دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

دنیا کی سب سے خطرناک اور جان لیوا سرحد‘ تینتیس ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک
تاریخ :   26-11-2017

بین الاقوامی ادارہ  (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے اب تک تینتیس ہزار سے زائد تارکین وطن یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کی لہروں کی نذر ہوئے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سترہ برسوں کے دوران پناہ کی تلاش میں یورپ کا رُخ کرنے والے تینتیس ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک یا گم شدہ ہو گئے۔آئی او ایم کے ترجمان ہورہے گالیندو نے جنیوا میں نیوز بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’یہ اعداد و شمار رواں برس جون کے آخر تک کے ہیں اور یہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بحیرہ روم کی یورپی سرحد دنیا کی سب سے خطرناک اور جان لیوا سرحد ہے۔‘‘

یہ رپورٹ یورپین یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ پروفیسر فیلپ فارگ نے تیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ روم میں ’مختصر اور کم خطرناک راستوں کو بند کرنے کے نتیجے میں (تارکین وطن) طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بحیرہ روم میں ہلاکتوں میں اضافہ ہونے کا خد شہ ہے‘۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں ایک ملین سے بھی زائد انسان بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں ہی کے ذریعے یورپ پہنچے تھے۔ زیادہ تر تارکین وطن تُرک ساحلوں سے بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستوں کے ذریعے یونانی جزیروں پر پہنچے تھے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد یورپ پہنچنے کا یہ راستہ عملی طور پر بند ہو گیا تھا جس کے بعد لیبیا کے ساحلوں سے اٹلی پہنچنے کے رجحان میں اضافہ نوٹ کیا گیا تھا۔

اس برس بھی ایک لاکھ اکسٹھ ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں جن میں سے 75 فیصد اٹلی جب کہ باقی پچیس فیصد نے یونان، اسپین اور قبرص کا رخ کیا۔ آئی او ایم کے مطابق اس برس بھی تین ہزار سے زائد انسان بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک یا گم شدہ ہو گئے۔

پروفیسر فیلپ فراگ کا تاہم کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں ہلاک ہونے والوں کی حقیقی تعداد ممکنہ طور پر رپورٹ میں جمع کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
اسلام آباد کشیدہ صورتحال کے باعث ارکان اسمبلی کو غیر ضروری نقل و حرکت سے روک دیا گیا
اکتالیس اسلامی ممالک پر مشتمل دہشت گردی مخالف فوجی اتحاد کی دفاعی کونسل کے پہلے اجلاس کے افتتاح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »