چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

جرمن حکومت نے ترک فوج کے چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دے دی
تاریخ :   02-02-2018

جرمن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)حکومت نے ترک فوج کے چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ہے کہ انقرہ اور برلن کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ترکی ان اہلکاروں کو ناکام فوجی بغاوت کا منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برلن حکومت کی طرف سے ترک فوج کے جن چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دی گئی ہے، ان میں وہ سابق کرنل بھی شامل ہے، جس کے بارے میں انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سیاسی پناہ دیے جانے کے سبب ان ترک شہریوں کو اب ان پر لگے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے واپس ترکی کے حوالے نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ پیش رفت انقرہ حکومت کی خفگی کا باعث بن سکتی ہے۔

ترکی میں جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے انقرہ اور یورپی ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

ترکی کا الزام ہے کہ سابق کرنل الہام نے جو اُس وقت انقرہ کی ملٹری اکیڈمی کا سربراہ تھا، ناکام فوجی بغاوت میں رنگ لیڈر کا کردار ادا کیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق اس رپورٹ پر تبصرے کے لیے جرمنی کی وزارت خارجہ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

ترکی میں جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے انقرہ اور یورپی ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ترک حکومت کی طرف سے اس بغاوت سے مبینہ تعلق کے شبے میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین اور فوجیوں کا حراست میں لیا جانا یا انہیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جانا بھی ہے۔

بغاوت سے مبینہ تعلق کے شبے میں ترکی میں ہزاروں سرکاری ملازمین اور فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے یا انہیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی میں بڑی تعداد میں جرمن شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ساتھ رابطوں کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تاہم برلن حکومت اس کی وجہ سیاسی مقاصد کو قرار دیتی ہے۔

علاوہ ازیں آج جمعہ دو فروری کو ہی یونان کی ایک عدالت نے بھی ایک ایسے ترک شہری کو انقرہ حکومت کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا، جس پر الزام ہے کہ وہ ترکی میں ہونے والے خودکش حملوں کی منصوبہ سازی میں شریک تھا۔ یونانی عدالت کے مطابق ترکی کے حوالے کیے جانے سے اس شخص کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
برطانوی عدالت نےلندن میں مسجد پر حملے کے مجرم کو تینتالیس سال قید کی سزا
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ بہت تماشہ ہوچکا، اب دھرنا گروپ کو ملک کی تقدیر سے کھیلنے نہیں دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »