دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

جے آئی ٹی میں شامل افسران کی جانوں کو خطرہ ہے معروف صحافی رؤف کلاسرا
تاریخ :   08-01-2019

اسلام آباد ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ جے آئی ٹی میں شامل افسران کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پانامہ کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی میں شامل افسران کی جانوں کو بھی خطرہ

تھا اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں فوج کے بھی دو افسران شامل تھے۔
ایک آئی ایس آئی کے بریگیڈئیر تھے اور ایک ایم آئی اے کے افسر تھے۔ اُس وقت ان تمام افسران نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا کہ ہماری جانوں کو خطرہ ہے اور ہمارے اہل خانہ کو بھی دھمکایا جا رہا ہے۔ ان اکا شارہ سویلین ایجنسی کی طرف تھا۔ جس پر سپریم کورٹ کے اُس وقت کے بنچ نے فوری ایکشن لیا تھا، اور انہوں نے ان کو تحفظ کے لیے رینجرز فراہم کی تھی وجاد ضیا کو غالباً ابھی تک مل رہی تھی۔
معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس مرتبہ سابق صدر آصف علی زرداری کے کیس میں جو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں شامل افسران نے بھی باقاعدہ سپریم کورٹ کو لکھ کر بھیجا ہے کہ ہماری جانوں کو بھی خطرات ہے۔ جن لوگوں نے سپریم کورٹ کو اپنی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے آگاہ کیا ان کی تعداد 54 ہے جن میں جے آئی ٹی ممبران بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان افراد میں نیب ، ایف آئی اے، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، گواہ کے طور پر پیش ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہم نے یہ سب کیا لیکن اب ہماری جانوں کو خطرات ہیں۔ ہمارے اہل خانہ کی جان کو اور یہاں تک کہ ہماری نوکریاں جانے کا بھی خطرہ ہے۔ چیف جسٹس نے میگا منی لانڈرنگ کا کیس نیب کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ 54 افراد کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ انہوں نے کہ پاکستان میں بھی کچھ ایسی فیمیلیز بھی ہیں جو پاکستان میں مافیا کی حیثیت رکھتی ہے، ان فیمیلز کو جس سے ڈرنا چاہئیے یہ لوگ اُلٹا ان کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔
یہ لوگ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ انہوں نے پانامہ کی جے آئی ٹی کو بھی دھمکایا تھا اور اب جب آصف زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو اس جے آئی ٹی کو بھی دھمکایا جا رہا ہے۔ وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری جانوں کو بھی خطرہ ہے۔ یہ ایک فلم کی کہانی جیسا لگ رہا ہے کیونکہ یہ فیمیلیز کسی سے نہیں ڈرتیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ ان افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا کرتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس 24 دسمبر 2018ء کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جعلی اکاؤنٹ کیس اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔ جس میں جے آئی ٹی نے آصف زرداری اور اومنی گروپ کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری اور ملک ریاض کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کے لیے آصف زرداری کا ”بڑے صاحب“ کا کوڈ نام استعمال کیا جاتا تھا،جے آئی ٹی نے بتایا کہ بڑے صاحب کے نام پر 265 ملین روپے نکلوائے گی۔
جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس نوعیت کے مزید کئی انکشافات کیے جس کے بعد اس جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں 27 دسمبر 2018ء کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں شامل آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل )میں ڈالنے کی منظوری دی گئی تھی جس پر اگلے ہی روز عملدرآمد کیا گیا اور جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل تمام 172 افراد کے ناموں کو ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
راجہ رام پولیس نے بے گناہ شہری اٹھا لیا بیٹی کا جہیز توڑ دیا.
قومی ائیر لائن پی آئی اے نے اپنا ''مارخور'' کا نیلے رنگ کا لوگو ہٹا کر پُرانا لوگو بحال کرنے کا فیصلہ
Translate News »