پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

جرمنی سے ملک بدریاں اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں انتہائی کم تعاون کرنے والے ممالک میں پاکستان اور بھارت سب سے نمایاں
تاریخ :   26-03-2018

جرمنی(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں سن 2017 میں ایسے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جنہیں جرمنی سے ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔ جرمن حکام کے مطابق ان تارکین وطن کے آبائی ممالک ان کی سفری دستاویزات کے حصول میں تعاون نہیں کر رہے۔

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کی ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ سن 2017 میں ملک میں ایسے تارکین وطن کی تعداد میں اکہتر فیصد تک اضافہ ہوا، جن کی جرمنی میں پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں لیکن ان کے پاس سفری دستاویزات نہ ہونے کے سبب جرمنی سے ملک بدر کر کے واپس ان کے آبائی ممالک نہیں بھیجا جا سکا۔ سن 2016 میں ایسے پناہ گزینوں کی تعداد 38 ہزار تھی جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد بڑھ کر 65 ہزار ہو گئی۔

وزارت داخلہ کی اس داخلی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات میں ایسے پناہ گزینوں کی وطن واپسی اس لیے ممکن نہ ہو سکی کیوں کہ ان کے آبائی وطنوں کے جرمنی میں موجود سفارت خانوں اور کونسل خانوں نے ان کی سفری دستاویزات کے حصول میں تعاون نہیں کیا۔

پاکستان اور بھارت کا ’انتہائی کم تعاون‘

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں انتہائی کم تعاون کرنے والے ممالک میں پاکستان اور بھارت سب سے نمایاں رہے۔ بھارتی حکام کے عدم تعاون سے متعلق جرمن وزارت داخلہ کی اس رپورٹ میں لکھا گیا، ’’بارہا رابطوں اور سفارت خانے میں جانے کے باوجود بھارتی تارکین وطن کے لیے نئے پاسپورٹ کے اجرا کے حوالے سے سفارت خانے کا تعاون یا تو انتہائی سست رہتا ہے یا پھر بالکل نہ ہونے کے برابر۔‘‘

اسی طرح پاکستانی حکام کے عدم تعاون کے بارے میں اس رپورٹ کے مندرجات کچھ یوں تھے، ’’پاسپورٹ کے حصول کی درخواستوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے لیکن سست روی سے۔‘‘

علاوہ ازیں لبنانی سفارت خانے کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ بھی سفری دستاویزات کے حصول میں انتہائی کم تعاون کرتے ہیں اور کئی مرتبہ سفارت خانے سے رابطہ کرنا بھی بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین سے متعلق طے پانے والے معاہدے کو دو برس گزر چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں ترکی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ سن 2017 کے اواخر میں ترک حکام سے کا تعاون ’کمزور‘ سے ’انتہائی کمزور‘ کے درجے پر جا پہنچا تھا۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغانستان اور روس سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کی جرمنی میں پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ ملک بھر میں تین ہزار آٹھ سو تارکین وطن ایسے بھی ہیں جن کی اصل قومیت اور شناخت کے بارے میں حکام ابھی تک معلومات حاصل نہیں کر پائے ہیں۔

پناہ کے فیصلوں کے خلاف کامیاب اپیلوں میں اضافہ

گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر بی اے ایم ایف کے حکام بڑے پیمانے پر پناہ کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں لیکن ایسے فیصلوں کے خلاف تارکین وطن کی انتظامی عدالتوں میں کامیابی کا تناسب بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اب تک جرمن حکام نے پناہ کی جتنی درخواستوں پر فیصلے کیے ہیں ان کی تعداد یورپی یونین کے تمام دیگر رکن ممالک کے مجموعی طور پر کیے گئے فیصلوں سے بھی زیادہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
پاکستان کی سالمیت ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے,چوہدری محمد شاہد گھمن
شیخوپورہ پولیس کے شہداء کی یاد میں ضلع کونسل ہال میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »