شمالی کوریا کا ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا عزم     No IMG     عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق     No IMG     جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔     No IMG     ایران کو شام میں فوجی بیس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے,اسرائیل کے وزير اعظم     No IMG     مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی ریڈ کراس کمیٹی سے اپیل     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو توہین آمیز پریس ریلیز جاری کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔     No IMG     قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےملاقات     No IMG     پی ٹی آئی چئیرمین نے بڑا فیصلہ کر لیا ، اب پی ٹی آئی میں شمولت اختیار کرنا آسان نہ ہو گا     No IMG     پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 5 کروڑ46 لاکھ ہو گئی،     No IMG     سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے نکالنے کی 4 بڑی وجوہات بتادیں     No IMG     حافظ آباد میں کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی     No IMG     پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدے داروں کی پریم کہانی شروع ہو گئی     No IMG     امريکا نے 5 ايرانی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی     No IMG     موجودہ حکومت نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور توانائی بحران کو حل کیا ، ملکی معیشت کو مستحکم کردیا, لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم     No IMG     پی ٹی آئی گزشتہ 5 سالوں میں خیبرپختونخوا میں ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی، مائزہ حمید     No IMG    

جرمنی

  • جرمنی کے وزير خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔

    جرمنی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) کے وزير خارجہ ہایکوس میس نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت پر متحد اور متفق ہیں۔ جرمنی کے وزير خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین  کا مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کے بارے میں مؤقف  اتحاد اور یکجہتی پر مبنی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی حکام کو یورپی یونین کے مؤقف کے بارے میں واضح طور پر بتا دیا ہےکہ یورپی یونین کی طرف سے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رہےگا اور اس سلسلے میں امریکی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائےگا۔

  • سیکڑوں دہشت گردوں کے پاس جرمن پاسپورٹ ہونے کا انکشاف

    جرمن( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) ذرائع کے مطابق ایک ہزار سے زائد دہشت گردوں کے پاس جرمن پاسپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے

     ایک ہزار سے زائد  دہشت گردوں کے پاس جرمن پاسپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ہزار سے زائد  دہشت گردوں کے پاس جرمن پاسپورٹ ہے۔ ان میں سے کئی جرمنی چھوڑ کر شام یا عراق میں دہشت گرد گروپوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ اہم معلومات جرمن حکومت نے پارلیمنٹ میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے ایک رکن کے سوال کے جواب میں بتائی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام دہشت گردوں کو سعودی عرب سے مالی امداد مل رہی ہے

  • جرمنی میں دو سالہ بیٹی کو سڑک پر پٹخ دیا

    جرمنی(ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو) میں ایک بتیس سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے کیونکہ اس نے چلتے چلتے اپنی دو سالہ بیٹی کو فٹ پاتھ سے اٹھا کر سڑک پر پٹخ دیا تھا، جو شدید زخمی ہو گئی تھی۔ بچی کے سر پر گہری چوٹیں آئیں اور وہ اب ہسپتال میں ہے۔

    جرمنی کے جنوبی صوبے باڈن ورٹمبرگ سے اتوار چھ مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ اسی صوبے کے دارالحکومت اشٹٹ گارٹ میں ہفتہ پانچ مئی کو پیش آیا۔ پولیس کے مطابق اس خاتون نے اپنے ساتھ فٹ پاتھ پر چلنے والی اپنی دو سالہ بیٹی کو طیش میں آ کر سڑک پر پٹخ دیا، جس کے نتیجے میں اس بچی کو سر پر گہرے زخم آئے۔

    بچی کو فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا، جہاں وہ ابھی تک زیر علاج ہے۔ بچی کی ماں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جسے آج اتوار کے روز ایک مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ عدالت کی طرف سے اس خاتون کی باقاعدہ گرفتاری کے حکم کے بعد اس وقت ملزمہ پولیس کی تفتیشی حراست میں ہے۔

    اشٹٹ گارٹ پولیس اور دفتر استغاثہ نے بتایا کہ ملزمہ پر اقدام قتل کا شبہ ہے کیونکہ اس نے ایک مقامی سپر مارکیٹ کے سامنے اپنی دو سالہ بیٹی کو ہوا میں اٹھا کر قریب سے گزرنے والی سڑک پر پھینک دیا تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت اس سڑک پر ٹریفک کم تھی اور یہ بچی کسی گاڑی کے نیچے آ کر کچلی جانے سے بچ گئی۔

    پولیس کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ خاتون اس جرم کی مرتکب کیوں ہوئی تاہم اس کے خلاف اپنی ہی بچی کو ہلاک کرنے کی کوشش کے شبے میں تفتیش جاری ہے۔

  • جرمنی نصف سے زائد مہاجرین جرمن زبان کے امتحان میں فیل

    جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں موجود ایسے تارکین وطن جنہیں ’انضمام کا کورس‘ کروایا گیا، ان میں سے نصف تعداد اس کورس کے خاتمے کے بعد لیے جانے والے امتحان میں ناکام رہی۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں جرمن زبان کے امتحان میں ناکامی کی بڑی وجہ ان  کا کورسز میں غیرحاضر رہنا ہے۔

    جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین اور پناہ گزین (BAMF) کے اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی جرمن زبان سکھانے کے لیے کرائے جانے والے ’انٹیگریشن‘ کورس کے بعد جن تارکین وطن کا امتحان لیا گیا، ان میں نصف سے زائد فیل ہو گئے۔

    اتوار کے روز جرمن اخبار فرانکفٹرالگمائنے میں جرمن دفتر برائے مہاجرین اور پناہ گزین کے اعداد و شمار کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ برس جرمن زبان کے ان کورسز میں شریک تارکین وطن کی مجموعی تعداد تین لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو اٹھہتر تھی، جن میں سے دو لاکھ نواسی ہزار سات سو اکیاون جرمن زبان کا یہ ابتدائی کورس پاس کرنے میں ناکام رہے۔

    ان اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ان تارکین وطن میں سے صرف 48 فیصد زبان کے اعتبار سے B1 کی سطح تک پہنچ پائے۔ جب کہ صرف چالیس فیصد زائد ایسے تھے جو A1 عبور کر کے A2 سطح کے کورسس  تک بھی نہ پہنچ پائے۔

    اس کورس کے بعد توقع تھی کہ مہاجرین عام بول چال کو کسی حد تک سمجھ سکیں گے اور سادہ جملوں کے ذریعے اپنی بات کہہ پائیں گے۔

    جرمن وفاقی دفتر برائے مہاجرین اور پناہ گزین کے مطابق ان تارکین وطن کی زبان سیکھنے کے معاملے میں اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی ان کورسز کے دوران بیمار رہے اور بعض کو ملازمت مل گئی جب کہ کئی ایسے بھی تھے، جو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو گئے۔

    اس حوالے سے مہاجرین کی زبان سیکھنے میں ناکامی کی وجہ ماہرین کی نگاہ میں یہ بھی ہے کہ بہت سے تارکین وطن اب بھی اپنے ماضی کے بھیانک تجربات کی وجہ سے صدمے کا شکار ہیں جب کہ کئی ایسے ہیں، جنہیں ’زبان سیکھنے کا تجربہ‘ ہی نہیں ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے تارکین وطن نے ان کورسز میں اپنی حاضری کو یقینی نہیں بنایا اور ان کی امتحان میں ناکامی کی وجہ یہ بھی ہے۔

  • جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ سے ملاقات توقعات سے بہتر رہی

    جرمن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) لہجہ نرم مگر موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ سے ملاقات توقعات سے بہتر رہی۔ تاہم اس ملاقات کا کوئی حاصل نہ حصول تھا۔ دونوں کے مابین بنیادی اختلافات پہلے کی طرح برقرار رہے۔
    نہ تو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے، نہ تجارتی جنگ اور نہ ہی نیٹو کے اخراجات میں تعاون بڑھانے کے معاملے پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے مابین کسی قسم کا کوئی اتفاق رائے سامنے آیا۔ تاہم اس موقع پر میرکل نے شمالی اور جنوبی کوریا کو قریب لانے کی خاطر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی۔

    میرکل کے بقول یورپی یونین اور جرمنی کو امریکا کے ساتھ منصفانہ تجارتی شرائط طے کرنے کی خاطر بات چیت جاری رکھنی ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جرمنی پہلے ہی امریکا کے ساتھ اپنی تجارت سرگرمیوں میں کمی کر چکا ہے۔
    ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تجارتی شعبے میں یورپی سر پلس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے بقول یہ اضافہ سالانہ 150 ارب بنتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی کوشش ہے کہ امریکی مصنوعات کو یورپ برآمد کرنے کے حوالے سے مشکلات کو کم کیا جائے۔

    جرمن چانسلر نے ٹرمپ کی جانب سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے یورپی ارکان پر تنقید کو جائز قرار دیا۔ میرکل کے بقول برلن حکومت 2019ء سے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 1.3فیصد دفاع پر خرچ کرے گی۔ امریکا کی کوشش رہی ہے کہ نیٹو کی رکن ریاستوں میں سے ہر ملک دفاع کے لیے اپنی اپنی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد حصہ خرچ کرے۔ لیکن 2014ء میں اتفاق کے باوجود ابھی تک صرف چند رکن ممالک نے ہی اس بارے میں اپنے وعدے پورے کیے ہیں۔
    میرکل نے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام کی خاطر مزید اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، ’’ایران کی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے اور ان کی بہتر نگرانی کے حوالے سے یہ معاہدہ پہلا قدم ہے‘‘۔ اس موقع پر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پر 2015ء میں طے پانے والے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ٹرمپ نے امریکا اور جرمنی کے باہمی روابط کو سراہا۔ وائٹ ہاؤس میں انہوں نے کہا، ’’ہمارے تعلقات ہمیشہ سے ہی شاندار رہے ہیں تاہم کچھ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔‘‘ انہوں نے میرکل کو ایک ’غیر معمولی خاتون‘ قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں ٹرمپ میرکل کے ساتھ زیادہ گرم جوشی کے ساتھ ملے۔ تاہم اس گرم جوشی کے باوجود متعدد عالمی مسائل میں دونوں ممالک کے موقف میں کوئی واضح قربت دکھائی نہیں دی۔

  • جرمن آسٹرین سرحد پر بارڈر کنٹرول جاری

    جرمن (ورلڈ فاسٹ نیوز فاریو)حکومت کا کہنا ہے کہ ملکی سکیورٹی یقینی بنانے اور مزید مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے جرمنی اور آسٹریا کے مابین سرحد پر بارڈر کنٹرول میں مزید چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔
    جرمن حکومت نے بارڈر کنٹرول میں مزید چھ ماہ توسیع کا فیصلہ آج جمعرات بارہ اپریل کو کیا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ یورپ میں آزاد نقل و حرکت کے حامی ہیں اور اسے یورپی یونین کی ایک اہم ترین کامیابی بھی سمجھتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان کے پاس سرحدی نگرانی میں توسیع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
    زیہوفر کا بیان وفاقی جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں مزید کہا گیا، ’’یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی کے نقائص اور بڑے پیمانے پر جاری غیر قانونی مہاجرت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ داخلی سرحدوں کی نگرانی ناگزیر ہے اس لیے جرمنی اور آسٹریا کی سرحد پر بارڈر کنٹرول جاری رکھا جائے گا۔‘‘

    سن 2015 میں ایک ملین سے زیادہ تارکین وطن اور مہاجرین کی یورپ آمد کے بعد آزادانہ نقل و حرکت کے یورپی خطے ’شینگن زون‘ کے ممالک نے عارضی طور پر سرحدی نگرانی کا آغاز کیا تھا۔ موجودہ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر اس وقت جرمن صوبہ باویریا کے وزیر اعلیٰ تھے اور انہوں نے چانسلر میرکل کے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھولنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔

    ہورسٹ زیہوفر کی سیاسی جماعت سی ایس یو ان دنوں باویریا میں صوبائی انتخابات کی تیاریوں میں ہے اور اس لیے بھی زیہوفر اپنے مہاجرین مخالف بیانیے پر تیزی سے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ آسٹریا سے جرمنی داخل ہونے والے زیادہ تر غیر قانونی تارکین وطن اسی صوبے میں پہنچتے ہیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق بارڈر کنٹرول کی آئندہ توسیعی مدت کا آغاز بارہ مئی سے ہو گا اور اس ضمن میں فیصلہ کرتے ہوئے فرانس، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز دیگر یورپی ممالک کو بھی جرمن فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  • جرمنی کے مغربی شہر میونسٹر میں ایک وین راہگیروں پر چڑھا دیے جانے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی

    جرمنی( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) کے مغربی شہر میونسٹر میں ایک وین راہگیروں پر چڑھا دیے جانے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ بظاہر ایک حملہ تھا اور وین ڈرائیور نے خود کو گولی مار کر موقع پر ہی خود کشی کر لی۔

    وفاقی جرمن دارالحکومت برلن اور جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میونسٹر سے ہفتہ سات اپریل کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ آج سہ پہر کیا گیا اور اس واقعے میں ایک شخص نے اپنی مال بردار گاڑی شہر کے وسط میں راہ

    گیروں کے ایک ہجوم پر چڑھا دی۔

    صوبائی پولیس کے ابتدائی بیانات کے مطابق اس واقعے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ میونسٹر کی پولیس نے آخری خبریں آنے تک زخمیوں کی تعداد 50 تک بتائی ہے۔ ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

    ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے میں دانستہ حملے یا ممکنہ دہشت گردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دیگر رپورٹوں کے بطابق مرنے والوں میں اس حملے میں استعمال ہونے والی وین کا ڈرائیور بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی عام راہ گیروں پر چڑھانے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔

    جرمنی کے کثیر الاشاعت روزنامے ’بِلڈ‘ نے لکھا ہے کہ اس ’حملے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے اور پولیس نے میونسٹر شہر کے اندرونی حصے کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔‘‘

    روئٹرز کے مطابق میونسٹر میں جو نارتھ رائن ویسٹ فلیا اور صوبے لوئر سیکسنی کی سرحد پر واقع ایک شہر ہے، اس تازہ حملے نے دسمبر 2016ء میں جرمن دارالحکومت برلن میں کیے گئے اس حملے کی یاد ایک بار پھر تازہ کر دی ہے، جب ایک پناہ گزین کے طور پر جرمنی میں داخل ہونے والے تیونس کے ایک شہری نے ایک ٹرک ایک کرسمس مارکیٹ کے شرکاء پر چڑھا دیا تھا۔

    اس حملے میں تب 12 افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے ملزم انیس عامری نے کرسمس مارکیٹ پر حملے کے لیے یہ ٹرک 19 دسمبر 2106ء کو اس کے ڈرائیور کو قتل کرنے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور پھر اسے برلن میں ایک کرسمس مارکیٹ میں موجود سینکڑوں افراد پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    نیوز ایجنسی اے ایف پی نے میونسٹر سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ آج کے اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے کم از کم چھ افراد شدید زخمی ہیں، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کے فوری بعد اس کے محرکات اور موقع سے دستیاب ابتدائی شواہد کی روشنی میں صورت حال قطعی غیر واضح ہے اور فی الحال ’حملہ آور‘ کی شناخت کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

     

  • جرمنی میں ملک بدری کے ليے شناختی دستاويز پيش نہ کرنے پر سزا

    جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)  ميں پينسٹھ ہزار افراد کو اس ليے ملک بدر نہ کيا جا سکا کيونکہ ان کی پاس شناختی دستاويزات نہيں تھے تاہم نئے قوانين کے مطابق دستاويزات کے حصول ميں عدم تعاون کی صورت ميں پناہ گزينوں کو سزا کا سامنا ہو گا۔

    جرمنی ميں مقيم جان او نامی نائجيريا کے ايک تارک وطن کو سن 2014 ميں خط موصول ہوا کہ ان کی پناہ کی درخواست مسترد ہو گئی ہے۔ اس وقت جان  جرمنی ميں تين سال گزار چکے تھے۔ اس پيش رفت کے بعد اميگريشن حکام ان کو ملک بدر کرنا چاہتے تھے تاہم شناختی دستاويزات کی عدم موجودگی اس عمل ميں رکاوٹ ثابت ہوئی۔ جان او کا کہنا ہے کہ ان کا پاسپورٹ چوری ہو چکا تھا۔ شناختی دستاويزات کی عدم موجودگی کی صورت ميں کسی بھی ناکام درخواست گزار کو اس کے ملک واپس روانہ کرنا نا ممکن ہے۔

    جان او کے وکيل لوتھر پينزر نے ڈوئچے ويلے کو بتايا کہ جان کی جرمنی ميں قيام کی اجازت ميں ہر ماہ ايک مہينے کی توسيع کی جاتی ہے۔ جان کو ہر ماہ اميگريشن حکام کے دفتر جانا پڑتا ہے اور اپنے اجازت نامے ميں توسيع کرانی پڑتی ہے۔ ليکن پناہ کی درخواست نا منظور ہوجانے کے باوجود، کسی نہ کسی طرح جرمنی ميں قيام کرنے والوں ميں جان او تنہا نہيں۔ اس وقت بھی ہزاروں تارکين وطن ايسے ہيں، جو شناختی دستاويز کی عدم موجودگی، طبی بنيادوں يا پھر ديگر وجوہات کی بنا پر ملک بدری سے بچے ہوئے ہیں۔

    جرمن وزارت داخلہ کے مطابق پچھلے سال پينسٹھ ہزار ناکام درخواست گزاروں کو قيام کی عارضی اجازت صرف اس ليے دی گئی کيوں کہ انہيں ملک بدر کرنے کے ليے لازمی شناختی دستاويزات دستياب نہيں تھے۔ اس سے پچھلے سال يعنی سن 2016 ميں يہ تعداد اس کے نصف سے بھی کم تھی۔ جرمن پوليس يونين کے چيئرمين ارنسٹ والتھر کا کہنا ہے کہ اس تعداد ميں اضافہ سن 2015  اور سن 2016 ميں بڑی تعداد ميں مہاجرين کی آمد سے جڑا ہے۔ جرمنی ميں ملک بدری کی ذمہ داری وفاقی جرمن پوليس کے سپرد ہے۔ والتھر نے ڈی ڈبليو کو بتايا، ’’اس کا تعلق اس امر سے بھی ہے کہ ملک بدری سے بچنے کے ليے متعدد افراد اپنی شناخت چھپانے لگے ہيں۔

    جرمن پوليس يونين کے چيئرمين نے مزید بتايا کہ مہاجرين کی شناخت کے تعين کے ليے ان کے ليے متبادل پاسپورٹس کا حصول ناگزير ہے۔ والتھر کے بقول اس ضمن ميں حکام مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ رابطے ميں رہتے ہيں ليکن يہ عمل پيچيدہ ہوتا ہے اور اس ميں وقت بھی کافی لگ جاتا ہے۔ وزارت داخلہ کی ايک اندرونی رپورٹ کے مطابق متعلقہ بھارتی اداروں سے متبادل پاسپورٹ کے حصول کا عمل انتہائی مشکل اور نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان سے اس ميں تاخير لگتی ہے اور لبنان سے متبادل پاسپورٹ ساز و نادر ہی ملتے ہيں۔

