پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

جرمنی پہنچنے پر مہاجرین کے ساتھ اب کیا ہو گا؟
تاریخ :   04-07-2018

برلن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ہنگری نے یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر ایسے ’ٹرانزٹ زونز‘ قائم کر رکھے ہیں، جہاں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو بند کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب جرمنی بھی آسٹریا کی سرحد پر ایسے ہی مراکز قائم کر رہا ہے؟
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور باویریا میں اس کی ہم خیال پارٹی کرسچین سوشل یونین نے شدید بحث و مباحثے کے بعد

 

سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسی طرز کی پالیسی اس سے قبل ہنگری میں موجود ہے۔ اس پالیسی کے تحت سیاسی پناہ کے درخواست گزار اب جرمنی میں براہ راست داخل نہیں ہو سکتے۔
ہنگری نے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے لائحہ عمل کچھ یہ اختیار کر رکھا ہے کہ سب سے پہلے تو انہیں سربیا کی سرحد پر نصب خاردار تار والی دیوار کے قریب روکا جاتا ہے، جہاں سے انہیں کنٹینروں سے بنائے ہوئے ’ٹرانزٹ زونز‘ میں لایا جاتا ہے۔
ہنگری ہلسنکی کمیٹی نامی امدادی گروپ کے مطابق سربیا کے ساتھ ملحق سرحدی کراسنگ سے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک تارک وطن کو ہنگری میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ ہنگری کی حکومت تاہم ان اعداد و شمار کو رد کرتی ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم کے ترجمان ژانوس لازار کے مطابق، ’’یہ ہمارا قصور نہیں ہے کہ صرف کچھ ہی افراد ہنگری کا رخ کرتے ہیں۔‘‘

امدادی اداروں کے مطابق ہنگری کی سرحد پر اب بھی قریب چار ہزار افراد ایسے ہیں، جو ہنگری میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔

ہنگری ان ٹرانزٹ زونز کو ’نو مین لینڈ‘ قرار دیتا ہے۔ یہاں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو رجسٹر کیا جاتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کسی نے یورپی یونین کی کسی اور رکن ریاست میں تو سیاسی پناہ کی درخواست جمع نہیں کرائی۔ اگر کوئی تارک وطن کسی اور ملک میں سیاسی پناہ جمع کر چکا ہوتا ہے، تو اسے ٹرانزٹ زون ہی سے ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی تارک وطن کی سیاسی پناہ کی درخواست مضبوط نہ ہو تو بھی اسے ہنگری سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں چند گھنٹے اور کچھ صورتوں میں پندرہ دن تک لگ سکتے ہیں۔
سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر یا ان تارکین وطن کو سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کے لیے نااہل تصور کرنے پر انہیں سربیا واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے ہنگری میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

اصولی طور پر ان افراد کو اپنے خلاف فیصلے کا حق دیا گیا ہے، تاہم امدادی اداروں کے مطابق یہ حق فقط کاغذوں کی حد تک محدود ہے جب کہ عملی طور پر یہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق فیصلہ اور ان کی ملک بدری اتنی تیز رفتاری سے ہوتی ہے کہ کسی مہاجر کے پاس اپیل کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرنے پر بھی ان تارکین وطن کو ان ٹرانزٹ زونز میں روک لیا جاتا ہے اور انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ان مراکز سے باہر نہ نکلیں۔ ہنگری میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے کے پورے عمل میں تین سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں اور اس مدت میں کسی مہاجر کو اس ٹرانزٹ مرکز ہی میں رکنا پڑتا ہے۔

جرمنی میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ اگر برلن حکومت آسٹریا کی سرحد پر ٹرانزٹ زونز قائم کرتی ہے، تو وہ کس طرح ہنگری کے ٹرانزٹ زونز سے مختلف ہوں گے؟

Print Friendly, PDF & Email
عام انتخابات کے لیے مبصرین کی ملک گیر تیاریاں عروج پر
انڈونیشیا کے سُلاویسی جزیرے کے قریب مسافر کشتی الٹ جانے کے نتیجے میں بچوں سمیت 31 افراد ڈوب کر ہلاک اور 3 مسافر لاپتہ
Translate News »