دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG     جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں,۔چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG    

جرمن حکومت نے ترک فوج کے چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دے دی
تاریخ :   02-02-2018

جرمن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)حکومت نے ترک فوج کے چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ہے کہ انقرہ اور برلن کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ترکی ان اہلکاروں کو ناکام فوجی بغاوت کا منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برلن حکومت کی طرف سے ترک فوج کے جن چار سابق اہلکاروں کو سیاسی پناہ دی گئی ہے، ان میں وہ سابق کرنل بھی شامل ہے، جس کے بارے میں انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سیاسی پناہ دیے جانے کے سبب ان ترک شہریوں کو اب ان پر لگے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے واپس ترکی کے حوالے نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ پیش رفت انقرہ حکومت کی خفگی کا باعث بن سکتی ہے۔

ترکی میں جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے انقرہ اور یورپی ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

ترکی کا الزام ہے کہ سابق کرنل الہام نے جو اُس وقت انقرہ کی ملٹری اکیڈمی کا سربراہ تھا، ناکام فوجی بغاوت میں رنگ لیڈر کا کردار ادا کیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق اس رپورٹ پر تبصرے کے لیے جرمنی کی وزارت خارجہ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

ترکی میں جولائی 2016ء میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے انقرہ اور یورپی ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ترک حکومت کی طرف سے اس بغاوت سے مبینہ تعلق کے شبے میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین اور فوجیوں کا حراست میں لیا جانا یا انہیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جانا بھی ہے۔

بغاوت سے مبینہ تعلق کے شبے میں ترکی میں ہزاروں سرکاری ملازمین اور فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے یا انہیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی میں بڑی تعداد میں جرمن شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ساتھ رابطوں کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تاہم برلن حکومت اس کی وجہ سیاسی مقاصد کو قرار دیتی ہے۔

علاوہ ازیں آج جمعہ دو فروری کو ہی یونان کی ایک عدالت نے بھی ایک ایسے ترک شہری کو انقرہ حکومت کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا، جس پر الزام ہے کہ وہ ترکی میں ہونے والے خودکش حملوں کی منصوبہ سازی میں شریک تھا۔ یونانی عدالت کے مطابق ترکی کے حوالے کیے جانے سے اس شخص کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
برطانوی عدالت نےلندن میں مسجد پر حملے کے مجرم کو تینتالیس سال قید کی سزا
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ بہت تماشہ ہوچکا، اب دھرنا گروپ کو ملک کی تقدیر سے کھیلنے نہیں دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »