وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

جرمنی میں حکام نے غیر قانونی طور پر ملازمتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع
تاریخ :   31-01-2018

جرمنی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں حکام نے غیر قانونی طور پر ملازمتیں فراہم کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس منظم نیٹ ورک میں سینکڑوں تعمیراتی کمپنیاں ملوث ہو سکتی ہیں۔

جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والی وفاقی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں روزگار کی غیر قانونی منڈیوں پر مارے گئے چھاپوں کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کا نیٹ ورک ملک بھر میں منظم طور پر سرگرم ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بلیک مارکیٹ میں نوکریاں فراہم کرنے کے اس غیر قانونی لیکن منظم کاروبار میں مبینہ طور پر سینکڑوں تعمیراتی کمپنیاں ملوث ہیں۔

اس منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تیس جنوری بروز بدھ کی علی الصبح نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ این آر ڈبلیو کے حکام نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ صوبے کے 31 شہروں میں 140 زیر تعمیر عمارتوں پر چھاپے مارے گئے۔

ان چھاپوں کے دوران حکام نے دو خواتین سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ غیر قانونی ملازمتیں فراہم کرنے والے اس جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سرگرم کارکن ہیں۔

جرمنی میں کسٹمز کے وفاقی ادارے کے سربراہ آرمین رولفنک نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’’گرفتار کیے گئے افراد مبینہ طور پر جعلی کمپنیوں کا نیٹ ورک چلا رہے تھے جن کے ذریعے وہ صوبے میں غیر قانونی ملازمتیں فراہم کرنے والی سینکڑوں تعمیراتی کمپنیوں کو بل بنا کر دیتے تھے۔‘‘

صوبائی حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں تیس تا ستر برس کے درميان ہیں اور ان میں سے دو جرمن شہری جب کہ دیگر کا تعلق سربیا، اسرائیل اور بوسنیا سے ہے۔

سینکروں تعمیراتی کمپنیاں ملوث

نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے صوبائی دفتر استغاثہ کے مطابق صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر ملازمتیں فراہم کرنے میں ساڑھے چار سو سے زائد تعمیراتی کمپنیاں ملوث ہیں جنہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے اس نیٹ ورک کی خدمات حاصل کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ جرائم پیشہ گروہ اپنی جعلی کمپنیوں کے ذریعے ان تعمیراتی اداروں کو ایسی عمارتوں کی تعمیر کے لیے بل مہیا کرتا تھا، جہاں کوئی عمارت تعمیر ہی نہیں ہوئی۔ ان بلوں کی ادائیگی بینک کے ذریعے کر دی جاتی تھی اور بعد ازاں تعمیراتی کمپنیوں کو کیش رقم واپس کر دی جاتی تھی اور یہ نیٹ ورک کل رقم کا دس فیصد حصہ فیس کے طور پر لے رہا تھا۔

مختلف شہروں میں مارے گئے چھاپوں کے دوران حکام نے بھاری مقدار میں ہتھیار بھی برآمد کیے جن میں خودکار رائفلوں سمیت خنجروں اور کلہاڑیوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ جرمن شہر ووپرٹال کے وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے قبل ایسے کاروبار میں ملوث اتنا منظم گروہ نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ’انتہائی پیشہ ور اور منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے اور مختلف الزامات کے تحت انہیں دس برس تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email
گکھڑ کے قاتل کو 2بار عمر قید اور 4لاکھ جرمانہ کی سزاء کا حکم
جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل اسرائیل اور فلسطین کے دورے پر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »