آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف پر فرد جُرم عائد کر دی گئی     No IMG     محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG    

رافیل جنگی طیارے کی خرید سے پیدا شدہ تنازعے نے جہاں بھارت میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا
تاریخ :   24-09-2018

نئی دہلی ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) رافیل جنگی طیارے کی خرید سے پیدا شدہ تنازعے نے جہاں بھارت میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے وہیں فرانس میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فرانس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق فرانسیسی صدر

فرانسوا اولاند کے بیان سے تنازعے نے جو شکل اختیار کی ہے اس کے بعد ان کو ڈر ہے کہ فرانس اور بھارت کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اولاند نے ایک فرانسیسی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سودے کے وقت بھارت نے صنعتکار انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کا نام پیش کیا تھا اور فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اویشن کے سامنے کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔اس انکشاف کے بعد کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے، جو کہ ایک عرصے سے اس سودے میں بڑے گھپلے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ چونکہ مودی نے خود یہ معاہدہ کیا تھا اس لیے اس میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی میں وہ شریک ہیں۔ دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بھی وزیر اعظم مودی سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔لیکن مودی خاموش ہیں اور حکومت کی جانب سے وزیر دفاع نرملا سیتارمن، وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور دیگر متعدد وزرا اس الزام کی سختی سے تردید کر رہے ہیں۔راہول گاندھی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے اس سودے کی جانچ کرائی جائے۔ادھر ڈسالٹ اویشن نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ اس نے بھارت کی سرکاری اسلحہ ساز کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمٹیڈ (ایچ اے ایل) کے بجائے ریلائنس ڈیفنس سے معاہدہ کیا ہے۔ارون جیٹلی نے اپوزیشن کے مطالبات اور الزامات کو مسترد کر دیا اور جوابی الزام عائد کیا کہ راہول گاندھی اور فرانسوا اولاند میں ساز باز ہے۔ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر منوج جھا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کے سامنے کچھ سوالات رکھے ہیں۔ اسے چاہیے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کا مضحکہ اڑانے کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ ان سوالوں کے جواب دے۔بقول ان کے سودے کی آنچ وزیر اعظم اور ان کے دفتر پر آ رہی ہے ۔ اس لیے وزیر اعظم کو ہی جواب دینا چاہیے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ ایک نیوز کانفرنس کریں اور سوالوں کے جواب دیں۔ بقول ان کے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ معاملہ 2019 کے انتخابات تک اس حکومت کا پیچھا کرتا رہے گا اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی کرے۔بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق رافیل تنازعہ اس حکومت کے لیے اسی طرح نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ بوفرز تنازعہ راجیو گاندھی حکومت کے لیے ثابت ہوا تھا۔یاد رہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے 2012 میں رافیل جنگی طیارے کا سودا کیا تھا جس کے مطابق ایک طیارے کی قیمت 526 کروڑ روپے تھی اور 18 جہاز تیار حالت میں ملتے اور 108 جہاز بھارت کے اندر بنائے جاتے۔ فرانسیسی کمپنی بھارت کو اس کا لائسنس دیتی اور تکنالوجی بھی منتقل کرتی۔لیکن 10 اپریل 2015 کو وزیر اعظم مودی نے فرانس کے دورے کے وقت اس معاہدے کو رد کر دیا اور ایک نیا معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو 36 طیارے ملیں گے اور ایک طیارے کی قیمت 1666 کروڑ روپے ہوگی۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے دیوالیہ ہو چکے انیل امبانی کی مدد کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا۔ ذہن نشین رہے کہ انیل امبانی کی کمپنی معاہدے سے محض پندرہ روز قبل قائم ہوئی تھی اور اسے اسلحہ سازی کا کوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ ایچ اے ایل کو پچاس برسوں کا تجربہ حاصل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
وفاقی حکومت اورریڈیوپاکستان کے ملازمین کے درمیان مذاکرات ناکام
لاہور شاہدرہ میں وین ڈرائیور نے ٹریفک وارڈن پر گاڑی چڑھادی
Translate News »