وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار     No IMG     وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہ     No IMG     ای سی جی رپورٹ میں نواز شریف کے دل کا سائز بڑھا ہوا نظر آیا۔ طبی معائنے کے بعد اسپتال داخل کرنے کا فیصلہ     No IMG     انڈونیشیا میں ایک بار پھر 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا     No IMG     حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی     No IMG     پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں دھند کا راج برقرار     No IMG     سانحہ ساہیوال کی فائل دبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ، حادثے کی جگہ کے تمام شواہد ضائع کر دیئے     No IMG     مسلم لیگ ق نے کا تحریک انصاف کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ     No IMG     تحریک انصاف نے سابق صدرآصف علی زرداری کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر بغیر تحقیقات کے بیانات دینے پر وزرا اور پنجاب پولیس پر سخت اظہار برہمی     No IMG     وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جسٹس ثاقب نثارپرتنقید، موجود چیف جسٹس کی تعریف     No IMG     برطانیہ میں بھی برف باری سے شدید سردی     No IMG     برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے جان میجر نے موجودہ وزیرِاعظم تھریسا مے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی (بریگزٹ) پر ریڈ لائن سے پیچھے ہٹ جائیں     No IMG     میکسیکو میں پیٹرول کی پائپ لائن میں دھماکے اور آگ لگنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی     No IMG     امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات     No IMG    

جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں
تاریخ :   21-06-2018

جرمنی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں جسم فروشی کا کاروبار زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر کے منظم گروہوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں سزائیں دلوانا انتہائی مشکل عمل ثابت ہوتا ہے کیونکہ اکثر خواتین مجرموں کے خلاف بیان دینے سے ڈرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس بارے میں جرمنی کے تجربہ کار تفتیشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ڈوئچے ویلے نے جرمنی کے جنوبی صوبے باڈن ورٹمبرگ میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے صوبائی ادارے کے اعلیٰ اہلکار وولفگانگ فِنک کے ساتھ بات چیت کی۔ فِنک گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے منظم جرائم پیشہ گروپوں اور انسانوں کی تجارت سے متعلقہ جرائم کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ڈوئچے ویلے کی دو خاتون صحافیوں ایستھر فیلڈن اور نومی کونراڈ کے ساتھ اس انٹرویو میں وولفگانگ فِنک نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جسم فروشی یا ’ریڈ لائٹ اکانومی‘ کس طرح کام کرتی ہے اور اس شعبے میں فعال خواتین کو کس کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں، وولفگانگ فِنک نے بتایا، ’’سب سے پہلے تو ان خواتین میں تفریق کرنا پڑے گی، جو کسی قحبہ خانے میں جسم فروشی کرتی ہیں اور وہ جو سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگوں کو جنسی خدمات کی پیشکش کرتی ہیں۔ قحبہ خانوں میں کام کرنے والی خواتین کے حالات کار معمولی سے بہتر ہوتے ہیں جبکہ سڑکوں پر جسم فروشی کرنے والی عورتوں کے حالات کار زیادہ پرخطر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف قحبہ خانے دن رات کھلے رہتے ہیں اور وہاں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ وہاں کام کرنے والی عورتیں اکثر باہر نکلتی ہی نہیں۔ ہمیں کئی بار مختلف واقعات میں تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ان خواتین میں سے بہت سی تو یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ جس دن ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی، اس دن مہینہ اور تاریخ کیا تھے۔‘‘

وولفگانگ فِنک کے بقول جرمنی میں مقیم تارکین وطن کے پس منظر کی حامل خواتین میں جرمنی میں یا ان  کے آبائی ممالک میں غربت کے باعث ’مالی محرومی کی وجہ سے جسم فروشی‘ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ان خواتین کو ان کی جنسی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ افراط زر میں اضافے کے باوجود کم بھی ہوا ہے۔ فِنک نے بتایا کہ مختلف شہروں کے ریڈ لائٹ علاقوں میں بہت سی خواتین کو ان کی جسمانی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ تیس یا چالیس یورو فی بیس منٹ تک ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب جسم فروشی کے لیے مختلف شہروں کے مخصوص علاقوں کے مقابلے میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

وولفگانگ فِنک نے اس انٹرویو میں جو بہت تکلیف دہ بات بتائی وہ یہ تھی کہ اس شعبے میں خواتین کو اکثر ایک ’تجارتی شے‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس ’شے‘ کے حصول کے لیے انٹرنیٹ پر آرڈر بھی ایسے دیے جاتے ہیں جیسے کوئی کسی آن لائن کیٹیلاگ سے اپنے لیے جوتوں یا روزمرہ استعمال کی کسی ’چیز‘ کا آرڈر دیتا ہو۔

جسم فروشی کے لیے جرمنی آنے والی یا جرائم پیشہ منظم گروہوں کی طرف سے اس ملک میں لائی جانے والی ایسی غیر ملکی خواتین جرمنی ہی کا رخ کیوں کرتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وولفگانگ فِنک نے کہا، ’’بڑی وجہ بطور ایک ریاست جرمنی کی بہت اچھی مالی حالت بھی ہے۔ جرمنی میں ایسی بہت سی خواتین کا تعلق مشرقی یورپی ممالک سے ہوتا ہے، جو اپنے آبائی ممالک میں اقتصادی اور مالیاتی دباؤ کے باعث اس ملک کا رخ کرتی ہیں۔ ایسی اکثر لڑکیوں اور خواتین کو یہ علم بھی ہوتا ہے کہ وہ جرمنی میں جسم فروشی کریں گی یا بظاہر کسی بار میں ملازمت کریں  گی۔ لیکن جو بات وہ نہیں جانتی ہوتیں، وہ یہ ہوتی ہے کہ ان سے ان کی ساری کمائی بھی چھین لی جائے گی۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
کوئی ٹکٹ والا آئےیا آزاد امیدوار ایک چھوٹی سی جلسی بھی نہیں کرسکے،چوہدری نثار
عمران خان حکومت بنانے کےلیےپیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملانے والے ہیں؟ شیخ رشید
Translate News »