چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

جرمن فوج میں دائیں بازو کا رجحان رکھنے والے نواسی انتہاپسندوں کی شناخت
تاریخ :   26-05-2018

جرمن ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )فوج میں دائیں بازو اور مسلم انتہا پسندوں کی شناخت کی گئی ہے۔ فنکے میڈیا گروپ نے یہ رپورٹ جرمن وزارت دفاع کے حوالے سے جاری کی ہے۔

جرمنی کے فنکے میڈیا گروپ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمن فوج میں دائیں بازو کا رجحان رکھنے والے نواسی انتہاپسندوں کی شناخت ہوئی ہے۔ ان انتہا پسندوں کی تلاش کے اس عمل کے دوران ہی خفیہ سروسز کے اہلکاروں کو چوبیس مسلم انتہا پسندوں کے بارے میں بھی علم ہوا۔ جرمن فوج میں انتہا پسندی کا یہ رجحان سن 2011 کے بعد سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔

جرمن فوج کو مسلسل اس دباؤ کا سامنا ہے کہ نازیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کی تلاش اور شناخت کی جائے اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جرمن فوج میں انتہا پسند عناصر  کی مبینہ موجودگی کے ایسے اندازے اُس وقت شدت اختیار کر گئے تھے، جب فوج کے ایک لیفٹیننٹ رینک کے افسر کے بارے میں علم ہوا کہ وہ شامی مہاجر کا لبادہ اوڑھ کر ملک میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف تھا۔

فنکے میڈیا گروپ کو جرمن فوج کی کاؤنٹر انٹیلیجنس سروسز (MAD) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت فوج میں ایسے رجحان میں کمی پائی گئی ہے۔ اس خفیہ ادارے نے مزید بتایا کہ جو دائیں بازو اور مسلم انتہا پسندوں کی تعداد سامنے آئی ہے، وہ ماضی کے مقابلے میں خاصی کم ہو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سن 2011 کے بعد سے فوج میں بھرتیوں کے عمل کی سخت نگرانی بھی ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی فوج میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے مشتبہ افراد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ اب جرمن فوج میں لازمی دو سال کے لیے خدمات بجا لانے کا قانون نرم کیا جا چکا ہے۔ دو سال کے لیے لازمی فوج کی ملازمت کرنے کے دور کے نوے مشتبہ ملازمین کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے تھا۔

جرمن فوج کے پیرا ملٹری کمشنز ہانس پیٹر بارٹلز نے فنکے میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرمن فوج میں نازیوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ پیرا ملٹری کمشنر نے مزید واضح کیا کہ فوج میں نوکری حاصل کرنے کی ابتدائی سطح پر ایسے افراد کو خارج کر دیا جائے تو یہ بہتر ہوتا ہے۔

فوج میں انتہا پسندی کے رجحان کے بعد کاؤنٹر ملٹری انٹیلیجنس نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے اور اُن افراد کی خاص طور پر چھان پھٹک کی جاتی ہے جو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے اپنا فارم جمع کرواتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت نے بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنا شروع کردیا
يہوديوں کی عبادت گاہ پر حملہ تین افراد کے خلاف کاروائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »