چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

حریری لوٹ کیوں نہیں رہے,لبنانی صدر
تاریخ :   11-11-2017

لبنانی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) صدر میشال عون نے سعودی عرب سے ان وجوہات کی وضاحت طلب کی ہے، جن کے سبب وزیر اعظم سعد الحریری واپس وطن نہیں لوٹ رہے۔ الحریری نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے ایک دورے کے دوران اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت سے ہفتہ گیارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ملکی صدر کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کے لیے یہ لازمی ہو چکا ہے کہ وہ اس امر کی وضاحت کرے کہ ریاض میں اچانک اپنے استعفے کا اعلان کرنے والے سعد الحریری کو واپس لبنان لوٹنے سے کون سی وجوہات روکے ہوئے ہیں۔

میشال عون کے دفتر کے مطابق، ’’لبنان اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اس کا وزیر اعظم ایک ایسی صورت حال میں ہو، جس سے ریاستوں کے مابین تعلقات کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی نفی ہوتی ہو۔

لبنانی حکام کا خیال ہے کہ سعد الحریری کو سعودی عرب نے اپنے ہاں روک رکھا ہے۔ الحریری نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب ہی سے ریکارڈ کرائے گئے اپنے ایک نشریاتی اعلان میں بیروت میں ملکی حکومت کے سربراہ کے طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

الحریری کو مبینہ طور پر سعودی حکمرانوں نے ان کی مرضی کے خلاف اپنے ملک میں روک رکھا ہے، یہ بات بیروت میں لبنانی حکومت کے دو اعلیٰ اہلکاروں، ایک سینئر لبنانی سیاستدان اور ایک چوتھے حکومتی ذریعے نے بھی کہی ہے۔

امریکا اور فرانس کی تشویش

دوسری طرف بیروت ہی سے نیوز ایجنسی ایسوس ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں ہفتے کے روز بتایا گیا کہ لبنان اور سعودی عرب کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں امریکا اور فرانس نے لبنان کی خود مختاری اور وہاں سیاسی استحکام کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سعد الحریری چند روز پہلے تک بیروت میں ایک مخلوط حکومت کے سربراہ تھے، جو ماضی میں طویل عرصے تک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہنے والے اس ملک میں سیاسی امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ لیکن چار نومبر کو الحریری نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اچانک یہ اعلان کر کے بین الاقوامی برادری کو حیران کر دیا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

اسی سیاسی بے یقینی اور سعد الحریری کے سعودی عرب میں قیام کے غیر واضح اسباب کے پس منظر میں امریکا میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے بھی ہفتہ گیارہ نومبر کے روز کہا، ’’تمام ریاستوں اور فریقوں کو لبنان کی خود مختاری، آزادی اور آئینی عوامل کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘

’مخلوط حکومتی اتحادی ہی سے خطرہ؟‘

سعد الحریری کی سعودی عرب میں گزشتہ قریب ایک ہفتے سے مسلسل خاموشی مشرق وسطیٰ کی اس ریاست کے لیے نہ صرف ایک سیاسی بحران کا اشارہ بنتی جا رہی ہے بلکہ اسی وجہ سے لبنانی معیشت بھی دھچکے میں آ چکی ہے، جہاں مالیاتی اور اقتصادی منڈیوں میں گزشتہ چند روز سے شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔

الحریری نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں لبنان میں قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ لبنان میں ایران نواز شیعہ تنظیم حزب اللہ اور اس کے عسکری بازو نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ لبنانی وزیر اعظم کا یہ بیان اس لیے حیران کن تھا کہ انہون نے خود ہی ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اسی حزب اللہ کے ساتھ مل کر بیروت میں ایک مخلوط ملکی حکومت قائم کی تھی۔

شام اور عراق کے بعد اب لبنان

سیاسی مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے مابین، جو خطے میں ایک دوسرے کے دیرینہ حریف ہیں، پہلے ہی علاقے کی بدامنی کی شکار ریاستوں میں کافی کشمکش چل رہی ہے، جیسے کہ شام اور عراق میں۔ اب لبنان میں، جو اب تک سیاسی اور اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہا تھا، الحریری کی طرف سے سعودی عرب میں استعفے کا اعلان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ تہران اور ریاض کے مابین اسی کشیدگی کا ایک میدان اب لبنان بھی بن گیا ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ شامی تنازعے میں سعودی عرب اسد حکومت کے سخت خلاف ہے اور اس بات پر بہت غیر مطمئن بھی کہ شامی جنگ میں اسد کے اتحادیوں کے طور پر ایران اور حزب اللہ بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اے پی نے لکھا ہے کہ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ شام اور عراق میں اسے حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث تضحیک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب یہ بھی کہہ چکا ہے کہ وہ قبول نہیں کرے گا کہ لبنان میں یہی عسکریت پسند گروپ کسی بھی مخلوط ‌حکومت میں شامل ہو۔

اسی پس منظر میں سعودی عرب اور خلیج کے علاقے میں اس کی قریبی اتحادی ریاستیں بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنے تمام شہریوں کو یہ حکم بھی دے چکی ہیں کہ وہ فوری طور پر لبنان سے رخصت ہو جائیں۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق لبنانی عوام اس وقت شدید نوعیت کے خدشات کا شکار ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے ملک میں حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ دوسری طرف ماہرین کو تشویش یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کی حلیف خلیجی ریاستوں کا لبنان کے بارے میں موجودہ رویہ اور سعد الحریری کا ابھی تک وطن واپس نہ لوٹ سکنا ان خدشات کو تقویت دے رہے ہیں کہ اب لبنان میں بھی ایک بحران سر اٹھاتا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
جرمنی نے حالیہ عرصے کے دوران سیاسی پناہ سے متعلق نئے سخت قوانین اور ضوابط متعارف کرائے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پانامہ نظر ثانی کیس کے تفصیلی تحریری فیصلے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »