آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

جرمن کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، آؤڈی اور پورشے میں ہڑتال
تاریخ :   02-02-2018

جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں آج جمعہ کے دن کاریں بنانے والے بڑے اداروں میں ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ ان اداروں کے ہزاروں ملازمین موجودہ تنخواہوں کی شرح پر عدم اطمینان رکھتے ہیں۔

جن کار ساز اداروں میں ورکرز نے کام چھوڑ کر اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی ہے، ان میں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، آؤڈی اور پورشے شامل ہیں۔ اس ہڑتال

میں دھات کی صنعت اور الیکٹرانک انڈسٹری کے ہزاروں ملازمین بھی شامل ہیں۔

جرمن شہر میونخ میں واقع بی ایم ڈبلیو کے مرکزی کارخانے میں سات ہزار ملازمین ہڑتال میں شریک ہیں۔ بی ایم ڈبلیو کا کاریں بنانے والا پلانٹ ڈِنگولفنگ (Dingolfing) میں ہے اور وہاں 13 ہزار 700 ملازمین اس بڑے صنعتی ایکشن میں شریک ہوئے۔

ہڑتال میں شریک ایک ورکر رابرٹ گراشی کا کہنا ہے کہ اب اس ہڑتال کی وجہ سے جمعہ کے دن سولہ سو کاریں پوری طرح تیار نہیں کی جا سکیں گی۔ بی ایم ڈبلیو کے ڈنگولفنگ پلانٹ پر روزانہ کی بنیاد پر اتنی ہی کاریں مکمل کر کے کارخانے سے باہر نکالی جاتی ہیں۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب میں ہڑتال کی وجہ سے فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین اپنی اپنی شفٹوں پر نہیں پہنچے۔ جرمن شہر اشٹٹ گارٹ میں نائٹ شفٹ نہ کرنے والے ورکروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔ اشٹٹ گارٹ کو مرسیڈیز بنانے والی ڈائملر کمپنی کا شہر قرار دیا جاتا ہے۔

ہڑتال کا سلسلہ گزشتہ دو ایام سے جاری ہے۔ مختلف فیکٹریوں میں دو لاکھ کے قریب ورکرز ہڑتال کر چکے ہیں

اسی طرح جرمن صوبے باویریا میں آؤڈی کے دو کارخانوں میں بھی کام کرنے والے ملازمین جمعے کی صبح تک نہیں پہنچے۔ ان فیکٹریوں میں ملازمین کی ہڑتال کی توثیق تو مقامی یونین نے کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آؤڈی کی فیکٹری میں کتنے ملازمین ہڑتال پر ہیں۔

ہڑتال کا سلسلہ گزشتہ دو ایام سے جاری ہے۔ مختلف فیکٹریوں میں دو لاکھ کے قریب ورکرز ہڑتال کر چکے ہیں اور آج جمعے کے دن ہڑتال کرنے والے ملازمین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔

ہڑتال کا اعلان کرنے والی یونین اجرتوں میں چھ فیصد اضافے کا مطالبہ رکھتی ہے۔ یونین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگلے دو برسوں میں ملازمین کے لیے ایک ہفتے کے دوران کام کرنے کے گھنٹے کم کر کے اٹھائیس کر دیے

Print Friendly, PDF & Email
امریکا دنیا بھر سے روسی شہریوں کو چن چن کر حراست میں لے رہا ہے۔,روس
ایران حجاب کی خلاف ورزی، دو درجن سے زائد ایرانی خواتین گرفتار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »