دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

دھرنا کچھ دیر میں ختم ہوجائے گا ‘عسکری قیادت کی مشاورت سے تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ طے پاگیا ہے
تاریخ :   27-11-2017

اسلام آباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران عدالت کی طلبی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش ہوگئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو 15منٹ میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ۔اس سے قبل گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا پریڈ گراﺅنڈ منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے وزیرداخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔عدالت نے آج سماعت شروع کی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت میں پیش نہ ہونے پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرداخلہ رات بھر دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے اور ساری رات کے جاگے ہوئے ہیں، کچھ دیر میں عدالت کے روبرو پیش ہوجائیں گے۔احسن اقبال نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ دھرنا کچھ دیر میں ختم ہوجائے گا ‘عسکری قیادت کی مشاورت سے تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ طے پاگیا ہے-وفاقی وزیرداخلہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج سماعت کے دوران پیشی کے نوٹس جاری کیئے تھے وزیرداخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہورہی تھی جس کو روکنے کے لیے حکومت نے عسکری قیادت کی مشاورت سے دھرنا دینے والی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا ہے-قبل ازیں کمشنر اسلام آباد نے ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر بتایا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے کچھ ہی دیر میں فیض آباد انٹرچینج کو خالی کر لیا جائے گا۔ہائی کورٹ نے وزیرداخلہ سے سوال کیا کہ دھرنا دینے والوں کے پاس گیس ماسک اور جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کی ناکامی پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ آپریشن کیوں ناکام ہوا؟عدالت نے معاہدے کی مستندکاپی آج ہی پیش کرنے کا حکم دیا ‘عدالت نے الیکشن ایکٹ2017کے متعلق رپورٹ پیش نہ کیئے جانے پر سیکرٹری داخلہ کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ جمعرات کے روزتک تمام رپورٹس عدالت میں پیش کریں‘عدالت نے کہا کہ معاہدے پر ایک میجرجنرل نے بطور ثالث دستخط کیئے ہیں کیا یہ آئین کے مطابق ہے؟جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے، کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ رپورٹ پیش کی جائے کہ آپریشن ناکام کیوں ہوا، ہماری انتظامیہ کو کیوں ذلیل کیا گیا، آرمی اپنے آئینی کردار میں رہے، آرمی چیف کون ہوتے ہیں ثالث بننے والے، جن فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج کو چھوڑیں اور سیاست میں جائیں، قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا، تحریری طور پر آگاہ کریں کس نے ہماری انتظامیہ کو رسوا کیا، کس نے پولیس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا؟ آرمی اپنی آئینی حدود میں رہے، فوج قانون توڑنے والے جلوس کے سامنے کیسے نیوٹرل رہ سکتی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکارنہیں رہے، اعلیٰ عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کے معافی مانگنے کی شق معاہدے میں کیوں شامل نہیں؟ وزیر آئی ٹی انوشہ رحمان کو بچانے کیلئے زاہد حامد کی بلی چڑھا رہے ہیں، ناموس رسالت کیس میں انوشہ رحمان کے ڈرٹی گیم کا اشارہ دیا تھا، کیا فیض آباد کے ساتھ جی ایچ کیو ہوتا تو بھی دھرنا دیا جاتا؟، دہشت گردی کی شقوں والے مقدمات یکدم کیسے ختم ہونگے، ان باتوں کے بعد میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں، معلوم ہے قادیانیوں کو کس نے ڈارلنگ بنا کر رکھا ہوا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ میں نے فیض آباد کلیئر کرانے کا حکم آئین کے مطابق دیا، ہمیں معاملے کی حساسیت کا علم ہے، آئی بی رپورٹ دے کہ دھرنے والوں کے پاس آنسو گیس گن، شیل اور ماسک کہاں سے آئے، معاہدہ پر دستخط کرنے والا میجر جنرل فیض حمید کون ہے؟، یہ تاثردیا جا رہا ہے کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وزیر داخلہ سے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو بے رحمی کے ساتھ ذلیل کروا دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پولیس کو ہم نے تو نہیں ذلیل کرایا، میرے قتل پر بھی دس لاکھ روپے انعام رکھا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آپ اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایک بھی ملزم پکڑنا ہو گا تو فوج کرے گی، آپ نے ثابت کر دیا کہ دھرنا کے پیچھے وہی تھے، ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی۔ آئی ایس آئی کے نمائندے نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ ایجنسیاں دھرنے کے پیچھے نہیں ہیں۔قبل ازیں چیف کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدہ طے پاگیا اور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کردیا جائے گا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں فیض آباد کو دھرنا مظاہرین سے خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔جسٹس شوکت نے حکم دیا کہ آپ معاہدہ پڑھ کر سنائیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ راجا ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی جس کے تحت ذمہ داران کے خلاف 30 روز میں کارروائی ہوگی۔عدالت نے کہا کہ معاہدہ بہ وساطت میجر جنرل فیض حمید کیا ہے اور آئین کے تحت کسی میجر جنرل کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے۔عدالت میں وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا ختم ہونے والا ہے اور کچھ دیر میں پریس کانفرنس بھی ہوگی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے ؟ جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھرنے والوں نے اس حوالے سے لکھ کر دیا ہے- معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالت نے 2کمیٹیاں تشکیل دینے کا حکم دیا ایک کمیٹی انٹیلی جنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹرجنرل انورخان اور دوسری بیرسٹرظفراللہ خان کی سربراہی میں کام کرئے گی

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد ,دھرنا قائدین کون ہوتے ہیں کہ آرمی چیف کا شکریہ ادا کریں ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرداخلہ کو 15 منٹ میں طلب کرلیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »