وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

جرمن کار ساز کمپنی آؤڈی کے سربراہ گرفتار
تاریخ :   19-06-2018

جرمنی (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں مسلسل پھیلتے جا رہے ڈیزل اسکینڈل میں اب معروف کار ساز ادارے آؤڈی کے سربراہ رُوپرٹ شٹاڈلر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آؤڈی موٹر گاڑیاں تیار کرنے والے بہت بڑے جرمن صنعتی گروپ فوکس ویگن کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ سے منگل انیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق رُوپرٹ شٹاڈلر کو پیر اٹھارہ جون کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد فوکس ویگن گروپ کے لیے اس کی یہ جدوجہد مزید مشکل ہو گئی کہ کسی طرح وہ اس اسکینڈل اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو محدود کر سکے، جس کا سامنا اب اس گروپ کی تیار کردہ موٹر گاڑیوں کے کئی برانڈز کو ہے۔

جرمنی میں موٹر گاڑیوں کے ڈیزل اسکینڈل سے مراد یہ انکشافات ہیں کہ کئی جرمن کارساز اداروں نے اپنی تیار کردہ گاڑیوں میں ایسے سافٹ ویئر لگائے تھے، جو ان گاڑ‌یوں سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں کی مقدار اصل سے کم بتاتے ہیں۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ تر ڈیزل سے چلنے والی وہ گاڑیاں بھی جرمن اور یورپی منڈیوں میں کافی ماحول دوست ثابت کر کے زیادہ سے زیادہ بیچی جائیں، جو ان سے خارج ہونے والے بہت زیادہ زہریلے دھوئیں اور ماحول دشمن مادوں کے باوجود ’کم خطرناک اور زیادہ ماحول دوست‘ بنا کر پیش کی جاتی رہی تھیں۔

اس صنعتی تکنیکی دھوکا دہی میں بنیادی کام وہ سافٹ ویئر کرتا تھا، جو ان گاڑیوں سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کے حجم کو اصل سے کم بتاتا تھا۔

یہ کام مبینہ طور پر صرف فوکس ویگن گروپ اور اس کے ذیلی اداروں نے ہی نہیں کیا تھا بلکہ مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والی کمپنی ڈائملر نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اب تک ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ڈائملر کو بھی یورپ بھر سے اپنی کئی لاکھ مرسیڈیز گاڑیاں واپس بلانے کا حکم دیا جا چکا ہے تاکہ ان گاڑیوں میں لگائے گئے غلط سافٹ ویئر کی اصلاح کی جا سکے۔

جرمنی کے فوکس ویگن گروپ کی ملکیت مختلف کار ساز اداروں کے لوگو

آؤڈی کی طرف سے اس کی گاڑیوں میں انجنوں سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کا حجم بتانے والا سافٹ ویئر غلط اور غیر قانونی تھا، اس امر کا انکشاف جرمنی کے متعلقہ سرکاری اداروں نے ستمبر 2015ء میں کیا تھا۔ اب آؤڈی کے سربراہ شٹاڈلر کی دفتر استغاثہ کی طرف سے تفتیشی مقاصد کے لیے گرفتاری کے بعد اس جرمن کار ساز ادارے اور اس کے مالک فوکس ویگن گروپ کو دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔

ان میں سے ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ فی الحال شٹاڈلر کا جانشین کون ہو گا تاکہ فوکس ویگن گروپ کے اس بہت منافع بخش ذیلی ادارے کو کوئی بڑا کاروباری نقصان نہ پہنچے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شٹاڈلر کی گرفتاری کے بعد فوکس ویگن گروپ کی ساکھ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیسے رکھا جائے۔

آج منگل انیس جون کو فوکس ویگن گروپ کے ایک ترجمان نے بتایا، ’’آؤڈی اور فوکس ویگن کے ڈائریکٹرز کے بورڈز اپنے مشورے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آؤڈی کا نیا چیف ایگزیکٹیو کون ہو گا۔ اس بارے میں ابھی تک صورت حال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

فوکس ویگن کی طرف سے ماضی میں کہا گیا تھا کہ اس گروپ نے اپنی گاڑیوں میں ڈیزل اسکینڈل کی وجہ بننے والا جو غلط سافٹ ویئر استعمال کیا تھا، اس کا علم صرف اس گروپ کے نچلی سطح کے مینیجرز کو ہی تھا۔ لیکن اسی سال یہ دعوے کافی حد تک غلط ثابت ہو گئے تھے۔

اس کا سبب امریکی حکام کی طرف سے فوکس ویگن کے سابق سربراہ مارٹن ونٹرکورن کے خلاف دائر کیے جانے والے مجرمانہ نوعیت کے وہ الزامات تھے، جن کے تحت ونٹرکورن کو بخوبی علم تھا کہ اس گروپ کی گاڑیوں میں غیر قانونی سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اب یہی چھان بین مزید پھیل کر آؤڈی کے سربراہ کے دفتر تک بھی پہنچ گئی ہے۔ جنوبی جرمن شہر میونخ میں ریاستی دفتر استغاثہ نے اسی مہینے آؤڈی کے سربراہ شٹاڈلر کے خلاف بھی اپنی چھان بین شروع کر دی تھی۔

شٹاڈلر کے خلاف دفتر استغاثہ کو شبہ ہے کہ انہیں نہ صرف یہ علم تھا کہ آؤڈی کی گاڑیوں میں بھی زہریلے مادوں کے اخراج کی پیمائش کرنے والا غیر قانونی سافٹ ویئر نصب کیا جا رہا تھا بلکہ انہوں نے ایسے گاڑیوں کی یورپی یونین کی داخلی منڈی میں فروخت کے عمل میں مدد بھی کی تھی۔

تازہ رپورٹوں کے مطابق روپرٹ شٹاڈلر کو فوکس ویگن گروپ اور آؤڈی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے طویل رخصت پر بھیج دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت اوربنگلہ دیش میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب، 41 سے زائد ہلاکتی‍ں
احتساب عدالت نے آشیانہ ہاوسنگ سکینڈل میں گرفتار احمد چیمہ اور شاہد شفیق جو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
Translate News »