وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

جرمنی پہنچنے پر مہاجرین کے ساتھ اب کیا ہو گا؟
تاریخ :   04-07-2018

برلن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ہنگری نے یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر ایسے ’ٹرانزٹ زونز‘ قائم کر رکھے ہیں، جہاں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو بند کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب جرمنی بھی آسٹریا کی سرحد پر ایسے ہی مراکز قائم کر رہا ہے؟
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور باویریا میں اس کی ہم خیال پارٹی کرسچین سوشل یونین نے شدید بحث و مباحثے کے بعد

 

سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسی طرز کی پالیسی اس سے قبل ہنگری میں موجود ہے۔ اس پالیسی کے تحت سیاسی پناہ کے درخواست گزار اب جرمنی میں براہ راست داخل نہیں ہو سکتے۔
ہنگری نے سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے لائحہ عمل کچھ یہ اختیار کر رکھا ہے کہ سب سے پہلے تو انہیں سربیا کی سرحد پر نصب خاردار تار والی دیوار کے قریب روکا جاتا ہے، جہاں سے انہیں کنٹینروں سے بنائے ہوئے ’ٹرانزٹ زونز‘ میں لایا جاتا ہے۔
ہنگری ہلسنکی کمیٹی نامی امدادی گروپ کے مطابق سربیا کے ساتھ ملحق سرحدی کراسنگ سے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک تارک وطن کو ہنگری میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ ہنگری کی حکومت تاہم ان اعداد و شمار کو رد کرتی ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم کے ترجمان ژانوس لازار کے مطابق، ’’یہ ہمارا قصور نہیں ہے کہ صرف کچھ ہی افراد ہنگری کا رخ کرتے ہیں۔‘‘

امدادی اداروں کے مطابق ہنگری کی سرحد پر اب بھی قریب چار ہزار افراد ایسے ہیں، جو ہنگری میں سیاسی پناہ کے منتظر ہیں۔

ہنگری ان ٹرانزٹ زونز کو ’نو مین لینڈ‘ قرار دیتا ہے۔ یہاں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو رجسٹر کیا جاتا ہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کسی نے یورپی یونین کی کسی اور رکن ریاست میں تو سیاسی پناہ کی درخواست جمع نہیں کرائی۔ اگر کوئی تارک وطن کسی اور ملک میں سیاسی پناہ جمع کر چکا ہوتا ہے، تو اسے ٹرانزٹ زون ہی سے ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی تارک وطن کی سیاسی پناہ کی درخواست مضبوط نہ ہو تو بھی اسے ہنگری سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں چند گھنٹے اور کچھ صورتوں میں پندرہ دن تک لگ سکتے ہیں۔
سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر یا ان تارکین وطن کو سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کے لیے نااہل تصور کرنے پر انہیں سربیا واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے ہنگری میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔

اصولی طور پر ان افراد کو اپنے خلاف فیصلے کا حق دیا گیا ہے، تاہم امدادی اداروں کے مطابق یہ حق فقط کاغذوں کی حد تک محدود ہے جب کہ عملی طور پر یہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق فیصلہ اور ان کی ملک بدری اتنی تیز رفتاری سے ہوتی ہے کہ کسی مہاجر کے پاس اپیل کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرنے پر بھی ان تارکین وطن کو ان ٹرانزٹ زونز میں روک لیا جاتا ہے اور انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ان مراکز سے باہر نہ نکلیں۔ ہنگری میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے کے پورے عمل میں تین سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں اور اس مدت میں کسی مہاجر کو اس ٹرانزٹ مرکز ہی میں رکنا پڑتا ہے۔

جرمنی میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ اگر برلن حکومت آسٹریا کی سرحد پر ٹرانزٹ زونز قائم کرتی ہے، تو وہ کس طرح ہنگری کے ٹرانزٹ زونز سے مختلف ہوں گے؟

Print Friendly, PDF & Email
عام انتخابات کے لیے مبصرین کی ملک گیر تیاریاں عروج پر
انڈونیشیا کے سُلاویسی جزیرے کے قریب مسافر کشتی الٹ جانے کے نتیجے میں بچوں سمیت 31 افراد ڈوب کر ہلاک اور 3 مسافر لاپتہ
Translate News »