چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

دھرنا کچھ دیر میں ختم ہوجائے گا ‘عسکری قیادت کی مشاورت سے تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ طے پاگیا ہے
تاریخ :   27-11-2017

اسلام آباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران عدالت کی طلبی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش ہوگئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو 15منٹ میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ۔اس سے قبل گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا پریڈ گراﺅنڈ منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے وزیرداخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔عدالت نے آج سماعت شروع کی تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت میں پیش نہ ہونے پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرداخلہ رات بھر دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے اور ساری رات کے جاگے ہوئے ہیں، کچھ دیر میں عدالت کے روبرو پیش ہوجائیں گے۔احسن اقبال نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ دھرنا کچھ دیر میں ختم ہوجائے گا ‘عسکری قیادت کی مشاورت سے تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ طے پاگیا ہے-وفاقی وزیرداخلہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج سماعت کے دوران پیشی کے نوٹس جاری کیئے تھے وزیرداخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہورہی تھی جس کو روکنے کے لیے حکومت نے عسکری قیادت کی مشاورت سے دھرنا دینے والی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا ہے-قبل ازیں کمشنر اسلام آباد نے ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر بتایا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے کچھ ہی دیر میں فیض آباد انٹرچینج کو خالی کر لیا جائے گا۔ہائی کورٹ نے وزیرداخلہ سے سوال کیا کہ دھرنا دینے والوں کے پاس گیس ماسک اور جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کی ناکامی پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ آپریشن کیوں ناکام ہوا؟عدالت نے معاہدے کی مستندکاپی آج ہی پیش کرنے کا حکم دیا ‘عدالت نے الیکشن ایکٹ2017کے متعلق رپورٹ پیش نہ کیئے جانے پر سیکرٹری داخلہ کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ جمعرات کے روزتک تمام رپورٹس عدالت میں پیش کریں‘عدالت نے کہا کہ معاہدے پر ایک میجرجنرل نے بطور ثالث دستخط کیئے ہیں کیا یہ آئین کے مطابق ہے؟جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے، کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ رپورٹ پیش کی جائے کہ آپریشن ناکام کیوں ہوا، ہماری انتظامیہ کو کیوں ذلیل کیا گیا، آرمی اپنے آئینی کردار میں رہے، آرمی چیف کون ہوتے ہیں ثالث بننے والے، جن فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج کو چھوڑیں اور سیاست میں جائیں، قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا، تحریری طور پر آگاہ کریں کس نے ہماری انتظامیہ کو رسوا کیا، کس نے پولیس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا؟ آرمی اپنی آئینی حدود میں رہے، فوج قانون توڑنے والے جلوس کے سامنے کیسے نیوٹرل رہ سکتی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکارنہیں رہے، اعلیٰ عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کے معافی مانگنے کی شق معاہدے میں کیوں شامل نہیں؟ وزیر آئی ٹی انوشہ رحمان کو بچانے کیلئے زاہد حامد کی بلی چڑھا رہے ہیں، ناموس رسالت کیس میں انوشہ رحمان کے ڈرٹی گیم کا اشارہ دیا تھا، کیا فیض آباد کے ساتھ جی ایچ کیو ہوتا تو بھی دھرنا دیا جاتا؟، دہشت گردی کی شقوں والے مقدمات یکدم کیسے ختم ہونگے، ان باتوں کے بعد میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں، معلوم ہے قادیانیوں کو کس نے ڈارلنگ بنا کر رکھا ہوا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ میں نے فیض آباد کلیئر کرانے کا حکم آئین کے مطابق دیا، ہمیں معاملے کی حساسیت کا علم ہے، آئی بی رپورٹ دے کہ دھرنے والوں کے پاس آنسو گیس گن، شیل اور ماسک کہاں سے آئے، معاہدہ پر دستخط کرنے والا میجر جنرل فیض حمید کون ہے؟، یہ تاثردیا جا رہا ہے کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وزیر داخلہ سے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو بے رحمی کے ساتھ ذلیل کروا دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پولیس کو ہم نے تو نہیں ذلیل کرایا، میرے قتل پر بھی دس لاکھ روپے انعام رکھا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آپ اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایک بھی ملزم پکڑنا ہو گا تو فوج کرے گی، آپ نے ثابت کر دیا کہ دھرنا کے پیچھے وہی تھے، ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی۔ آئی ایس آئی کے نمائندے نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ ایجنسیاں دھرنے کے پیچھے نہیں ہیں۔قبل ازیں چیف کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدہ طے پاگیا اور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کردیا جائے گا جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں فیض آباد کو دھرنا مظاہرین سے خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔جسٹس شوکت نے حکم دیا کہ آپ معاہدہ پڑھ کر سنائیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ راجا ظفرالحق رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی جس کے تحت ذمہ داران کے خلاف 30 روز میں کارروائی ہوگی۔عدالت نے کہا کہ معاہدہ بہ وساطت میجر جنرل فیض حمید کیا ہے اور آئین کے تحت کسی میجر جنرل کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے۔عدالت میں وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنا ختم ہونے والا ہے اور کچھ دیر میں پریس کانفرنس بھی ہوگی جس پر عدالت نے سوال کیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے ؟ جس پر وزیر داخلہ نے بتایا کہ دھرنے والوں نے اس حوالے سے لکھ کر دیا ہے- معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالت نے 2کمیٹیاں تشکیل دینے کا حکم دیا ایک کمیٹی انٹیلی جنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹرجنرل انورخان اور دوسری بیرسٹرظفراللہ خان کی سربراہی میں کام کرئے گی

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد ,دھرنا قائدین کون ہوتے ہیں کہ آرمی چیف کا شکریہ ادا کریں ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرداخلہ کو 15 منٹ میں طلب کرلیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »