وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

جرمنی کی ٹرمپ سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی ہم امريکا کو اپنے سر کے اوپر سے گزرنے نہيں ديں گے,جرمن وزير خارجہ
تاریخ :   25-08-2018

جرمنی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) روايتی طور پر امريکا اور جرمنی کے باہمی تعلقات اچھے ہی رہے ہيں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت ميں ايسا بالکل دکھائی نہيں ديتا۔ جرمن وزير خارجہ اب امريکا کے ساتھ ’متوازن پارٹنرشپ‘ کے قيام کے حامی ہيں اور اسی کی کوششوں ميں ہيں۔

جرمن وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالنے کے بعد پچھلے قريب پانچ ماہ سے ہائيکو ماس بڑی باريکی کے ساتھ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کا جائزہ لیتے آئے ہيں۔ اہم معاہدوں سے امريکا کی دستبرداری، جرمن مفادات کے خلاف اقدامات، زبانی حملے اور غلط بيانی کے متعدد واقعات۔ اب تک تو ہائيکو ماس خاموش تھے ليکن اب انہوں نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ايک جرمن اخبار کے ليے ایک مضمون لکھا ہے، جس کا عنوان ہے، ’’ہم امريکا کو اپنے سر کے اوپر سے گزرنے نہيں ديں گے۔‘‘ جرمن وزير خارجہ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کی اہميت اور فوائد سے بخوبی واقف ہيں ليکن اپنی اس تحرير ميں وہ ايسی لکيروں کا ذکر بھی کرتے ہيں جنہيں پار نہيں کيا جانا چاہيے۔

دراصل ہائيکو ماس چاہتے ہيں کہ يورپ مستحکم اور متحد ہو اور مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنے فيصلے کر سکے۔ امريکی تھنک ٹينک ’جرمن مارشل فنڈ‘ سے وابستہ يان شاؤ کے مطابق ماس کی تحرير درحقيقت يورپ کو دنيا کے نقشے پر زيادہ نماياں کرنے کے بارے ميں ہے۔ ايک متحد يورپ کی اسٹريٹيجک پوزيشن ميں بہتری کے ليے ماس ايک يورپی سکيورٹی اور ڈيفنس يونين کے قيام کی وکالت کرتے ہيں۔ امريکا پچھلے چند مہينوں ميں ايک ايسے پارٹنر کے طور پر سامنے آيا ہے جس پر اعتماد نہيں کيا جا سکتا۔ يہی وجہ ہے کہ جرمنی اب کينيڈا، جاپان، جنوبی کوريا اور ايسے ديگر ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے، جو بين الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ جرمن وزير خارجہ بين الاقوامی سطح پر طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھنے والے ممالک کا ايک نيٹ ورک چاہتے ہيں۔ ماس مصر ہيں کہ اس ضمن ميں سب کے ليے دروازے کھلے ہيں اور سب سے پہلے امريکا ہی کے ليے۔ ليکن يان شاؤ کے مطابق يہ دراصل غير رسمی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے کی ايک کوشش ہے۔
امريکا کی جانب سے ايران کے خلاف اقتصادی پابنديوں کی بحالی کے بعد ہائيکو ماس رقوم کی ادائيگيوں کے ايسے راستے چاہتے ہيں، جن ميں امريکا کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس سے نہ صرف ايرانی معيشت کچھ حد تک بچ سکے گی بلکہ يورپی کمپنيوں کو پہنچنے والے مالی نقصانات کو بھی محدود کيا جا سکے گا۔ امريکی تھنک ٹينک ’جرمن مارشل فنڈ‘ سے وابستہ يان شاؤ کا کہنا ہے کہ رقوم کی منتقلی کے موجودہ عالمی نظام SWIFT کا متبادل نظام قائم کرنا کافی مشکل کام ہے ليکن اگر ايسا ہو جاتا ہے، تو يہ مالياتی سيکٹر ميں امريکا کی سبقت پر بڑے حملے کے مساوی ہو گا۔

اپنی تحرير ميں جرمن وزير خارجہ ہائيکو ماس نے يہ بھی لکھا ہے کہ امريکا اور يورپ کئی سالوں سے ايک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہيں۔ جرمنی کی وفاقی مخلوط حکومت میں شامل تین میں سے دونوں قدامت پسند جماعتوں کرسچين ڈيموکريٹک يونين اور کرسچين سوشل يونين کے مشترکہ پارليمانی حزب کے سربراہ ژُرگن ہارٹ کے مطابق وزير خارجہ ماس کے تبصرے اور مستقبل کے حوالے سے توقعات کافی منفی ہيں۔ ان کے بقول امريکا کے ساتھ باہمی تعلقات يقيناً تبديل ہوئے ہيں ليکن يہ امکان موجود ہے کہ محصولات اور ديگر معاملات پر اختلافات صدر ٹرمپ کی آنکھيں کھول ديں اور انہيں ’ٹرانس اٹلانٹک‘ تعلقات کی اہميت سمجھنے ميں مدد دیں۔

يہ ديکھنا ابھی باقی ہے کہ ہائيکو ماس کی اس تحرير کو امريکا اور يورپی سطح پر کيسے ديکھا جائے گا۔ چند جرمن سياستدانوں کی رائے میں اس سے ٹرمپ کے حامی نالاں ہوں گے جبکہ امريکا کے مقابلتاً زيادہ آزاد خيال حلقے اسے اس بات کے ثبوت کے طور پر ديکھيں گے کہ ٹرمپ کی پاليسياں کس طرح بیرونی تعلقات کو متاثر کر رہی ہيں۔

Print Friendly, PDF & Email
عام آدمی کو سستے انصاف کی فراہمی ہماری اولین تر جیح ہے,سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی
امریکہ میں فائرنگ سے 16 سالہ نوجوان ہلاک جب کہ ایک نوجوان شدید زخمی
Translate News »