    اس صورتحال کو تبديل کرنے کے ليے ان دنوں وزارت داخلہ تارکين وطن کے آبائی ممالک پر زور ڈال رہی ہے۔ اس سلسلے ميں تعاون نہ کرنے والے ممالک کی ترقياتی امداد ميں کٹوتی بھی چند حلقوں ميں زير غور ہے۔ تاہم قوی امکانات يہ ہيں کہ جرمن وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی مالی معاونت کا راستہ اختيار کرے گی۔ جرمن وزير برائے اقتصادی تعاون و ترقی گيئرڈ مولر نے اعلان کيا ہے کہ عراق، نائجيريا، افغانستان اور پاکستان جيسے ملکوں ميں ملک بدر کيے گئے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی ٹريننگ پر سالانہ پانچ سو ملين يورو خرچ کيے جائيں گے۔

     

  • جرمنی تعاون نہ کرنے والے ممالک کے عام شہریوں کو ویزا نہ دیا جائے

    برلن ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )جرمنی حکومت کے مطابق بھارت اور پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں جرمنی کے ساتھ تعاون کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایسے ممالک کے عام شہریوں کے لیے جرمن ویزے کا حصول مشکل بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    جرمنی سے پناہ کے مسترد شدہ درخواست گزاروں کی واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ممالک پر دباؤ ڈالنے کے مطالبات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم اب ملکی وزارت داخلہ کی تیار کردہ ایک تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایسے ممالک کے خلاف عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

    اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان سمیت کئی ممالک اپنے ایسے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون نہیں کرتے، جن کی جرمنی میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

    جرمنی کی سولہ وفاقی ریاستوں کے وزارائے داخلہ کی کانفرنس کے سربراہ ہولگر شٹاہلنخت نے اس رپورٹ کے بعد وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کی واپسی میں جرمنی سے تعاون نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کے لیے جرمن ویزے کا حصول مشکل بنایا جائے۔

     

  • گرل فرینڈ سے کیسے پیچھا چھڑایا جائے,جرمن پولیس کا مشورہ

    جرمنی  (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) میں ایک شخص پولیس اسٹیشن پہنچا اور کہا کہ وہ اپنی گرل فرینڈ کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن نہیں جانتا کہ یہ کیسے ہو گا۔ ایک خاتون پولیس افسر اسے ایک طرف لے گئیں اور تعلق ختم کرنے کے کئی ایک ’موثر‘ طریقے بتائے۔

    غالباﹰ اُس چونتیس سالہ جرمن شہری نے جرمن پولیس کا یہ سلوگن کہ،’’ پولیس آپ کی دوست اور مددگار ہے‘‘، دل سے تسلیم کیا تھا، تبھی وہ اپنے بہت ذاتی مسئلے کے حل کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔

    یہ واقعہ حال ہی میں دریائے رائن کے کنارے واقع آباد جرمن شہر ’لُڈوِگ ہافن‘ میں پیش آیا۔ اس ش‍خص کا مسئلہ بہت ذاتی نوعیت کا تھا۔ وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مزید رشتہ نہیں رکھنا چاہتا تھا تاہم ترکِ تعلق کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے، یہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس الجھے ہوئے شخص کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی دوست کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

    ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر خواتین میں سے ایک خاتون افسر اسے ایک طرف لے گئیں اور اس کے سامنے کئی متبادل حل رکھے۔ پولیس فورس نے یہ نہیں بتایا کہ سائل کے سامنے اس کے مسئلے کے حل کے لیے کیا تجاویز پیش کی گئیں تاہم ایک بات بالکل واضح کی گئی اور وہ یہ کہ رشتہ ختم کرنے کا کام اسے خود ہی انجام دینا ہو گا۔

    پولیس کا کہنا تھا،’’ ہم مشورہ دینے کو تیار ہیں لیکن اس کام کو انجام نہیں دے سکتے۔ تمام شہریوں کی مدد کرنا اور اُن کے مسئلے کو سننا ہمارا کام ہے۔‘‘

    ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ اس شخص نے پولیس کے مشورے پر عمل کیا یا نہیں۔

    جرمن شہر لُڈوِگ ہافن فرینکفرٹ سے اسّی کلومیٹر کی دوری پر جرمنی کے تاریخی دریائے رائن پر واقع ہے۔