وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

دہشت گردی کا معاملہ افغانستان میں ہے ,پاک فوج کے ترجمان
تاریخ :   25-02-2018

اسلام آباد (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن سرحد پار افغانستان میں یہ خطرہ اب بھی موجود ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عرب نیوز سے ایک انٹرویو میں ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ دس پندرہ سالوں میں کارروائیاں کر کے ان تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے جو کسی وقت عسکریت پسندوں کے زیر اثر ہوا کرتے تھے۔

“بدقسمتی سے سرحد پار افغانستان میں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں (افغان) حکومت کی عملداری نہیں ہےجس کی وجہ افغان فورسز کی ناکافی استعداد کار اور بین الاقوامی افواج کی تعداد میں کمی ہے، لہذا معاملہ اب افغانستان میں ہے جہاں یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔”

ترجمان آصف غفور نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر پائیدار امن کے لیے افغانستان کی طرف سے کوششوں کا کامیاب ہونا بھی ضروری ہے۔

کابل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام آباد ان عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہا جو افغانستان میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جب کہ امریکہ کی طرف سے بھی پاکستان سے ایسے ہی مطالبات کے ساتھ دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن پاکستان ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردوں کی منظم موجودگی نہیں ہے اور اس کا اصرار ہے کہ سرحد کی موثر نگرانی کے لیے افغان اور بین الاقوامی فورسز ٹھوس کردار ادا کریں تاکہ دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

مبصرین دونوں ملکوں پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون اور اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں وگرنہ اس کشیدگی کا فائدہ شر پسند عناصر اٹھائیں گے جو کہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔

سلامتی کے امور کے سینیئر تجزیہ کار طلعت مسعود نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بہت ضروری ہے کہ دونوں ملک بات چیت کریں اور اپنے تحفظات کا تبادلہ کریں، اگر وہ (کابل) کہتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ ان سے پوچھے کہ وہ ان جگہوں کی نشاندہی کرے۔ افغانستان کے لیے پاکستان بہت اہم ہے اور اسی طرح پاکستان کے لیے بھی پرامن افغانستان بہت ضروری ہے۔”

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے جو عہدیداروں کے بقول رواں سال کے اواخر تک مکمل ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
شہبازشریف نے مسلم لیگ نون کا صدرربننے کی خواہش کا اظہار کردیا
چینی صدر شی جن پنگ تا حیات صدر رہنے کی راہ ہمووار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »