بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG    

حکومتوں کا تختہ الٹنے والا صحافی باب وڈورڈ اب ٹرمپ کے مدمقابل
تاریخ :   07-09-2018

واشنگٹن ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) نامور امریکی صحافی باب وڈورڈ نے صدر ٹرمپ کے بارے میں کتاب لکھی ہے جس پر صدر نے کڑی تنقید کی ہے، لیکن جہاں تک ساکھ کا معاملہ ہے، وڈورڈ کا کوئی ثانی نہیں۔

‘فیئر: ٹرمپ ان دا وائٹ ہاؤس’ نامی کتاب کی اشاعت کے بعد امریکی صدر اور سرکردہ امریکی صحافی
ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ گئے ہیں۔ اس جنگ میں اصل ہتھیار دونوں اطراف کی ساکھ ہے۔

واشنگٹن پہنچنے والے اکثر صحافیوں کا ارمان ہوتا ہے کہ واٹر گیٹ سکینڈل فاش کرنے والے اور سابق امریکی صدرنکسن کا تختہ الٹنے والے باب وڈورڈ یا کارل برنسٹین بن جائیں۔ وہ خواب دیکھتے ہیں کہ انھیں ‘ڈیپ تھروٹ’ جیسے کوئی خفیہ ذرائع مل جائیں جو انھیں اندر کی بات بتا دیں، اور بعد میں ان کے کارناموں پر فلمیں بنیں۔
واٹر گیٹ کے بعد سے وڈورڈ سپر سٹار بن گئے لیکن اس تمام عرصے میں وہ بنیادی صحافت سے جڑے رہے اور انھوں نے ایک کے بعد ایک کتاب لکھی۔ وہ محنتی، ان تھک، جزئیات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ہیں۔
اسی بارے میں

ٹرمپ: نئی کتاب میں 11 چونکا دینے والے انکشافات

وہ جان بوجھ کر سننسی نہیں پھیلاتے۔ الٹا ان کی کتابوں پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی زبان اور انداز خشک اور بےجان ہوتے ہیں۔

ان کے موضوعات بھی کچھ زیادہ سنسنی خیز نہیں ہوتے۔ انھوں نے بل کلنٹن پر جو کتاب لکھی، اس کا موضوع مونیکا لونسکی سکینڈل نہیں، بلکہ بجٹ کا خسارہ، عوام کی بہبود کے منصوبے اور نظامِ صحت تھا۔ اوباما پر کتاب میں افغانستان اور عراق کی جنگوں پر بحث کی گئی۔
ایسا بھی نہیں کہ وہ صرف صدور پر قلم اٹھاتے ہوں۔ وہ سپریم کورٹ، سی آئی اے، پینٹاگون اور ایلن گرین سپین کے بارے میں بھی کتابیں لکھ چکے ہیں۔
ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ روزمرہ کی خبریں پر نہیں، بلکہ طویل مدت رجحات کی نبض پر انگلی رکھتے ہیں۔ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2013 میں اپنا اکاؤنٹ کھولنے کے بعد سے انھوں نے اب تک صرف 93 ٹویٹس کی ہیں۔
ان کی کتابوں کے سب سے جاندار حصے وہ ہیں جو ان کے ذرائع کے بیانات پر مبنی ہوتے ہیں۔ حالیہ کتاب ‘فیئر’ (جو 11 ستمبر کو شائع ہو گی) میں ٹرمپ کے چیف آف سٹاف جان کیلی وائٹ ہاؤس کو ‘پاگل خانہ’ اور خود ٹرمپ کو ‘احمق’ کہتے ہیں، جب کہ جیمز میٹس صدر کو پانچویں چھٹی جماعت کا طالب علم قرار دیتے ہیں۔
وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے وڈورڈ کی کتاب حقائق کے منافی ہے
لیکن مسئلہ وہی ساکھ کا ہے اور اس میدان میں وڈورڈ کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ امریکہ کے سب سے معتبر صحافیوں میں سے ایک ہیں۔
ان کی کتابیں تفصیلات سے اس قدر مالامال ہوتی ہیں کہ وہ تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔ خاص طور صدر بش پر لکھی گئی ان کی تین کتابوں کا جواب ابھی تک نہیں آ سکا۔

وڈورڈ کی سب سے بڑی خوبی ان کی رسائی ہے اور اہم جگہوں پر بیٹھے لوگ ان کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں کی اشاعت بذاتِ خود ایک اہم خبر بن جاتی ہے۔
واشنگٹن کے اخباری ادارے ایک اور باب وڈورڈ بننے کے متمنی صحافیوں سے اٹے پڑے ہیں۔ لیکن یہی چیز بعض اوقات منفی رخ اختیار کر جاتی ہے۔ حکومتوں کا بوریا بستر گول کرنے کے خواہش مند صحافی بعض اوقات حد سے باہر نکل جاتے ہیں اور ہر طرح کے سکینڈل اچھال کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے بڑا تیر مار لیا۔
واٹر گیٹ کے طرز پر اب اتنے گیٹ سامنے آ گئے ہیں کہ لفظ ‘گیٹ’ ہی گھس پٹ بن گیا ہے۔

لیکن خود وڈورڈ اس راہ پر نہیں چلے۔ وہ پہلے ہی ایک صدر کو گرا چکے ہیں اور ان کا کردار فلمایا جا چکا ہے۔ یہ تاریخ ساز صحافی اب امریکہ کا سرکاری تاریخ دان بن چکا ہے۔
باب وڈورڈ اب ایک شخص نہیں، ایک ادارے کا نام ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
الریاض, حوثی باغیوں کا سعودیہ پر میزائل حملہ، ملبہ سے 23 افراد زخمی
سات ستمبر ایک تاریخ ساز دن ہے کیا آپ جانتے ہیں اس دن کیا اہم ترین فیصلہ ہوا تھا ؟
Translate News »