وینزویلا سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ نوجوان لڑکی نے ملکہ حسن کا ٹائٹل جیت لیا     No IMG     حزب اللہ کی ايک اور سرنگ دريافت ,اسرائیلی فوج کا دعوی     No IMG     عوام اپنے مسائل کے حل کیلیے وزیر اعظم کمپلینٹ پورٹل کا استعمال کریں،وزیراعظم     No IMG     سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے دی     No IMG     رشوت کا سب سے بڑا ناسور پٹواری ہیں, چیف جسٹس     No IMG     فرانسیسی پولیس نے پیلے رنگ جیکٹس والے مظاہرین پر شدید تشدد     No IMG     اسلام آباد تھانہ سہالہ میں شدید فائرنگ, بدنام زمانہ شیرپنجاب جاں بحق     No IMG     اگر گرفتار ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے, آصف علی زرداری     No IMG     امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا وزیر داخلہ مقرر کرنے کا اعلان     No IMG     اٹلی میں ہزاروں مظاہرین نے مہاجر مخالف قوانین کے خلاف مظاہرہ     No IMG     پاکستانیوں کے دل پر آرمی پبلک سکول (اے پی ایس ) پشاور میں لگنے والے زخم کو چار سال مکمل ہوگئے     No IMG     رائے ونڈ, چینی انجنئیر، جیا جینیفر پر دل ہار بیٹھا     No IMG     سپین میں یہ بیٹا ایک سال تک ماں کی لاش کے ساتھ کیوں رہا ؟     No IMG     سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل سعود القحطانی کو معاف کردیا     No IMG     سری لنکن صدر نے برطرف وزیر اعظم کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب کرلیا     No IMG    

دھرنا سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں، آئندہ سماعت پر آئی بی اور آئی ایس آئی کے سینئر افسران کو طلب کرلیا
تاریخ :   24-11-2017

اسلام آباد(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ کیا عدالتیں بند ہو گئی ہیں ؟ کل کوئی اور مسئلہ ہوگا تو کیا پھر شہر بند ہو جائیں گے؟سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ لوگوں نے قرآن پاک پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔فیض آباد کا دھرنا اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر18ویںروز بھی جاری ہے ، راستے بند ہونے کے باعث دفتر، روزگار اور تعلیمی ادارے جانے والے افراد پریشان کا شکار ہیں۔فیض آباد دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ اور وزارت دفاع نے جوابات عدالت میں پیش کردیے ہیں۔فیض آباد دھرنے کے معاملے پرسپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ جب ریاست ختم ہوگی توفیصلے سڑکوں پرہوں گے۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اسلام میں کہیں ایسانہیں لکھا۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ توالٹا چورکوتوال کو ڈانٹے والی بات ہوگئی،لوگوں کوتکلیف ہورہی ہے،ایک حوالہ دےدیں کہ راستہ بند کردیا جائے۔آپ کو اسلام نہیں پتاکیا؟پاکستان کو دلائل کی بنیاد پر بنایا گیا، جب دلیل کی بنیادہی ختم ہوجائے،ڈنڈے کے زور پرصحیح بات اچھی نہیں لگتی۔دشمنوں کے لیے بڑا آسان ہے کہیں آگ لگادے اور ہم آپس میں لڑتے رہیں،اپنی شہرت کے لیے سب ہورہاہے تاکہ نام آجائے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مذاکرات کے لیے مشائخ کو شامل کیا گیا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ نے پرچے کتنے کاٹے ہیں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 18کیسز درج کیے ،169لوگ گرفتار ہیں،چہلم حضرت امام حسینؓ کا وقت تھاجب وہ وہاں آکر بیٹھے،ہم نہیں چاہتے کہ خون خرابا ہو۔جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ دھرنےوالوں کوسہولیات بھی فراہم نہ کی جائیں،سمجھ نہیں آرہا یہ ملک کیسے چلے گا،کل ایسا کرتے ہیں مقدمہ سڑک پر لے جاتے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ ان پرگولیاں برسائی جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ نے رپورٹ کا جائزہ لیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت سمیت احتجاج والے بنیادی نکتہ مس کر رہے ہیں، کیا اسلام میں کوئی ڈنڈاہے، کیا قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا چھوڑ دیا ہے، اختلاف ہوتا ہے لیکن کیا عدالتیں بند ہو گئی ہیں، کل کو کوئی اور اپنے موقف منوانے کے لیے راستے بند کر دے گا، حضورﷺ نے فرمایا کسی پر مسکرانا صدقہ ہے مگر مجھے مسکراتی شخصیات نظر نہیں آتیں، گالی گلوچ کی زبان نظر آتی ہے، کیا معاشرہ ایسے چل سکتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سب سے غلطی ہوتی ہے، مجھ سے جو غلطی ہو اس کا اعتراف کرتا ہوں، کوئی غیر شرعی بات ہے تو شرعی عدالت موجود ہے، کیا اسلام میں دو رائے ہو سکتی ہیں، کنٹینر کا خرچہ بھی عوام برداشت کر رہے ہیں جب کہ ایجنسیوں پر اتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے، ان کا کردار کیا ہے، سمجھ نہیں آ رہا کیا کریں اسلام امن سے پھیلا ہے ڈنڈے سے نہیں۔اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ معاشرے اور ذہن کو ڈنڈے سے نہیں بدل سکتے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اتحاد، ایمان، تنظیم کہیں نظر نہیں آ تا، جس کو مرضی گالی دے دو، اگر یہ اسلامی باتیں ہیں تو مجھے قائل کریں، پاکستان دلائل دے کر بنا، ڈنڈے کے زور پر اچھی بات بھی اچھی نہیں لگتی اور دین میں کوئی جبر نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دشمنوں کے لیے کام بہت آسان ہو گیا، وہ ہمارے گھر میں آگ لگائیں گے، کتنے دن سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے، جب ریاست ختم ہو جائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے، ہم تو تشدد کرنے کا نہیں کہیں گے، آرٹیکل 5 کو ہم نے نظر انداز کر دیا ہے، اگر آرٹیکل 5 کی پابندی نہیں کرنی تو پاکستان کی شہریت چھوڑ دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دھرنے میں موبائل فون چل رہے ہیں،عوام کے ٹیکس کا پیسہ دھرنے پر لگ رہا ہے، دھرنے کے باعث عدالتی نظام خراب ہو گیا، وکیل اور سائلین عدالت نہیں پہنچ رہے، دھرنے والی جماعت نے الیکشن بھی لڑا، اس نام سے سیاسی جماعت رجسٹر کیسے ہوئی جبکہ حکومت کا پلان آف ایکشن کیا ہے، دھرنے والوں کو کیا حکومت چائے پیش کرتی ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کوشش ہے معاملہ تشدد کی طرف نہ جائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریمارکس دیے کہ اسلام کی عظمت پر سمجھوتا نہیں ہو گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج پیش رفت ہونے کا امکان ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ گولیاں نہ برسائیں لیکن ان کی سہولیات کو بند کر دیں، دھرنے کے علاقے کو کارڈن آف کریں،17 دن سے یہ لوگ کھا پی کہاں سے رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آس پاس کے لوگ کھانا فراہم کر رہے ہیں جب کہ دھرنے میں اسلحہ سے لیس لوگ موجود ہیں، ربیع الاول میں کوئی ایسی چیز نہیں چاہتے جو صورتحال کو خراب کرے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ 169لوگوں کو گرفتار کیا اور 18مقدمات درج ہوئے جبکہ راستہ بند ہونے کے باعث ایک بچہ وفات پا گیا، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ بچے کا وفات پانا معمولی بات نہیں، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، دھرنے والوں کو یہ بات سمجھ آجاتی تو وہ توبہ کرتے اورچلے جاتے، ایمبولینس کو راستہ دینے سے ہماری انا بڑی ہے،جس کا بچہ مر گیا اس کے دل پر کیا گذر رہی ہوگی، پارلیمان اور عدلیہ اپنا کام اور علماءاپنا کام کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کیے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایاکہ پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کا کہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ عدل کا راستہ روکنا بھی گناہ ہے، کیا عدالت کو بند کر کے گھر چلے جائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے مسلمانوں کا اسلامی ریاست میں رہنا مشکل ہوتا جارہا ہے، اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے، دھرنے والے میگا فون اورکرسیاں کہاں سے لے کر آئے، ہم کوئی احکامات نہیں دیں گے، حکومت کا جو کام ہے وہ خود کرے ‘بتایا جائے دھرنے کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ باہر سے آئے تو آئی ایس آئی کو معلوم نہیں ہوا، آئی ایس آئی اتنا طاقتور ادارہ ہے، سنجیدگی دکھائیں، اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا دے گا، اٹارنی جنرل آپ میڈیا میں سے کسی کا انتخاب کریں وہ بہتر رپورٹ دیں گے، کیا دھرنے والے لوگوں کا کوئی کاروبار نہیں، دھرنے والے کیا ملنگ فقیر ہیں، ان کا ذریعہ معاش کیا ہے اور ان کے پیچھے کون ہے۔کیا کوئی فارن فنڈنگ تو نہیں ہو رہی، دھرنے والوں نے مجھے گالیاں دیں تو ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ آئندہ سماعت پر آئی بی اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام موجود ہوں۔عدالت نے دھرنے سے متعلق آئی بی اور آئی ایس آئی کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے حوالے سے مثبت اقدامات کرکے رپورٹ پیش کریں -آئندہ سماعت پر عدالت نے آئی بی اور آئی ایس آئی کے سینئر افسران کو بھی طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے دھرنا کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتا۔
پی ٹی وی حملہ کیس سمیت دیگر 3 مقدمات میں عمران خان کو پولیس کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیدیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »