پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

جرمنی پہنچنے پر مہاجرین کے ساتھ اب کیا ہو گا؟
تاریخ :   04-07-2018

برلن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ہنگری نے یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر ایسے ’ٹرانزٹ زونز‘ قائم کر رکھے ہیں، جہاں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو بند کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب جرمنی بھی آسٹریا کی سرحد پر ایسے ہی مراکز قائم کر رہا ہے؟
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور باویریا میں اس کی ہم خیال پارٹی کرسچین سوشل یونین نے شدید بحث و مباحثے کے بعد

 

سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسی طرز کی پالیسی اس سے قبل ہنگری میں موجود ہے۔ اس پالیسی کے تحت سیاسی پناہ کے درخواست گزار اب جرمنی میں براہ راست داخل نہیں ہو سکتے۔
ہنگری نے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے لائحہ عمل کچھ یہ اختیار کر رکھا ہے کہ سب سے پہلے تو انہیں سربیا کی سرحد پر نصب خاردار تار والی دیوار کے قریب روکا جاتا ہے، جہاں سے انہیں کنٹینروں سے بنائے ہوئے ’ٹرانزٹ زونز‘ میں لایا جاتا ہے۔
ہنگری ہلسنکی کمیٹی نامی امدادی گروپ کے مطابق سربیا کے ساتھ ملحق سرحدی کراسنگ سے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک تارک وطن کو ہنگری میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ ہنگری کی حکومت تاہم ان اعداد و شمار کو رد کرتی ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم کے ترجمان ژانوس لازار کے مطابق، ’’یہ ہمارا قصور نہیں ہے کہ صرف کچھ ہی افراد ہنگری کا رخ کرتے ہیں۔‘‘

امدادی اداروں کے مطابق ہنگری کی سرحد پر اب بھی قریب چار ہزار افراد ایسے ہیں، جو ہنگری میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔

ہنگری ان ٹرانزٹ زونز کو ’نو مین لینڈ‘ قرار دیتا ہے۔ یہاں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو رجسٹر کیا جاتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کسی نے یورپی یونین کی کسی اور رکن ریاست میں تو سیاسی پناہ کی درخواست جمع نہیں کرائی۔ اگر کوئی تارک وطن کسی اور ملک میں سیاسی پناہ جمع کر چکا ہوتا ہے، تو اسے ٹرانزٹ زون ہی سے ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی تارک وطن کی سیاسی پناہ کی درخواست مضبوط نہ ہو تو بھی اسے ہنگری سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں چند گھنٹے اور کچھ صورتوں میں پندرہ دن تک لگ سکتے ہیں۔
سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر یا ان تارکین وطن کو سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کے لیے نااہل تصور کرنے پر انہیں سربیا واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے ہنگری میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

اصولی طور پر ان افراد کو اپنے خلاف فیصلے کا حق دیا گیا ہے، تاہم امدادی اداروں کے مطابق یہ حق فقط کاغذوں کی حد تک محدود ہے جب کہ عملی طور پر یہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق فیصلہ اور ان کی ملک بدری اتنی تیز رفتاری سے ہوتی ہے کہ کسی مہاجر کے پاس اپیل کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرنے پر بھی ان تارکین وطن کو ان ٹرانزٹ زونز میں روک لیا جاتا ہے اور انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ان مراکز سے باہر نہ نکلیں۔ ہنگری میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے کے پورے عمل میں تین سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں اور اس مدت میں کسی مہاجر کو اس ٹرانزٹ مرکز ہی میں رکنا پڑتا ہے۔

جرمنی میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ اگر برلن حکومت آسٹریا کی سرحد پر ٹرانزٹ زونز قائم کرتی ہے، تو وہ کس طرح ہنگری کے ٹرانزٹ زونز سے مختلف ہوں گے؟

Print Friendly, PDF & Email
عام انتخابات کے لیے مبصرین کی ملک گیر تیاریاں عروج پر
انڈونیشیا کے سُلاویسی جزیرے کے قریب مسافر کشتی الٹ جانے کے نتیجے میں بچوں سمیت 31 افراد ڈوب کر ہلاک اور 3 مسافر لاپتہ
Translate News »