چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

دنیا کی سب سے خطرناک اور جان لیوا سرحد‘ تینتیس ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک
تاریخ :   26-11-2017

بین الاقوامی ادارہ  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے اب تک تینتیس ہزار سے زائد تارکین وطن یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کی لہروں کی نذر ہوئے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سترہ برسوں کے دوران پناہ کی تلاش میں یورپ کا رُخ کرنے والے تینتیس ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک یا گم شدہ ہو گئے۔آئی او ایم کے ترجمان ہورہے گالیندو نے جنیوا میں نیوز بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’یہ اعداد و شمار رواں برس جون کے آخر تک کے ہیں اور یہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بحیرہ روم کی یورپی سرحد دنیا کی سب سے خطرناک اور جان لیوا سرحد ہے۔‘‘

یہ رپورٹ یورپین یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ پروفیسر فیلپ فارگ نے تیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ روم میں ’مختصر اور کم خطرناک راستوں کو بند کرنے کے نتیجے میں (تارکین وطن) طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بحیرہ روم میں ہلاکتوں میں اضافہ ہونے کا خد شہ ہے‘۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں ایک ملین سے بھی زائد انسان بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں ہی کے ذریعے یورپ پہنچے تھے۔ زیادہ تر تارکین وطن تُرک ساحلوں سے بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستوں کے ذریعے یونانی جزیروں پر پہنچے تھے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد یورپ پہنچنے کا یہ راستہ عملی طور پر بند ہو گیا تھا جس کے بعد لیبیا کے ساحلوں سے اٹلی پہنچنے کے رجحان میں اضافہ نوٹ کیا گیا تھا۔

اس برس بھی ایک لاکھ اکسٹھ ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں جن میں سے 75 فیصد اٹلی جب کہ باقی پچیس فیصد نے یونان، اسپین اور قبرص کا رخ کیا۔ آئی او ایم کے مطابق اس برس بھی تین ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک یا گم شدہ ہو گئے۔

پروفیسر فیلپ فراگ کا تاہم کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں ہلاک ہونے والوں کی حقیقی تعداد ممکنہ طور پر رپورٹ میں جمع کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد کشیدہ صورتحال کے باعث ارکان اسمبلی کو غیر ضروری نقل و حرکت سے روک دیا گیا
اکتالیس اسلامی ممالک پر مشتمل دہشت گردی مخالف فوجی اتحاد کی دفاعی کونسل کے پہلے اجلاس کے افتتاح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »