امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

جرمنی

  • جرمنی میں چاقو بردار شخص کا بس مسافروں پر حملے

    لیئوبِک ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) جرمنی میں حکام کے مطابق شمالی شہر لیئوبِک میں ایک شخص نے ایک بس کے مسافروں پر چاقو سے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس
    حملے کے محرک کا تعین نہیں ہو سکا۔
    لیئو بِک کے مقامی اخبار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے ایک عینی گواہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسافروں سے بھری یہ بس شہر کے قریب ہی واقع ’ٹراوِن موئینڈے‘ نامی ساحل ِ سمندر پر جا رہی تھی جب ایک شخص نے مسافروں پر چاقو تان لیا۔ اخبار کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی اس رپورٹ کے مطابق بس ڈرائیور نے فوری طور پر بس روک دی تاکہ مسافر بس سے نکل سکیں۔

    لوتھر ایچ نامی ایک عینی گواہ نے، جو حملے کے مقام سے قریب ہی رہتا ہے، اخبار کو بتایا،’’مسافروں نے بس سے باہر چھلانگ لگا دی۔ وہ چلا رہے تھے۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔ زخمی افراد کو بس سے باہر نکالا گیا۔ حملہ آور کے ہاتھ میں گھریلو استعمال کا ایک چاقو تھا۔‘‘
    لیئوبِک کی چیف پراسیکیوٹر اُرزلا ہنگسٹ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا،’’ فی الحال ہم حملہ آور کی شناخت اور حملے کے محرک کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کر سکتے۔‘‘

    مقامی پولیس نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ بس کے مسافروں پر حملے میں لوگ زخمی ہوئے ہیں لیکن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ٹویٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آور پولیس کی حراست میں ہے۔

    جرمن پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر مذہبی انتہا پسندی کا محرک ہو سکتا ہے

  • جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بین الاقوامی نظام کے لیے مزید احترام کا مطالبہ

    جرمن( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بین الاقوامی نظام کے لیے مزید احترام کا مطالبہ کیا ہے۔ برسلز میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اجلاس کے بعد ماس نے دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کا چار فیصد تک کرنے کے ٹرمپ کے مطالبے پر تنقید کی۔ ان کے بقول عسکری شعبے پر اخراجات بڑھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ ماس نے کہا کہ فوجی اخراجات بڑھانے سے زیادہ اہم بین الاقوامی قوانین و ضابطوں کا احترام ہے۔

  • یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات، تنازعے کے حل کے لیے امریکی پیشکش

    جرمن (ورلڑ فاسٹ نیوز فار یو) امریکا نے یورپی گاڑیوں پر اضافی درآمدی محصولات عائد نہ کرنے کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ جرمن روزنامے ’ہانڈلزبلاٹ‘ کے مطابق واشنگٹن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک اگر امریکی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس ہٹا دیں، تو امریکا بھی ایسے اضافی محصولات عائد نہیں کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بات جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل نے جرمن کارساز اداروں فوکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور ڈائملر کے امریکی نمائندوں سے ایک ملاقات میں کہی۔ اس موقع پر گرینل نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن کی طرف سے انہیں یورپی یونین اور جرمنی کے ساتھ پیدا ہونے والے اس تجارتی تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

  • جرمنی پہنچنے پر مہاجرین کے ساتھ اب کیا ہو گا؟

    برلن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ہنگری نے یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر ایسے ’ٹرانزٹ زونز‘ قائم کر رکھے ہیں، جہاں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو بند کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب جرمنی بھی آسٹریا کی سرحد پر ایسے ہی مراکز قائم کر رہا ہے؟
    جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور باویریا میں اس کی ہم خیال پارٹی کرسچین سوشل یونین نے شدید بحث و مباحثے کے بعد

     

    سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسی طرز کی پالیسی اس سے قبل ہنگری میں موجود ہے۔ اس پالیسی کے تحت سیاسی پناہ کے درخواست گزار اب جرمنی میں براہ راست داخل نہیں ہو سکتے۔
    ہنگری نے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے لائحہ عمل کچھ یہ اختیار کر رکھا ہے کہ سب سے پہلے تو انہیں سربیا کی سرحد پر نصب خاردار تار والی دیوار کے قریب روکا جاتا ہے، جہاں سے انہیں کنٹینروں سے بنائے ہوئے ’ٹرانزٹ زونز‘ میں لایا جاتا ہے۔
    ہنگری ہلسنکی کمیٹی نامی امدادی گروپ کے مطابق سربیا کے ساتھ ملحق سرحدی کراسنگ سے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک تارک وطن کو ہنگری میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ ہنگری کی حکومت تاہم ان اعداد و شمار کو رد کرتی ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم کے ترجمان ژانوس لازار کے مطابق، ’’یہ ہمارا قصور نہیں ہے کہ صرف کچھ ہی افراد ہنگری کا رخ کرتے ہیں۔‘‘

    امدادی اداروں کے مطابق ہنگری کی سرحد پر اب بھی قریب چار ہزار افراد ایسے ہیں، جو ہنگری میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔

    ہنگری ان ٹرانزٹ زونز کو ’نو مین لینڈ‘ قرار دیتا ہے۔ یہاں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو رجسٹر کیا جاتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کسی نے یورپی یونین کی کسی اور رکن ریاست میں تو سیاسی پناہ کی درخواست جمع نہیں کرائی۔ اگر کوئی تارک وطن کسی اور ملک میں سیاسی پناہ جمع کر چکا ہوتا ہے، تو اسے ٹرانزٹ زون ہی سے ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی تارک وطن کی سیاسی پناہ کی درخواست مضبوط نہ ہو تو بھی اسے ہنگری سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں چند گھنٹے اور کچھ صورتوں میں پندرہ دن تک لگ سکتے ہیں۔
    سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر یا ان تارکین وطن کو سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کے لیے نااہل تصور کرنے پر انہیں سربیا واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے ہنگری میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

    اصولی طور پر ان افراد کو اپنے خلاف فیصلے کا حق دیا گیا ہے، تاہم امدادی اداروں کے مطابق یہ حق فقط کاغذوں کی حد تک محدود ہے جب کہ عملی طور پر یہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق فیصلہ اور ان کی ملک بدری اتنی تیز رفتاری سے ہوتی ہے کہ کسی مہاجر کے پاس اپیل کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

    سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرنے پر بھی ان تارکین وطن کو ان ٹرانزٹ زونز میں روک لیا جاتا ہے اور انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ان مراکز سے باہر نہ نکلیں۔ ہنگری میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے کے پورے عمل میں تین سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں اور اس مدت میں کسی مہاجر کو اس ٹرانزٹ مرکز ہی میں رکنا پڑتا ہے۔

    جرمنی میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ اگر برلن حکومت آسٹریا کی سرحد پر ٹرانزٹ زونز قائم کرتی ہے، تو وہ کس طرح ہنگری کے ٹرانزٹ زونز سے مختلف ہوں گے؟

  • جرمن چانسلر انگیلا میرکل چودہ ممالک کے ساتھ ایک ڈیل کو حتمی شکل دینے میں کامیاب

    جرمن ۔(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) چانسلر انگیلا میرکل چودہ ممالک کے ساتھ ایک ڈیل کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو گئی ہیں، جس کے تحت یہ ممالک جرمنی میں موجود مہاجرین کو فوری طور پر واپس اپنے ممالک بلوانے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

    جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سیاسی پارٹیوں کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ چودہ یورپی ممالک جرمنی میں موجود مہاجرین کو فوری طور پر واپس لینے پر متفق ہو گئے ہیں۔

    ڈی پی اے کے مطابق اسے آٹھ صفحات پر مشتمل اس خط کی ایک نقل موصول ہوئی ہے، جس میں اتحادیوں کو اس ڈیل کے بارے میں سرکاری طور پر مطلع کیا گیا ہے۔

    جرمنی کی وسیع تر مخلوط حکومت میں میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے علاوہ باویریا میں اس کی ہم خیال کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) شامل ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ اس ڈیل کے تحت یہ چودہ ممالک ایسے مہاجرین کو قبول کرنے کو تیار ہیں، جو اس وقت جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں یا پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں۔

    ساتھ ہی میرکل نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ ایسے مہاجرین جو پہلے کسی اور یورپی ملک میں پناہ کی درخواست جمع کرا چکے ہیں، انہیں ملکی سرحدوں پر قائم کردہ بڑے ‘اینکر سینٹرز‘ میں رکھا جائے گا اور وہیں ان کی درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی۔

    میرکل کی طرف سے یہ اہم ڈیل ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب انہیں مہاجرین کی پالیسی پر اپنی ہی ہم خیال سیاسی جماعت سی ایس یو کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

    اس پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کی خاطر یورپی یونین کی سطح پر جولائی تک ڈیل طے نہیں ہوتی تو وہ حکومت سے الگ بھی ہو سکتی ہے۔

  • جنوبی کوریا نے جرمنی کو 0-2 سے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا

    روس (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ مقابلوں میں جنوبی کوریا نے دفاعی چیمپئن جرمنی کو 0-2 سے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

     

  • ترکی کے 1000 سے زائد سفارتکاروں نے جرمنی میں پناہ لینے کی درخواستیں

    جرمن(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)   وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو سال میں ترکی کے 1000 سے زائد سفارتکاروں نے جرمنی میں پناہ لینے کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔

    جرمن اخبار کے مطابق ترکی میں ناکام فوجی کودتا کے بعد انقرہ اور برلن کے درمیان دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی کے 1177 سفارتکاروں نے پناہ کی درخواست دی رکھی ہے۔ جرمن حکام کے مطابق جولائی 2016 سے لیکر جون 2018 تک 296 افراد نے سفارتی پاسپورٹوں جبکہ 881 افراد نے حکومتی پاسپورٹوں کے ذریعہ پانہ کی درخواست دی ہے۔

  • جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں

    جرمنی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں جسم فروشی کا کاروبار زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر کے منظم گروہوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں سزائیں دلوانا انتہائی مشکل عمل ثابت ہوتا ہے کیونکہ اکثر خواتین مجرموں کے خلاف بیان دینے سے ڈرتی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اس بارے میں جرمنی کے تجربہ کار تفتیشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ڈوئچے ویلے نے جرمنی کے جنوبی صوبے باڈن ورٹمبرگ میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے صوبائی ادارے کے اعلیٰ اہلکار وولفگانگ فِنک کے ساتھ بات چیت کی۔ فِنک گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے منظم جرائم پیشہ گروپوں اور انسانوں کی تجارت سے متعلقہ جرائم کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    ڈوئچے ویلے کی دو خاتون صحافیوں ایستھر فیلڈن اور نومی کونراڈ کے ساتھ اس انٹرویو میں وولفگانگ فِنک نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جسم فروشی یا ’ریڈ لائٹ اکانومی‘ کس طرح کام کرتی ہے اور اس شعبے میں فعال خواتین کو کس کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں، وولفگانگ فِنک نے بتایا، ’’سب سے پہلے تو ان خواتین میں تفریق کرنا پڑے گی، جو کسی قحبہ خانے میں جسم فروشی کرتی ہیں اور وہ جو سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگوں کو جنسی خدمات کی پیشکش کرتی ہیں۔ قحبہ خانوں میں کام کرنے والی خواتین کے حالات کار معمولی سے بہتر ہوتے ہیں جبکہ سڑکوں پر جسم فروشی کرنے والی عورتوں کے حالات کار زیادہ پرخطر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف قحبہ خانے دن رات کھلے رہتے ہیں اور وہاں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ وہاں کام کرنے والی عورتیں اکثر باہر نکلتی ہی نہیں۔ ہمیں کئی بار مختلف واقعات میں تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ان خواتین میں سے بہت سی تو یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ جس دن ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی، اس دن مہینہ اور تاریخ کیا تھے۔‘‘

    وولفگانگ فِنک کے بقول جرمنی میں مقیم تارکین وطن کے پس منظر کی حامل خواتین میں جرمنی میں یا ان  کے آبائی ممالک میں غربت کے باعث ’مالی محرومی کی وجہ سے جسم فروشی‘ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ان خواتین کو ان کی جنسی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ افراط زر میں اضافے کے باوجود کم بھی ہوا ہے۔ فِنک نے بتایا کہ مختلف شہروں کے ریڈ لائٹ علاقوں میں بہت سی خواتین کو ان کی جسمانی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ تیس یا چالیس یورو فی بیس منٹ تک ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب جسم فروشی کے لیے مختلف شہروں کے مخصوص علاقوں کے مقابلے میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

    وولفگانگ فِنک نے اس انٹرویو میں جو بہت تکلیف دہ بات بتائی وہ یہ تھی کہ اس شعبے میں خواتین کو اکثر ایک ’تجارتی شے‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس ’شے‘ کے حصول کے لیے انٹرنیٹ پر آرڈر بھی ایسے دیے جاتے ہیں جیسے کوئی کسی آن لائن کیٹیلاگ سے اپنے لیے جوتوں یا روزمرہ استعمال کی کسی ’چیز‘ کا آرڈر دیتا ہو۔

    جسم فروشی کے لیے جرمنی آنے والی یا جرائم پیشہ منظم گروہوں کی طرف سے اس ملک میں لائی جانے والی ایسی غیر ملکی خواتین جرمنی ہی کا رخ کیوں کرتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وولفگانگ فِنک نے کہا، ’’بڑی وجہ بطور ایک ریاست جرمنی کی بہت اچھی مالی حالت بھی ہے۔ جرمنی میں ایسی بہت سی خواتین کا تعلق مشرقی یورپی ممالک سے ہوتا ہے، جو اپنے آبائی ممالک میں اقتصادی اور مالیاتی دباؤ کے باعث اس ملک کا رخ کرتی ہیں۔ ایسی اکثر لڑکیوں اور خواتین کو یہ علم بھی ہوتا ہے کہ وہ جرمنی میں جسم فروشی کریں گی یا بظاہر کسی بار میں ملازمت کریں  گی۔ لیکن جو بات وہ نہیں جانتی ہوتیں، وہ یہ ہوتی ہے کہ ان سے ان کی ساری کمائی بھی چھین لی جائے گی۔‘‘

  • یورپی یونین میں اصلاحات، جرمنی اور فرانس میں اتفاق رائے

    جرمنی (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)اور فرانس نے یورپی یونین میں بہتری کے لیے اصلاحاتی تجاویز پر اتفاق کر لیا ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل کا منگل کی شام ملکی دارالحکومت برلن میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ یورپی یونین میں وسیع تر اصلاحات کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقدار، خوشحالی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے یورپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ جرمنی اور فرانس یورو زون کے لیے بجٹ کے تحت یونین میں اضافی سرمایہ کاری بھی کرنا چاہتے ہیں۔

  • جرمن کار ساز کمپنی آؤڈی کے سربراہ گرفتار

    جرمنی (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں مسلسل پھیلتے جا رہے ڈیزل اسکینڈل میں اب معروف کار ساز ادارے آؤڈی کے سربراہ رُوپرٹ شٹاڈلر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آؤڈی موٹر گاڑیاں تیار کرنے والے بہت بڑے جرمن صنعتی گروپ فوکس ویگن کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

    جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ سے منگل انیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق رُوپرٹ شٹاڈلر کو پیر اٹھارہ جون کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد فوکس ویگن گروپ کے لیے اس کی یہ جدوجہد مزید مشکل ہو گئی کہ کسی طرح وہ اس اسکینڈل اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو محدود کر سکے، جس کا سامنا اب اس گروپ کی تیار کردہ موٹر گاڑیوں کے کئی برانڈز کو ہے۔

    جرمنی میں موٹر گاڑیوں کے ڈیزل اسکینڈل سے مراد یہ انکشافات ہیں کہ کئی جرمن کارساز اداروں نے اپنی تیار کردہ گاڑیوں میں ایسے سافٹ ویئر لگائے تھے، جو ان گاڑ‌یوں سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں کی مقدار اصل سے کم بتاتے ہیں۔

    اس کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ تر ڈیزل سے چلنے والی وہ گاڑیاں بھی جرمن اور یورپی منڈیوں میں کافی ماحول دوست ثابت کر کے زیادہ سے زیادہ بیچی جائیں، جو ان سے خارج ہونے والے بہت زیادہ زہریلے دھوئیں اور ماحول دشمن مادوں کے باوجود ’کم خطرناک اور زیادہ ماحول دوست‘ بنا کر پیش کی جاتی رہی تھیں۔

    اس صنعتی تکنیکی دھوکا دہی میں بنیادی کام وہ سافٹ ویئر کرتا تھا، جو ان گاڑیوں سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کے حجم کو اصل سے کم بتاتا تھا۔

    یہ کام مبینہ طور پر صرف فوکس ویگن گروپ اور اس کے ذیلی اداروں نے ہی نہیں کیا تھا بلکہ مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والی کمپنی ڈائملر نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اب تک ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ڈائملر کو بھی یورپ بھر سے اپنی کئی لاکھ مرسیڈیز گاڑیاں واپس بلانے کا حکم دیا جا چکا ہے تاکہ ان گاڑیوں میں لگائے گئے غلط سافٹ ویئر کی اصلاح کی جا سکے۔

    جرمنی کے فوکس ویگن گروپ کی ملکیت مختلف کار ساز اداروں کے لوگو

    آؤڈی کی طرف سے اس کی گاڑیوں میں انجنوں سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کا حجم بتانے والا سافٹ ویئر غلط اور غیر قانونی تھا، اس امر کا انکشاف جرمنی کے متعلقہ سرکاری اداروں نے ستمبر 2015ء میں کیا تھا۔ اب آؤڈی کے سربراہ شٹاڈلر کی دفتر استغاثہ کی طرف سے تفتیشی مقاصد کے لیے گرفتاری کے بعد اس جرمن کار ساز ادارے اور اس کے مالک فوکس ویگن گروپ کو دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔

    ان میں سے ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ فی الحال شٹاڈلر کا جانشین کون ہو گا تاکہ فوکس ویگن گروپ کے اس بہت منافع بخش ذیلی ادارے کو کوئی بڑا کاروباری نقصان نہ پہنچے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شٹاڈلر کی گرفتاری کے بعد فوکس ویگن گروپ کی ساکھ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیسے رکھا جائے۔

    آج منگل انیس جون کو فوکس ویگن گروپ کے ایک ترجمان نے بتایا، ’’آؤڈی اور فوکس ویگن کے ڈائریکٹرز کے بورڈز اپنے مشورے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آؤڈی کا نیا چیف ایگزیکٹیو کون ہو گا۔ اس بارے میں ابھی تک صورت حال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

    فوکس ویگن کی طرف سے ماضی میں کہا گیا تھا کہ اس گروپ نے اپنی گاڑیوں میں ڈیزل اسکینڈل کی وجہ بننے والا جو غلط سافٹ ویئر استعمال کیا تھا، اس کا علم صرف اس گروپ کے نچلی سطح کے مینیجرز کو ہی تھا۔ لیکن اسی سال یہ دعوے کافی حد تک غلط ثابت ہو گئے تھے۔

    اس کا سبب امریکی حکام کی طرف سے فوکس ویگن کے سابق سربراہ مارٹن ونٹرکورن کے خلاف دائر کیے جانے والے مجرمانہ نوعیت کے وہ الزامات تھے، جن کے تحت ونٹرکورن کو بخوبی علم تھا کہ اس گروپ کی گاڑیوں میں غیر قانونی سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اب یہی چھان بین مزید پھیل کر آؤڈی کے سربراہ کے دفتر تک بھی پہنچ گئی ہے۔ جنوبی جرمن شہر میونخ میں ریاستی دفتر استغاثہ نے اسی مہینے آؤڈی کے سربراہ شٹاڈلر کے خلاف بھی اپنی چھان بین شروع کر دی تھی۔

    شٹاڈلر کے خلاف دفتر استغاثہ کو شبہ ہے کہ انہیں نہ صرف یہ علم تھا کہ آؤڈی کی گاڑیوں میں بھی زہریلے مادوں کے اخراج کی پیمائش کرنے والا غیر قانونی سافٹ ویئر نصب کیا جا رہا تھا بلکہ انہوں نے ایسے گاڑیوں کی یورپی یونین کی داخلی منڈی میں فروخت کے عمل میں مدد بھی کی تھی۔

    تازہ رپورٹوں کے مطابق روپرٹ شٹاڈلر کو فوکس ویگن گروپ اور آؤڈی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے طویل رخصت پر بھیج دیا ہے۔

  • امریکی سفیر کی جرمنی سے ملک بدری کے مطالبات شدید تر

    جرمنی ۔( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )میں کئی اہم رہنماؤں کے یہ مطالبات شدید تر ہو گئے ہیں کہ چانسلر میرکل کی حکومت کو برلن متعینہ متنازعہ امریکی سفیر رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل پر جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کا الزام ہے۔

    وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے منگل پانچ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ گرینل سیاسی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور معتمد ہیں۔ لیکن ان پر الزام ہے کہ وہ سیاسی اور سفارتی حوالے سے اپنے عہدے کی غیر جانبدارانہ نوعیت کے تقاضوں کے برعکس کئی بار جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    امریکی سفیر گرینل کی جرمن اور بالواسطہ طور پر یورپی داخلی سیاست میں مبینہ مداخلت جرمن اور یورپی سیاستدانوں کو اس لیے بھی ناگوار گزری ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری ڈیل اور پھر امریکا اور یورپی یونین کے مابین تجارتی محصولات کے تنازعے سمیت کئی شعبوں میں پائے جانے والے اختلافات کے باعث یورپی امریکی تعلقات پہلے ہی سے کھچاؤ کا شکار ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ اب جرمنی میں خاص کر یہ مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ برلن حکومت کو رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل نے برلن میں امریکی سفیر کے طور پر اپنےفرائض ابھی آٹھ مئی کو سنبھالے تھے۔ پھر اسی روز انہوں نے یہ غیر متوقع کام بھی کر دیا کہ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جرمن کمپنیوں کو ایران کے ساتھ اپنا ہر قسم کا کاروبار اس لیے بند کر دینا چاہیے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کے اخراج کا اعلان کر چکے ہیں۔

    گزشتہ ویک اینڈ پر رچرڈ گرینل اس وقت بھی یورپی رہنماؤں کو خفا کرنے کا باعث بنے جب دائیں بازو کی سوچ کا پرچار کرنے والی ایک ویب سائٹ ’برائٹ بارٹ‘ پر ان کا یہ بیان شائع ہوا کہ وہ ’یورپ بھر میں دیگر قدامت پسند رہنماؤں کو بھی زیادہ بااختیار بنانے‘ کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    رچرڈ گرینل کے ان ارادوں کی وجہ سے بھی یورپ میں کئی رہنماؤں کو اس وقت شدید حیرانی ہوئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ 13 جون کو آسٹریا کے انتہائی قدامت پسند چانسلر سباستیان کُرس کے اعزاز میں ایک ظہرانے کی میزبانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جرمنی میں امریکی سفیر نے سباستیان کُرس کو ایک ’’روک سٹار‘‘ بھی قرار دیا تھا۔

    جرمنی میں سرکردہ سیاسی حلقے رچرڈ گرینل کے اس طرز سفارت کاری کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کا اظہار جرمنی کے ایک یورپی سطح کے اعلیٰ سیاستدان مارٹن شُلس کے ردعمل سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ شُلس جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سربراہ اور چانسلر میرکل کے چانسلرشپ کے لیے حریف امیدوار رہنے کے علاوہ یورپی پارلیمان کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔

    مارٹن شُلس کے مطابق، ’’یہ شخص (رچرڈ گرینل) جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ تو بین الاقوامی سفارت کاری میں کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا۔‘‘ شُلس کے الفاظ میں، ’’اگر واشنگٹن میں کوئی جرمن سفیر کبھی یہ کہتا کہ وہ امریکا میں ڈیموکریٹس (ٹرمپ کی مخالف سیاسی جماعت

    کے سیاستدانوں) کو زیادہ طاقت ور بنانے کے لیے واشنگٹن آیا ہے، تو اسے فوری طور پر امریکا سے نکال دیا جاتا۔‘‘

    مارٹن شُلس نے اس سے قبل ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں یہ بھی کہا تھا، ’’امریکی سفیر کا رویہ کسی سفارت کار کی طرح کا نہیں بلکہ انتہائی دائیں باز وکے کسی نوآبادیاتی اہلکار کے رویے کی طرح کا ہے۔‘‘

    دریں اثناء وفاقی جرمن وزارت خارجہ رچرڈ گرینل سے ان کے کئی حالیہ لیکن متنازعہ بیانات کی وضاحت بھی چاہتی ہے۔ اس کے لیے برلن کی وزارت خارجہ میں ریاستی امور کے اسٹیٹ سیکرٹری میشائیلیز کے ساتھ گرینل کی ایک ملاقات کل بدھ چھ جون کے لیے طے ہو چکی ہے۔

    اسی طرح جرمنی کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت دی لِنکے کی خاتون سربراہ سارا واگن کنَیشت نے بھی کہا ہے کہ جرمنی میں امریکی سفیر کے طور پر رچرڈ گرینل ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اپنے موجودہ عہدے کے اہل نہیں ہیں۔

    چانسلر میرکل کے مرکز سے دائیں باز وکی طرف جھکاؤ رکھنے والے حکومتی بلاک کے پارلیمانی دھڑے کے خارجہ سیاسی امور کے ترجمان ژُرگن ہارٹ کے مطابق، ’’رچرڈ گرینل واضح طور پر یورپی یونین کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

    اگر جرمنی سے موجودہ امریکی سفیر کو ممکنہ طور پر ملک بدر کیا گیا، تو یہ جرمن امریکی تعلقات کو گزشتہ کئی عشروں کے دوران لگنے والا سب سے بڑا اور تکلیف دہ سیاسی دھچکا ہو گا۔

  • ایران علاقائی سلامتی کے لیےخطرہ ہے, اسرائیلی وزیر اعظم

    جرمن( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) چانسلر انگیلا میرکل نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرگرمیاں خطے اور بالخصوص ایران کی سکیورٹی کے لیے تحفظات کا باعث ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات میں تسلیم کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرگرمیاں مجموعی طور پر خطے اور بالخصوص اسرائیل کی سلامتی کے لیے تحفظات کا باعث ہیں۔

    جرمن دارالحکومت برلن میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انگیلا میرکل نے کہا، ’’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کا علاقائی سطح پر اثرورسوخ پریشان کن ہے، بالخصوص اسرائیل کی سلامتی کے لیے۔‘‘ قبل ازیں میرکل نے نتین یاہو کے ساتھ ملاقات میں کئی اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم آج بروز پیر ہی جرمنی پہنچے۔ اس چار روزہ دورہ یورپ کے دوران ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنے اہم اتحادی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں انہیں ایران کی عالمی جوہری ڈیل میں ترامیم کروانے پر قائل کر سکیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ شام میں تعینات ایرانی فورسز وہاں سے نکل جائیں۔ یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں میں وہ یہ ایجنڈا بھی زیر بحث لائیں گے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے سے بھی ملیں گے۔ نیتن یاہو ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والی جوہری ڈیل کے سخت مخالف ہیں جبکہ وہ یہ بھی باور کرا چکے ہیں کہ وہ شام میں ایرانی فورسز کو مستقل ٹھکانے بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اپنے اس دورہ یورپ سے قبل انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس دوران وہ ایران اور صرف ایران پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے۔

    تاہم کئی مبصرین کے خیال میں نیتن یاہو ایران کی جوہری ڈیل کے حوالے سے یورپی رہنماؤں کے موقف میں تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔ یورپی یونین کے لیے اسرائیل کے سابق سفیر اودد عران نے روئٹرز کو اس تناظر میں بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم موجودہ جوہری معاہدے کے حوالے سے یورپی رہنماؤں کی سوچ کو نہیں بدل سکتے، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ نیتن یاہو اس جوہری ڈیل کو ایک ایسے نئے معاہدے سے بدلنا چاہتے ہیں، جن میں وہ باتیں بھی شامل ہوں، جو پرانی ڈیل میں نہیں ہیں۔‘‘

    تاہم انہوں نے کہا کہ شائد اس سفارتی کاری کے باعث نیتن یاہو یورپی رہنماؤں سے یہ وعدہ لینے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ اسرائیلی تحفطات کے بارے میں سوچیں گے۔ سن دو ہزار پندرہ میں طے پانی والی اس جوہری ڈیل میں ایران کے میزائل تجربات اور خطے میں اس کے اثرورسوخ کے بارے میں کوئی شق شامل نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس جوہری ڈیل سے دستبردار ہوتے ہوئے ان شقوں کی عدم موجودگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