اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG     آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع     No IMG     ہولناک ٹریفک حادثہ، ڈرائیور ہلاک، 7 افراد زخمی     No IMG     فلسطینیوں نے مقبوضہ علاقوں پر 200 راکٹ فائر کئے ہیں جن کے نتیجے میں 19 صہیونی زخمی     No IMG     بالی ووڈ اداکارہ راکھی ساونت کوغیر ملکی خاتون ریسلر سے پنگا مہنگا پڑگیا‘ اداکارہ ہسپتال پہنچ گئی     No IMG     موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی,چیف جسٹس آف پاکستان     No IMG     چیئرمین نیب نے تمام افسران کے میڈیا کو انٹرویوز پر پابندی عائد کردی     No IMG     افریقی ملک یوگنڈا میں ایک اسکول میں آگ لگنے کے سبب 9 بچے ہلاک 40 زخمی     No IMG    

جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں
تاریخ :   21-06-2018

جرمنی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)  میں جسم فروشی کا کاروبار زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر کے منظم گروہوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں سزائیں دلوانا انتہائی مشکل عمل ثابت ہوتا ہے کیونکہ اکثر خواتین مجرموں کے خلاف بیان دینے سے ڈرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس بارے میں جرمنی کے تجربہ کار تفتیشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ڈوئچے ویلے نے جرمنی کے جنوبی صوبے باڈن ورٹمبرگ میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے صوبائی ادارے کے اعلیٰ اہلکار وولفگانگ فِنک کے ساتھ بات چیت کی۔ فِنک گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے منظم جرائم پیشہ گروپوں اور انسانوں کی تجارت سے متعلقہ جرائم کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ڈوئچے ویلے کی دو خاتون صحافیوں ایستھر فیلڈن اور نومی کونراڈ کے ساتھ اس انٹرویو میں وولفگانگ فِنک نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جسم فروشی یا ’ریڈ لائٹ اکانومی‘ کس طرح کام کرتی ہے اور اس شعبے میں فعال خواتین کو کس کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی میں جسم فروشی کرنے والی خواتین کس طرح کے حالات میں یہ کام کرتی ہیں، وولفگانگ فِنک نے بتایا، ’’سب سے پہلے تو ان خواتین میں تفریق کرنا پڑے گی، جو کسی قحبہ خانے میں جسم فروشی کرتی ہیں اور وہ جو سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگوں کو جنسی خدمات کی پیشکش کرتی ہیں۔ قحبہ خانوں میں کام کرنے والی خواتین کے حالات کار معمولی سے بہتر ہوتے ہیں جبکہ سڑکوں پر جسم فروشی کرنے والی عورتوں کے حالات کار زیادہ پرخطر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف قحبہ خانے دن رات کھلے رہتے ہیں اور وہاں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ وہاں کام کرنے والی عورتیں اکثر باہر نکلتی ہی نہیں۔ ہمیں کئی بار مختلف واقعات میں تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ ان خواتین میں سے بہت سی تو یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ جس دن ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی، اس دن مہینہ اور تاریخ کیا تھے۔‘‘

وولفگانگ فِنک کے بقول جرمنی میں مقیم تارکین وطن کے پس منظر کی حامل خواتین میں جرمنی میں یا ان  کے آبائی ممالک میں غربت کے باعث ’مالی محرومی کی وجہ سے جسم فروشی‘ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ان خواتین کو ان کی جنسی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ افراط زر میں اضافے کے باوجود کم بھی ہوا ہے۔ فِنک نے بتایا کہ مختلف شہروں کے ریڈ لائٹ علاقوں میں بہت سی خواتین کو ان کی جسمانی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ تیس یا چالیس یورو فی بیس منٹ تک ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب جسم فروشی کے لیے مختلف شہروں کے مخصوص علاقوں کے مقابلے میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

وولفگانگ فِنک نے اس انٹرویو میں جو بہت تکلیف دہ بات بتائی وہ یہ تھی کہ اس شعبے میں خواتین کو اکثر ایک ’تجارتی شے‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس ’شے‘ کے حصول کے لیے انٹرنیٹ پر آرڈر بھی ایسے دیے جاتے ہیں جیسے کوئی کسی آن لائن کیٹیلاگ سے اپنے لیے جوتوں یا روزمرہ استعمال کی کسی ’چیز‘ کا آرڈر دیتا ہو۔

جسم فروشی کے لیے جرمنی آنے والی یا جرائم پیشہ منظم گروہوں کی طرف سے اس ملک میں لائی جانے والی ایسی غیر ملکی خواتین جرمنی ہی کا رخ کیوں کرتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وولفگانگ فِنک نے کہا، ’’بڑی وجہ بطور ایک ریاست جرمنی کی بہت اچھی مالی حالت بھی ہے۔ جرمنی میں ایسی بہت سی خواتین کا تعلق مشرقی یورپی ممالک سے ہوتا ہے، جو اپنے آبائی ممالک میں اقتصادی اور مالیاتی دباؤ کے باعث اس ملک کا رخ کرتی ہیں۔ ایسی اکثر لڑکیوں اور خواتین کو یہ علم بھی ہوتا ہے کہ وہ جرمنی میں جسم فروشی کریں گی یا بظاہر کسی بار میں ملازمت کریں  گی۔ لیکن جو بات وہ نہیں جانتی ہوتیں، وہ یہ ہوتی ہے کہ ان سے ان کی ساری کمائی بھی چھین لی جائے گی۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
کوئی ٹکٹ والا آئےیا آزاد امیدوار ایک چھوٹی سی جلسی بھی نہیں کرسکے،چوہدری نثار
عمران خان حکومت بنانے کےلیےپیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملانے والے ہیں؟ شیخ رشید
Translate News »