گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG     قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ     No IMG     اپوزیشن ,جماعتوں نے منی بجٹ مسترد کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کو سونے کی کلاشنکوف کا تحفہ مل گیا     No IMG     سعودی لڑکی رھف کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو     No IMG     بنگلہ دیش,گارمنٹس ملازمین کا تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مظاہرہ     No IMG     بھارتی فوج مغربی سرحد کیساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں کیخلاف سخت ایکشن لینے سے نہیں ہچکچائے گی۔     No IMG     حکومت نے ایک ہفتے میں ہم سے 113 ارب روپے قرض لیاہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک     No IMG     وزیراعظم کی اپوزیشن پر شدید تنقید     No IMG     چین کی عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کینیڈا کے شہری کی 15 سال قید کی سزا کو پھانسی میں تبدیل کردیا     No IMG    

جرمن کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، آؤڈی اور پورشے میں ہڑتال
تاریخ :   02-02-2018

جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں آج جمعہ کے دن کاریں بنانے والے بڑے اداروں میں ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ ان اداروں کے ہزاروں ملازمین موجودہ تنخواہوں کی شرح پر عدم اطمینان رکھتے ہیں۔

جن کار ساز اداروں میں ورکرز نے کام چھوڑ کر اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی ہے، ان میں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، آؤڈی اور پورشے شامل ہیں۔ اس ہڑتال

میں دھات کی صنعت اور الیکٹرانک انڈسٹری کے ہزاروں ملازمین بھی شامل ہیں۔

جرمن شہر میونخ میں واقع بی ایم ڈبلیو کے مرکزی کارخانے میں سات ہزار ملازمین ہڑتال میں شریک ہیں۔ بی ایم ڈبلیو کا کاریں بنانے والا پلانٹ ڈِنگولفنگ (Dingolfing) میں ہے اور وہاں 13 ہزار 700 ملازمین اس بڑے صنعتی ایکشن میں شریک ہوئے۔

ہڑتال میں شریک ایک ورکر رابرٹ گراشی کا کہنا ہے کہ اب اس ہڑتال کی وجہ سے جمعہ کے دن سولہ سو کاریں پوری طرح تیار نہیں کی جا سکیں گی۔ بی ایم ڈبلیو کے ڈنگولفنگ پلانٹ پر روزانہ کی بنیاد پر اتنی ہی کاریں مکمل کر کے کارخانے سے باہر نکالی جاتی ہیں۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب میں ہڑتال کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین اپنی اپنی شفٹوں پر نہیں پہنچے۔ جرمن شہر اشٹٹ گارٹ میں نائٹ شفٹ نہ کرنے والے ورکروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔ اشٹٹ گارٹ کو مرسیڈیز بنانے والی ڈائملر کمپنی کا شہر قرار دیا جاتا ہے۔

ہڑتال کا سلسلہ گزشتہ دو ایام سے جاری ہے۔ مختلف فیکٹریوں میں دو لاکھ کے قریب ورکرز ہڑتال کر چکے ہیں

اسی طرح جرمن صوبے باویریا میں آؤڈی کے دو کارخانوں میں بھی کام کرنے والے ملازمین جمعے کی صبح تک نہیں پہنچے۔ ان فیکٹریوں میں ملازمین کی ہڑتال کی توثیق تو مقامی یونین نے کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آؤڈی کی فیکٹری میں کتنے ملازمین ہڑتال پر ہیں۔

ہڑتال کا سلسلہ گزشتہ دو ایام سے جاری ہے۔ مختلف فیکٹریوں میں دو لاکھ کے قریب ورکرز ہڑتال کر چکے ہیں اور آج جمعے کے دن ہڑتال کرنے والے ملازمین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔

ہڑتال کا اعلان کرنے والی یونین اجرتوں میں چھ فیصد اضافے کا مطالبہ رکھتی ہے۔ یونین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگلے دو برسوں میں ملازمین کے لیے ایک ہفتے کے دوران کام کرنے کے گھنٹے کم کر کے اٹھائیس کر دیے

Print Friendly, PDF & Email
امریکا دنیا بھر سے روسی شہریوں کو چن چن کر حراست میں لے رہا ہے۔,روس
ایران حجاب کی خلاف ورزی، دو درجن سے زائد ایرانی خواتین گرفتار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »