دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

جرمن فوج میں دائیں بازو کا رجحان رکھنے والے نواسی انتہاپسندوں کی شناخت
تاریخ :   26-05-2018

جرمن ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )فوج میں دائیں بازو اور مسلم انتہا پسندوں کی شناخت کی گئی ہے۔ فنکے میڈیا گروپ نے یہ رپورٹ جرمن وزارت دفاع کے حوالے سے جاری کی ہے۔

جرمنی کے فنکے میڈیا گروپ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمن فوج میں دائیں بازو کا رجحان رکھنے والے نواسی انتہاپسندوں کی شناخت ہوئی ہے۔ ان انتہا پسندوں کی تلاش کے اس عمل کے دوران ہی خفیہ سروسز کے اہلکاروں کو چوبیس مسلم انتہا پسندوں کے بارے میں بھی علم ہوا۔ جرمن فوج میں انتہا پسندی کا یہ رجحان سن 2011 کے بعد سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔

جرمن فوج کو مسلسل اس دباؤ کا سامنا ہے کہ نازیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کی تلاش اور شناخت کی جائے اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جرمن فوج میں انتہا پسند عناصر  کی مبینہ موجودگی کے ایسے اندازے اُس وقت شدت اختیار کر گئے تھے، جب فوج کے ایک لیفٹیننٹ رینک کے افسر کے بارے میں علم ہوا کہ وہ شامی مہاجر کا لبادہ اوڑھ کر ملک میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف تھا۔

فنکے میڈیا گروپ کو جرمن فوج کی کاؤنٹر انٹیلیجنس سروسز (MAD) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت فوج میں ایسے رجحان میں کمی پائی گئی ہے۔ اس خفیہ ادارے نے مزید بتایا کہ جو دائیں بازو اور مسلم انتہا پسندوں کی تعداد سامنے آئی ہے، وہ ماضی کے مقابلے میں خاصی کم ہو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سن 2011 کے بعد سے فوج میں بھرتیوں کے عمل کی سخت نگرانی بھی ہے۔

جرمن وزارت دفاع کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی فوج میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے مشتبہ افراد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ اب جرمن فوج میں لازمی دو سال کے لیے خدمات بجا لانے کا قانون نرم کیا جا چکا ہے۔ دو سال کے لیے لازمی فوج کی ملازمت کرنے کے دور کے نوے مشتبہ ملازمین کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے تھا۔

جرمن فوج کے پیرا ملٹری کمشنز ہانس پیٹر بارٹلز نے فنکے میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرمن فوج میں نازیوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ پیرا ملٹری کمشنر نے مزید واضح کیا کہ فوج میں نوکری حاصل کرنے کی ابتدائی سطح پر ایسے افراد کو خارج کر دیا جائے تو یہ بہتر ہوتا ہے۔

فوج میں انتہا پسندی کے رجحان کے بعد کاؤنٹر ملٹری انٹیلیجنس نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے اور اُن افراد کی خاص طور پر چھان پھٹک کی جاتی ہے جو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے اپنا فارم جمع کرواتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
بھارت نے بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنا شروع کردیا
يہوديوں کی عبادت گاہ پر حملہ تین افراد کے خلاف کاروائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »