آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سےملاقات     No IMG     تحریک انصاف ملک کو حقیقی حقیقی فلاحی ریاست اور نچلے طبقے کو اوپر لائیں گے:وزیر اعظم عمران خان     No IMG     صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1450 روپے کا اضافہ     No IMG     برٹش ائیر ویز جون 2019ءمیں پاکستان سے دوبارہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان     No IMG     ریاست کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا,وزیر خارجہ     No IMG     چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور ترک صدر کے مابین ملاقات     No IMG     سعودی عرب نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی سینیٹ کی قرارداد کو مسترد کردیا     No IMG     سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل رضا عابدی پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فردجرم عائد کر دی     No IMG     مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی شہادت پراحتجاجی مارچ     No IMG     چیف جسٹس آف پاکستان کا دورہ تُرکی ,تُرک کمپنی نے ڈیمز فنڈ میں عطیہ دے دیا     No IMG     وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG    

روہنگیا مسلمانوں پر کوئی ظلم نہیں کیا اورنہ ہی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ : برمی فوج
تاریخ :   14-11-2017

میانمار (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مغربی ریاست راکھین میں آباد روہنگیا مسلمانوں پر کوئی مظالم نہیں ڈھائے اور نہ ہی اس کے اہلکار مسلمانوں کے قتل اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

تاہم میانمار کی فوج نے راکھین میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کے انچارج جنرل کا تبادلہ کردیا ہے جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

میجر جنرل موانگ موانگ سو برمی فوج کے مغربی کمانڈ کے سربراہ تھے جو راکھین میں کی جانے والی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

اگست کے اواخر میں شروع ہونے والی ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان راکھین سے ہجرت کرکے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

میانمار کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے نائب سربراہ میجر جنرل آئے لوئن نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ جنرل موانگ سو کے تبادلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور انہیں تاحال کوئی اور عہدہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔

جنرل موانگ سو کے تبادلے کا حکم جمعے کو جاری کیا گیا اور ان کی جگہ بریگیڈیئر جنرل سو ٹنٹ نائنگ کو مغربی کمانڈ کا نیا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔

میانمار کی فوج نے پیر کو راکھین میں پیش آنے والے مبینہ مظالم سے متعلق محکمہ جاتی تحقیقات کی ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔

برمی فوج کے سربراہ سینئر جنرل مِن انگ ہلینگ کے فیس بک بیج پر جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران برمی سکیورٹی فورسز کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے 54 دیہات کے 2817 رہائشیوں سے انٹرویوز کیے گئے جنہوں نے کہا کہ بری فوجیوں نے نہ تو “معصوم دیہاتیوں” پر کوئی فائرنگ کی اور نہ ہی وہ خواتین کے خلاف کسی قسم کے جنسی جرائم میں ملوث ہوئے

رپورٹ کے مطابق تمام دیہاتیوں نے کسی قسم کی مار پیٹ، لوٹ مار اور مساجد اور گھروں کا آگ لگانے کی کارروائیوں کے الزامات کی بھی تردید کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برمی فوج نے روہنگیا جنگجووں کے خلاف صرف چھوٹے ہتھیار استعمال کیے اور فوجیوں کی جانب سے “طاقت کے بے محابا استعمال” کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

برمی فوج نے یہ رپورٹ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورۂ میانمار سے دو روز قبل جاری کی ہے۔

سیکریٹری ٹلرسن بدھ کو میانمار پہنچ رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ وہ برمی فوج کی راکھین میں کارروائیوں سے متعلق امریکہ کے سخت موقف کا اعادہ کریں گے۔

امریکی کانگریس کے کئی ارکان روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے ردِ عمل میں میانمار کے فوجی رہنماؤں پر سفری پابندیاں اور میانمار پر معاشی قدغنیں عائد کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

میانمار کی حکومت اقوامِ متحدہ کی اس ٹیم کو بھی روہنگیا مسلمانوں کے علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی جسے اکتوبر 2016ء میں علاقے میں کی جانے والی فوجی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کا ہدف دیا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
مذاکرات کی کامیابی تک شام اور عراق سے نہیں نکلیں گے,امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس
یمن کے تمام ہوائی اڈے اور بندرگاہیں چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر کھول دی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »