چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

روس کے ساتھ روابط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلِن نے اعتراف کر لیا
تاریخ :   02-12-2017

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلِن نے اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران روس کے ساتھ روابط کے حوالے سے ایف بی آئی سے غلط بیانی کی تھی۔

مائیکل فِلن کا یہ بیان گزشتہ برس امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے جاری تحقیقات میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ 58 سالہ ریٹائرڈ تھری اسٹار آرمی جنرل مائیکل فلِن صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایسے سینیئر ترین سابق عہدیدار ہیں جو خصوصی تفتیش کار رابرٹ مُلر کی طرف سے جاری ان تحقیقات کا سامنا کر رہے ہے جو گزشتہ برس ہونے والے امریکی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے جاری ہیں۔

واشنگٹن میں ایک وفاقی کورٹ کے سامنے فلِن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دسمبر 2016ء میں روسی سفیر سیرگئی کِسل یَک کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ایک خفیہ ملاقات کی تھی۔ ان کے اس اعتراف کے بعد واشنگٹن میں یہ اب یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ تفتیش کار رابرٹ مُلر کی تفتیش کا مرکز اب ری پبلکن جماعت کا کون سا رہنما ہو گا۔

مائیکل فلِن نے اعتراف کیا ہے کہ رواں برس جنوری میں انہوں نے ایف بی آئی کے تحقیقات کاروں سے ان کی روسی سفیر سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں غلط بیانی کی تھی۔ فلِن نے کہا ہے کہ وہ اس کیس کی مزید چھان بین کے لیے استغاثہ سے تعاون کریں گے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر کیے بغیر اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی منقتلی اقتدار کی ٹیم کے جن ’’بہت سینیئر‘‘ حکام نے مائیکل فلن کو روسی سفیر سے ملنے کی ہدایت کی ان میں صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار جیرڈ کُشنر بھی شامل ہیں۔

رابرٹ مُلر کی طرف سے جاری خصوصی تحقیقاتی عمل میں مائیکل فلن ایسے چوتھے شخص جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ فلن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کِسل یَک کے ساتھ ذاتی ملاقات میں ماسکو کے خلاف اُس وقت کی اوباما انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

امریکی ٹیلی وژن ABC نیوز نے خبر دی ہے کہ مائیکل فلن تفتیش کاروں کے سامنے یہ اعتراف کریں گے کہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی انہیں ماسکو سے روابط کی ہدایت کی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس خیال کو رد کر دیا ہے کہ مائیکل فلن اپنے اس عمل کے بارے میں کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔جب فلن نے روسی سفیر کے ساتھ یہ ملاقات کی تب وہ منتقلی اقتدار کے لیے کام کرنے والی ٹرمپ کی ٹیم کے ایک مشیر اور ساتھی تھے تاہم اس وقت ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں تھا۔ البتہ اُس وقت وہ ٹرمپ حکومت کے سلامتی کے حوالے سے مشیر بننے کے اہم امیدوار ضرور تھے۔ ٹرمپ حکومت بننے کے بعد انہیں یہ عہدہ دیا گیا تھا تاہم انہیں چند ہفتوں بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارتی فورسز کاجموں کشمیرمیں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز
ایرانی اپوزیشن کی جانب سے تہران کی شرم ناک کارستانیاں بے نقاب ہوگئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »