگر حقیقت تو یہ ہے کہ روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے اس کا انحصار فرد پر ہوتا ہے۔

    یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

    کنیکٹیکٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسم میں پانی کی ضرورت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے، جس کے لیے ماحولیاتی صورتحال، گرمی، ورزش یا کام کی شدت، عمر اور غذا جیسے عناصر کو سامنے رکھا جاتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بنیادی طور پر پانی کی مقدار کے استعمال کا انحصار آپ کی پیاس پر ہے۔

    اس کے علاوہ جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں پیشاب کی رنگت سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگر وہ گہری زرد رنگت کا ہو تو آپ کو ایک گلاس پانی پی لینا چاہئے۔

    تحقیق کے مطابق پانی کی کمی خطرناک ہوتی ہے مگر حد سے زیادہ پانی بھی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

    ایتھلیٹس پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پانی کی زیادتی سے جسم میں ہارمونز کا توازن بگڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں قے، سر درد، سر چکرانا اور انتہائی سنگین نوعیت ہونے پر کوما اور موت تک کا بھی خطرہ ہوتا ہے

  • امریکا میں بیس سال قبل مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے ’ویاگرا‘ اب تک ’ویاگرا‘ کے فروخت سے اربوں ڈالر کا منافع

    امریکا( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) میں بیس سال قبل مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے ’ویاگرا‘ نامی ٹیبلٹ کو متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ دوا بنانے والی کمپنی ’فائزر‘ کو اب تک ’ویاگرا‘ کے فروخت سے اربوں ڈالر کا منافع ہوچکا ہے۔

    سن 1990کے آغاز میں امریکی کمپنی فائزر کی جانب سے ’ویاگرا‘ ٹیبلٹ کو متعارف کروانے سے قبل ایک مشاہدہ کیا گیا تھا۔ اس مشاہدے میں مردوں کی اکثریت نے رضاکارانہ طور پر ’ویاگرا‘ ٹیبلٹ کا استعمال کیا تھا۔ مشاہدے کے نتائج کے ذریعے ثابت ہوا کہ

    ’ویاگرا‘ مردانہ  قوت میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم آٹھ سال بعد  1998ء کے تیسرے مہینے مارچ کی ستائیس تاریخ کوامریکی خوراک و ادویات کے ادارے ’ایف ڈی اے‘ کی جانب سے ’نیلی گولیوں‘ کو میڈیکل اسٹور پر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔

    ’ویاگرا‘ شعبہ طب میں ایک انقلابی دریافت کے طور پر سامنے آئی اور چند ہی ہفتوں میں ایک لاکھ پچاس ہزار گولیاں امریکا میں فروخت کی گئی۔ تاہم سعودی عرب، اسرائیل اور پولینڈ کی طرح بعض ممالک میں ’ویاگرا‘ کو پانچ گنا اضافی قیمت پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا رہا ہے۔

    یورپی مارکیٹ میں ’ویاگرا‘ کا آغاز  بھی 1998ء میں ستمبر کے مہینے میں کیا گیا۔ اگلے دو برسوں میں مردانہ کمزوری کی اس دوا کے ذریعے ’فائزر‘ کمپنی کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا اور کمپنی کو سالانہ اربوں ڈالر کا منافع ہوا۔  ’ویاگرا‘ کی اشتہاری مہم میں فٹ بال کے معروف کھلاڑی پیلے اور امریکی صدارتی امیدوار باب ڈولے بھی نظر آنے لگے۔

    چونکہ پوری دنیا میں اس دوا کی کھپت میں اضافہ ہورہا تھا تو  بھارت اور تھائی لینڈ میں مردانہ کمزوری کی ’نیلی گولیوں‘ کی نقل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہونا شروع ہوگئی۔ امریکی ادویات بنانے والی کمپنی فائزر کی جانب سے 2011ء  میں ایک رائے شماری کروائی گئی۔  اس رائے شماری کے مطابق  انٹرنیٹ پر فروخت کی جانے والی اسی فیصد ’ویاگرا ٹیبلیٹس‘ جعلی ہوتی ہیں۔

    اسی کے ساتھ  ’ویاگرا‘ کو پارٹی کا شوق رکھنے والے نوعمر لڑکوں میں بھی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ 2012ء  میں منعقد کیے جانے والے ایک مشاہدے کے مطابق امریکا میں آٹھ فیصد نوجوان مردانہ قوت میں اضافے کے لیے ’ویاگرا‘ جیسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے یورپ میں سن 2013 میں جبکہ امریکا میں گزشتہ برس ہی ’ویاگرا‘ کی طرح مردانہ کمزوری کو دور کرنے والی دیگر ادویات فروخت ہونا شروع ہوئی ہیں۔

  • پرانے آئی فون کی رفتار دانستہ سست کرنے پر ایپل کے خلاف امریکہ کی مختلف وفاقی عدالتوں میں چھ مقدمے دائر کر دئے گئے

    واشنگٹن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل پر امریکہ کی مختلف وفاقی عدالتوں میں چھ مقدمے دائر کر دئے گئے ہیں۔ ان مقدموں میں کہا گیا ہے کہ ایپل نے دانستہ طور پر پرانے آئی فون کی بیٹری کی کارکردگی خراب کرتے ہوئے اُن کی استعداد کار گھٹا دی ہے اور اس کے لئے صارفین کو پہلے سے خبردار نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اُنہیں کوئی متبادل پیشکش کی گئی تھی۔

    یہ تمام مقدمات کیلی فورنیا، نیو یارک اور ایلی نوئے کی ضلعی عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں جن میں امریکہ بھر میں پرانے آئی فون کے کروڑوں صارفین کو کلاس ایکشن کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے۔ ایسا ہی ایک مقدمہ اسرائیل کی ایک عدالت میں بھی دائر کیا گیا ہے۔

    ان مقدمات میں لگائے گئے الزامات کے بارے میں فی الحال ایپل کمپنی کی طرف سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے کمپنی نے پہلی بار اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ سال سے آئی فون 6 ، 6s ، SE اور 7 کیلئے جاری کئے گئے اپ ڈیٹ میں ایک خاص فیچر شامل کیا گیا تھا جس کے ذریعے ان فونز کی بیٹری کمزور ہونے کے وقت پاور سپلائی کم ہو جاتی ہے اور اگر فوری طور پر اُنہیں چارج نہ کیا گیا تو وہ اچانک بند ہو جاتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا تاکہ فون کو ضرورت سے زیادہ گرم ہونے سے روکا جا سکے۔

    جمعرات کے روز سان فراسسکو کی عدالت میں دائر کئے گئے ایک مقدمے میں شکایت کی گئی کہ آئی فون کے پراسسر کی رفتار کے باعث فون پر پڑنے والے دباؤ کو سہنا کسی نئے سوفٹ ویئر پیچ کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ آئی فون کی ساخت میں موجود خرابی کی وجہ سے ہوا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ اس خرابی کو دور کرنے کی خاطر صارفین کو نئی بیٹری فراہم کی جاتی، ایپل کمپنی نے اس خرابی کو صارفین سے پوشیدہ رکھا اور اُنہیں نئے آئی فون خریدنے پر مائل کرنے کی کوشش کی۔

    اس مقدمے میں شکایت کنندہ کی وکالت وہی وکیل کر رہے ہیں جنہوں نے 2013 میں ایپل کے خلاف آئی فون وارنٹی کے کلیم کے حوالے سے 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا سمجھوتہ طے کرایا تھا۔

    حالیہ مقدموں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرانے آئی فون کے پراسسر خراب ہونے کی صورت میں ایپل کمپنی اُنہیں نئے آئی فون خریدنے کی طرف مائل کرتی ہے جبکہ اس مسئلے کا حل محض بیٹری تبدیل کرنا تھا جس پر نسبتاً بہت کم لاگت آتی ہے۔

    باسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر کرس ہوف نیگل کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پرانے آئی فون کے مسئلے کا حل محض بیٹری تبدیل کرنا تھا لیکن ایپل نے صارفین کو نئے فون خریدنے پر مجبور کیا تو یہ مقدمہ فراڈ کے زُمرے میں آ سکتا ہے۔

  • برطانیہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے، جس نے بغیر ڈرائیور چلنے والی روبوٹ گاڑیوں کی اجازت دے دی

    برطانیہ (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی روبوٹ گاڑیوں کا آغاز2019ء سے ایسی روبوٹ گاڑیوں کا آغاز ہو گا اور 2021ء تک انہیں بغیر کسی پابندی کے ملک بھر میں چلنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
    خود کار طریقے سے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے اتنا بڑا اقدام ابھی تک کسی ملک نے نہیں کیا۔ سن 2019 سے برطانیہ کی سڑکوں پر ایسی کاریں دیکھنے کو ملیں گی، جو بغیر کسی ڈرائیور کے چلتی ہوں گی۔
    برطانوی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق یہ گاڑیاں تجرباتی طور پر چلائی جائیں گی اور سن 2021 سے ایسی موٹر گاڑیاں بغیر کسی پابندی کے برطانیہ بھر کی سڑکوں پر چلیں گی۔ دنیا میں ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ کیٹیگری فائیو ( جس میں کوئی بھی ڈرائیور موجود نہ ہو) کے تحت خود کار گاڑیوں کو ملک بھر کی سڑکوں پر چلنے کی اجازت ہو گی۔
    برطانوی وزیر خزانہ اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ آئندہ بدھ کے روز پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت اپنے ملک میں الیکٹرک کاروں کے رجحان میں اضافہ بھی چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 400 ملین پاؤنڈ کا فنڈ مختص کیا جائے گا تاکہ ایسی کاروں کو چارج کرنے کے لیے پٹرول اسٹیشن کی طرح کے الیکٹرک اسٹیشن قائم کیے جا سکیں۔ برطانوی حکومت الیکٹرک یا ای کاریں خریدنے والوں کو سبسڈی فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
    برطانوی وزارت خزانہ ایسی کاروباری کمپنیوں کے لیے 75 ملین پاؤنڈ مختص کرنا چاہتی ہے، جو مصنوعی ذہانت پر تحقیق کر رہی ہیں۔ 160 ملین پاؤنڈ انتہائی تیز رفتار موبائل فون نیٹ فائیو جی کے لیے مختص کیے جائیں گے کیوں کہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے ہی روبوٹ گاڑیوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جا سکے گا۔
    نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ جرمنی میں بھی ایسی روبوٹ گاڑیاں مستقبل کا ایک انتہائی اہم موضوع ہیں لیکن اس ملک میں قانونی طور پر بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ جرمنی میں اس حوالے سے تیس مارچ کو قانون میں ایک تبدیلی بھی لائی گئی تھی، جس کے مطابق ایک ڈرائیور کار کو کمپیوٹر کے حوالے کر سکتا ہے لیکن ڈرائیور کا کار میں ہونا ضروری ہے تاکہ کسی مشکل کی صورت میں وہ کار کا نظام سنبھال سکے۔ اسی طرح امریکا، جہاں خودکار گاڑیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ تحقیق کی جا رہی ہے، نےں بھی ایسی موٹر کاروں نگرانی کے لیے کسی شخص کا ہونا ضروری قرار دیا ہے۔

  • ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر (10 لاکھ 6 ہزار ارب پاکستانی روپی)کے قریب جا پہنچی

    لندن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر (10 لاکھ 6 ہزار ارب پاکستانی روپی)کے قریب جا پہنچی ۔معروف سیلولر اورکمپیوٹر ساز کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر کے قریب ہوگئی ہے، رواں سال کے چوتھی ساماہی میں توقع کی جارہی تھی کہ ایپل کا نیا موبائل فون آئی فون ایکس مارکیٹ میں آنے کے بعد کمپنی کے اثاثوں میں کمی آسکتی ہے تاہم توقعات کے برعکس کمپنی کے اثاثوں میں حیرت انگیز طور پر اضافہ دیکھا گیا۔ایپل کمپنی کے ایک حصص کی مالیت 3.7 فیصد اضافے کے بعد بڑھ کر 174.26 ڈالر ہوگئی ہے۔ مارکیٹ کی سرمایہ کاری میں یہ اضافہ تقریبا 32 ارب ڈالر ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں آئی فون ایکس کی فروخت میں تیزی دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ 2017 میں آئی فون ایکس کے مجموعی طور پر 3 کروڑ سیٹس بنائے جائیں گے۔تجزیاتی فرم مورگن اسٹینلے کی مینیجنگ ڈائریکٹرکیٹی ہوربٹ کا کہنا ہے کہ ایپل کمپنی کی مختلف مصنوعات کو بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے جن میں آئی فون کے مختلف ماڈلز، آئی پیڈ، دی میک اور ایپل واچ بھی شامل ہیں۔

  • یورپی ہائی ویز: الیکٹرک کاروں کے چارجنگ اسٹیشن، آغاز اسی سال شروع کر دیا جائے گا

    موٹر گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت کی طرف سے مشترکہ طور پر کئی یورپی ممالک کی شاہراہوں پر الیکٹرک کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں کے ایک یورپی نیٹ ورک کی تعمیر پر ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

    جنوبی جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے دو بڑے شہروں میونخ اور اشٹٹ گارٹ سے جمعہ تین نومبر کو مو‌صولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق کئی مختلف یورپی ملکوں میں موٹر گاڑیاں تیار کرنے والے صنعتی اداروں نے مشترکہ طور پر یہ منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اس براعظم میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک ایسا نیٹ ورک تیار کریں گے، جو بجلی سے چلنے والی کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں پر مشتمل ہو گا۔

    ماہرین کے مطابق یورپی شاہراہوں پر ’ای۔کاروں‘ کے لیے چارجنگ اسٹیشن بھی اتنے ہی ضروری ہیں، جتنے پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے مختلف شہروں اور ہائی ویز پر جگہ جگہ بنائے گئے پٹرول پمپ۔

    مجموعی طور پر یورپی آٹوموبائل انڈسٹری نے مختلف ممالک میں موٹر ویز پر ایسے 400 تیز رفتار چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے 20 اولین چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

    یہ بات کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائملر، فورڈ، جرمنی سے تعلق رکھنے والے سب سے بڑے یورپی کار ساز ادارے فوکس ویگن اور فوکس ویگن کے ذیلی اداروں آؤڈی اور پورشے کی طرف سے تین نومبر کو ایک مشترکہ بیان میں بتائی گئی۔اس بارے میں تفصیلات جرمن شہروں اشٹٹ گارٹ اور میونخ سے اس لیے آئیں کہ مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائلمر کا ہیڈکوارٹر اشٹٹ گارٹ میں اور بی ایم ڈبلیو کے صدر دفاتر میونخ میں ہیں۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال جن بیس چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا، وہ جرمنی، ناروے اور آسٹریا کی مختلف ہائی ویز اور اہم موٹر وے کراسنگز پر بنائے جائیں گے۔

    اس کے بعد اگلے سال ایسے مزید 80 چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، جن کے بعد یہ تعداد 100 ہو جائے گی۔

    اسی طرح سن 2020ء تک ایسے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 400 کر دی جائے گی۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام الیکٹرک اسٹیشن ایک ایسی کمپنی تیار کرے گی، جو خاص اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے۔

    اس کمپنی کا نام ’ایئونیٹی‘ (Ionity) ہے، جس کا صدر دفتر بھی میونخ ہی میں ہے۔ یہ کمپنی چاروں بڑے کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، فورڈ اور فوکس ویگن نے مل کر بنائی ہے، جس میں ان کا فی کس حصہ پچیس فیصد ہے۔

    یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کل کتنی لاگت آئے گی لیکن یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کوشش یہ ہو گی کہ ایسے تمام الیکٹرک کار چارجنگ اسٹیشن ایک دوسرے سے اوسطاﹰ 120  کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کیے جائیں۔ ان میں سے ہر اسٹیشن پر ایسے بہت سے چارجنگ پول ہوں گے، جن پر لگے پلگوں سے، مثال کے طور پر کسی عام موبائل فون کی طرح، الیکٹرک کاروں کو ری چارج کیا جا سکے

    گا۔