جرمن نے شام اور عراق کے لیے مالی امداد سو ملین یوروکا اعلان     No IMG     سعودی عرب کے سفیر خالد بن سلمان واشنگٹن سے فرار ہوگئے     No IMG     کویت نے غزہ میں تعمیر نو اور جنگ سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر کے لیے 25 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کا غزہ پر فضائی حملہ ایک فلسطینی نوجوان شہید 8 زخمی     No IMG     روس کے زیر انتظام کریمیا میں بم دھماکے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 50 زخمی     No IMG     ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ شام میں کئے گئے وعدے پورے کرے     No IMG     پی آئی اے نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کےالزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان کو کلین چٹ دیدی     No IMG     قطر کی حکومت نے ملازمت کے خواہش مندوں کے لیے پاکستان میں ویزا مرکز کھولنے کا اعلان     No IMG     مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہاہے کہ کے الیکٹرک بکا ہی نہیں تھا اس لئے کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،     No IMG     سلمان خان نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر میرا ریپ کیا,بھارتی ماڈل اور وی جے پوجا مشرا کا الزام     No IMG     اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایس ایس پی تشدد کیس میں وزیراعظم عمران خان کی بریت کیخلاف وفاق کی اپیل پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا     No IMG     ابوظہبی, پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط ، ایک وکٹ کے نقصان پر 106 رنز جوڑ لیے ،245 رنز کی برتری     No IMG     افغانستان کے صوبے ہلمند میں انتخابی مہم کے دفتر میں دھماکے سے انتخابی امیدوار سمیت 3 افراد ہلاک     No IMG     ہارون اختر اور سابق وزیر اعظم کی بہن سعدیہ عباسی نااہل قرار     No IMG     بھارت اور چین نے افغانستان کے سفارت کاروں کو تربیت دینے کے مشترکہ پروگرام کا آغاز کر دیا     No IMG    

رافیل جنگی طیارے کی خرید سے پیدا شدہ تنازعے نے جہاں بھارت میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا
تاریخ :   24-09-2018

نئی دہلی ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) رافیل جنگی طیارے کی خرید سے پیدا شدہ تنازعے نے جہاں بھارت میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے وہیں فرانس میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فرانس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق فرانسیسی صدر

فرانسوا اولاند کے بیان سے تنازعے نے جو شکل اختیار کی ہے اس کے بعد ان کو ڈر ہے کہ فرانس اور بھارت کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اولاند نے ایک فرانسیسی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سودے کے وقت بھارت نے صنعتکار انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کا نام پیش کیا تھا اور فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اویشن کے سامنے کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔اس انکشاف کے بعد کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے، جو کہ ایک عرصے سے اس سودے میں بڑے گھپلے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ چونکہ مودی نے خود یہ معاہدہ کیا تھا اس لیے اس میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی میں وہ شریک ہیں۔ دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بھی وزیر اعظم مودی سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔لیکن مودی خاموش ہیں اور حکومت کی جانب سے وزیر دفاع نرملا سیتارمن، وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور دیگر متعدد وزرا اس الزام کی سختی سے تردید کر رہے ہیں۔راہول گاندھی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے اس سودے کی جانچ کرائی جائے۔ادھر ڈسالٹ اویشن نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ اس نے بھارت کی سرکاری اسلحہ ساز کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمٹیڈ (ایچ اے ایل) کے بجائے ریلائنس ڈیفنس سے معاہدہ کیا ہے۔ارون جیٹلی نے اپوزیشن کے مطالبات اور الزامات کو مسترد کر دیا اور جوابی الزام عائد کیا کہ راہول گاندھی اور فرانسوا اولاند میں ساز باز ہے۔ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر منوج جھا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کے سامنے کچھ سوالات رکھے ہیں۔ اسے چاہیے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کا مضحکہ اڑانے کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ ان سوالوں کے جواب دے۔بقول ان کے سودے کی آنچ وزیر اعظم اور ان کے دفتر پر آ رہی ہے ۔ اس لیے وزیر اعظم کو ہی جواب دینا چاہیے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ ایک نیوز کانفرنس کریں اور سوالوں کے جواب دیں۔ بقول ان کے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ معاملہ 2019 کے انتخابات تک اس حکومت کا پیچھا کرتا رہے گا اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی کرے۔بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق رافیل تنازعہ اس حکومت کے لیے اسی طرح نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ بوفرز تنازعہ راجیو گاندھی حکومت کے لیے ثابت ہوا تھا۔یاد رہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے 2012 میں رافیل جنگی طیارے کا سودا کیا تھا جس کے مطابق ایک طیارے کی قیمت 526 کروڑ روپے تھی اور 18 جہاز تیار حالت میں ملتے اور 108 جہاز بھارت کے اندر بنائے جاتے۔ فرانسیسی کمپنی بھارت کو اس کا لائسنس دیتی اور تکنالوجی بھی منتقل کرتی۔لیکن 10 اپریل 2015 کو وزیر اعظم مودی نے فرانس کے دورے کے وقت اس معاہدے کو رد کر دیا اور ایک نیا معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو 36 طیارے ملیں گے اور ایک طیارے کی قیمت 1666 کروڑ روپے ہوگی۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے دیوالیہ ہو چکے انیل امبانی کی مدد کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا۔ ذہن نشین رہے کہ انیل امبانی کی کمپنی معاہدے سے محض پندرہ روز قبل قائم ہوئی تھی اور اسے اسلحہ سازی کا کوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ ایچ اے ایل کو پچاس برسوں کا تجربہ حاصل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
وفاقی حکومت اورریڈیوپاکستان کے ملازمین کے درمیان مذاکرات ناکام
لاہور شاہدرہ میں وین ڈرائیور نے ٹریفک وارڈن پر گاڑی چڑھادی
Translate News »