بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کی طرف سے کراچی میں مذکورہ سوسائٹی کو قانونی دائرے میں لانے کی لیے 350 ارب کی پیشکش     No IMG     وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG    

جرمن دارالحکومت برلن میں نسل پرستی کے خلاف بڑا مارچ
تاریخ :   14-10-2018

برلن ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمن دارالحکومت برلن میں ہفتے کے دن نسل پرستی اور اجانب دشمنی کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں جرمنی بھر سے آئے افراد نے شرکت کی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کو مسترد کر دیا۔

جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہوئی اس ریلی میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس مارچ کے شرکا نے دائیں بازو کی انتہا پسندی کو بھی مسترد کر دیا۔

مظاہرین نے کہا کہ دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے انسانوں کے مابین پل تعمیر کیے جانا چاہییں۔ حالیہ برسوں میں اس مارچ کو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مارچ کو دائیں بازو کے نظریات کی حامل مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی عوامیت پسند نظریات کا جواب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
رمنی میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کی وجہ سے اے ایف ڈی نے عوامی حمایت حاصل کی ہے۔ جس کا ایک ثبوت گزشتہ برس منعقد ہوئے الیکشن میں اس پارٹی کی کامیابی بھی ہے۔

اے ایف ڈی جدید جرمنی میں پہلی مرتبہ پارلیمان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس پیشرفت کی وجہ سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی بھی واقع ہوئی ہے۔

حالیہ عرصے میں جرمنی کے کئی شہروں میں مہاجرت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ برلن میں ہونے والے اس مارچ کو منتظمین نے انتہا پسندانہ سوچ کا ایک زوردار جواب قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مارچ میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے لوگوں کو برلن آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ متعدد مزدور یونیںز کے علاوہ انسانی حقوق کے کئی اداروں نے بھی اس مارچ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس مارچ میں شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ مہاجرین اور تارکین وطن کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کرنے کے لیے بھی نعرے لگا رہے تھے۔ اس مارچ کے دوران موسیقی اور رقص کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

برلن میں منعقد ہ اس مارچ کے شرکا ناچتے رہے اور موسیقی سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔ برلن کے علاوہ جرمنی کے دیگر کئی دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں، جس میں جرمن عوام نسل پرستی، نفرت اور اجانب دشمنی کو مسترد کرتے نظر آ رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
ترکی سے رہائی پانے والے امریکی پادری اینڈریو برَنسن کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات
معروف صحافی و تجزیہ کارمجیب الرحمان شامی نے ترجمان پاک فوج کے حوالے سے نیا انکشاف کردیا
Translate News »