سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجاپاکسے مستعفی ہوگئے     No IMG     سپریم کورٹ نے افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا     No IMG     بھارتی ارب پتی مکیشن امبانی کی شادی پر خزانوں کے منہ کھُل گئے     No IMG     ایرانی وزیر خارجہ کی قطر کے وزير اعظم سے ملاقات     No IMG     وزیر اعظم کا دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کرنے کا عزم     No IMG     فرانسیسی پولیس کا معذور افراد پر بھی ظلم و ستم     No IMG     چین کینیڈین شہریوں کو رہا کرے، امریکی وزیر خارجہ     No IMG     بھارتی ریاست کرناٹک میں زہریلی خوراک کھانے سے تقریباً ایک درجن یاتریوں کی ہلاکت     No IMG     یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں، آسٹریلیا     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے کے پاس اب فقط چار آپشنز موجود ہیں۔     No IMG     سپریم کورٹ کا دہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم     No IMG     باردوی سرنگ کے دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکار ہلاک     No IMG     آئی ایم ایف سے پیکج صرف پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھ کر لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسد عمر     No IMG     ہنگری میں غلام ایکٹ کے خلاف مظاہرے     No IMG     امریکی ایوان نمائندگان نے روہنگیا مسلمانوں پر بربریت کونسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور     No IMG    

زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار
تاریخ :   16-11-2018

لاہور ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی زلفی بخاری کی تمام معلومات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی وزیر اعظم تقرر کے خلاف لاہور کے رہائشی محمد عادل چٹھا اور کراچی کے رہائشی مرزا عبدالمعیز بیگ کی درخواست پر سماعت کی۔
خیال رہے کہ 18 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔
ان درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت میں زلفی بخاری، ان کے وکیل اعتزاز احسن اور دیگر پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کے اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے لیکن دوستی پر یہ معاملات نہیں چلیں گے بلکہ قومی مفاد پر چلیں گے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں زلفی بخاری؟ اس پر زلفی بخاری نے انگریزی میں بات کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اردو میں بات کرنی آتی ہے؟ اس پر زلفی بخاری نے کہا جی میں اردو بول سکتا ہوں۔
زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ میں نے بی ایس سی پولیٹکل سائنس میں کیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بہترین روابط ہیں اور برطانیہ میں 100 اعلیٰ پاکستانیوں میں شمار ہوتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ تو پھر غرور والی بات ہے۔
اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ برطانیہ میں کام کیا کرتے ہیں؟ جس پر زلفی بخاری نے جواب دیا کہ برطانیہ میں پراپرٹی ڈویلپر ہوں، کاروبار پاکستان لانے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں تک رسائی ہے اور لوگ مجھے جانتے ہیں۔
زلفی بخاری کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان میں تو آپ کبھی نہیں رہے، جس پر زلفی بخاری نے کہا کہ 13 سے 18 سال کی عمر تک پاکستان سے ہی تعلیم حاصل کی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ممی ڈیڈی اسکول ہی ہوگا، جہاں سے تعلیم حاصل کی ہوگی۔
چیف جسٹس نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ آپ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے یہ سپریم کورٹ ہے۔
اس دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ زلفی بخاری کو ان کے رویے کے بارے میں آگاہ کریں۔
سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیر اعظم کا اختیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم عوام کے ٹرسٹی ہیں، وہ اپنے من، مرضی اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائیں گے، ہم طے کرینگے کے معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اعلیٰ عہدوں پر اقربا پروری اور بندر بانٹ نظر نہیں آنی چاہیے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا، کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی؟ کوئی خاصیت ہے زلفی بخاری کی؟ یا پھر کسی کا دوست ہونے کی بنا پر انہیں معاون لگایا گیا ہے؟ جس پر وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا ہے، وہ کابینہ کے رکن نہیں، بیرون ملک پاکستان کے لیے دوہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزہ ہو تو آسانی ہوتی ہے، وزیر اعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر تریس کیس میں ہم نے اقربا پروری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، یہ معاون کی تعیناتی پر عدالت بندر بانٹ نہیں ہونے دے گی، جس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ زلفی بخاری کو اسسٹنٹ کی اسامی پر تعینات کیا گیا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کی تمام معلومات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 5دسمبر تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے
غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان
Translate News »