پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

جرمنی میں نئے آنے والے تارکین وطن کو آئندہ ان کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے ہونے تک خصوصی حراستی مراکز میں رکھا جائے
تاریخ :   23-03-2018

جرمن( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )  حکومت کے منصوبے کے مطابق آئندہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے تارکین وطن کو ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک خصوصی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔

چانسلر میرکل کی قیادت میں نئی مخلوط حکومت میں سی ڈی یو، سی ایس یو اور ایس پی ڈی شامل ہیں۔ نئی وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر مہاجرین اور تارکین وطن کے حوالے سے اپنے سخت رویے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ان جماعتوں کے مابین جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق جرمنی میں نئے آنے والے تارکین وطن کو آئندہ ان کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے ہونے تک خصوصی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔ زیہوفر اس منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں اور ممکنہ طور پر ایسے حراستی مراکز کا قیام رواں برس ستمبر کے مہینے تک عمل میں لے آیا جائے گا۔

ان نئے اقدامات کا بظاہر مقصد ملکی پناہ کے نظام کو مزید فعال بنانا ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے صدمہ زدہ انسانوں کے لیے خطرے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

نئے اقدامات کیا ہیں؟

جرمن حکومت کے منصوبے کے مطابق آئندہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے تمام غیر ملکیوں کو خصوصی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔ جب تک جرمن حکام ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے نہیں، انہیں ان حراستی مراکز سے باہر جانے کی ا

جات نہیں دی جائے گی۔

اتحادی جماعتوں کے مابین طے ہونے والے معاہدے کی دستاویز میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ ان حراستی مراکز میں تارکین وطن کے قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت اٹھارہ ماہ ہو گی، اور اسی عرصے کے اندر اندر ان کی پناہ کی درخواستیں نمٹائی جائیں گی۔ بمع خاندان پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک ان حراستی مراکز میں قیام کرنا ہو گا۔

حراستی مراکز سے باہر جانے کی اجازت بھی صرف ایسے پناہ گزینوں کو دی جائے گی جنہیں جرمنی میں پناہ ملنے کے واضح امکانات ہوں گے۔ جب کہ دیگر تارکین وطن کو جرمنی سے ملک بدر کر دیے جانے تک انہیں مراکز میں زیر حراست رکھا جائے گا۔ اس دستاویز میں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایسے خصوصی حراستی مراکز کس جگہ بنائے جائیں گے۔

موجودہ ضوابط کے مطابق جرمنی آنے والے تارکین وطن کو پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کے بعد تین ماہ تک پناہ گزینوں کے خصوصی مراکز میں رہنا ہوتا ہے۔ پناہ گزین رہائش کے لیے اپنی مرضی سے کسی شہر کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ انہیں جرمنی بھر میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مختلف صوبوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے باجود ان کی نقل حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں نہ تو انہیں کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہ جرمنی سے واپس وطن یا کسی دوسرے ملک بھیج دیے جانے تک وہ اپنے تئیں کہیں سفر کر سکتے ہیں۔

جنوری کے مہینے میں سی ایس یو کے قائم مقام سربراہ مانفریڈ ویبر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سن 2018 میں یورپ کے لیے مرکزی موضوع مہاجرین کے بحران کا ’حتمی حل‘ ہے۔ اس اصطلاح نے نازی دور کے جرمنی کی تلخ یادیں دوبارہ تازہ کر دی تھیں جب سن 1942 میں ’یہودیوں کے سوال کا حتمی حل‘ کا نعرہ لگایا گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد نازی اذیتی کیمپوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

اس تناظر میں بھی مہاجرین کے لیے خصوصی حراستی مراکز کے قیام کے حالیہ فیصلے پر بھی جرمنی میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایسے حراستی مراکز نہ صرف مہاجرین کے حقوق کے منافی ہیں بلکہ یہ جرمنی میں پناہ کے حق دار سمجھے جانے والے افراد کے معاشرتی انضمام میں بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
بارسلونا میں پاکستان کی نامور شعراء نوشی گیلانی کے نام ایک شام ، تقریب 24مارچ کو میوزیم میرتیمو میں ہو گی
یوم پاکستان کے موقع پرچین کاپاکستان کو بہت بڑا تحفہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »