چودھری پرویزالٰہی سے فردوس عاشق اعوان کی ملاقات     No IMG     یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب     No IMG     وزیروں کو نکالنے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی, بلاول بھٹو زرداری     No IMG     ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں سعد آباد محل میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا باقاعدہ اور سرکاری طور پر استقبال     No IMG     بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG    

جرمنی اور بھارت کے درمیان 5250 کروڑ روپے تعاون کا معاہدہ پر دستخط
تاریخ :   01-08-2018

بھارت( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) اور جرمنی میں ترقیاتی تعاون کے ساٹھ برس مکمل ہو گئے ہیں۔ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے دونوں ملکوں نے آج 5250 کروڑ روپے کے مالی اور تکنیکی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بھارت میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر مارٹن نئے اور بھارتی وزارت خزانہ میں اقتصادی امور کے جوائنٹ سکریٹری سمیر کما ر نے آج بدھ کے روز ایک تقریب میں بھارت جرمنی ترقیاتی تعاون فریم ورک کے تحت مالی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ امدادی رقم تقریباً 8500 کروڑ روپے کے اس معاہدہ کا حصہ ہے، جس کا وعدہ جرمنی نے گزشتہ برس دسمبر کے اوائل میں نئی دہلی میں منعقدہ بھارت جرمنی بین الحکومتی مذاکرات کے دوران کیا تھا۔
اس معاہدہ کے تحت جرمنی کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی اس امداد کا استعمال عوامی ترقیاتی پروگراموں کو جاری رکھنے کے لئے کیا جائے گا۔ ان پروگراموں کے تحت پائیدار شہری ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور مودی حکومت کے اسمارٹ شہروں کے منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بنیادی ڈھانچے، شہری آمدورفت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے منصوبوں پر یہ امدادی رقم خرچ کی جائے گی۔گنگا ندی کی صفائی، انرجی سیکٹر کے لئے اضافی وسائل کا حصول، شمسی توانائی کو فروغ دینے اور توانائی کے دیگر وسائل کو بہتر بنانے کے اقدامات میں تعاون بھی اس معاہدے میں شامل ہیں۔خیال رہے کہ جرمنی گنگا ندی کی صفائی کے بھارت کے قومی پروگرام نیشنل کلین گنگا مشن میں خصوصی تعاون کر رہا ہے۔ گنگا ندی کو ہندؤں میں انتہائی مقدس مذہبی مقام حاصل ہے۔ وہ اسے ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے گنگا کا پانی نہانے کے لائق بھی نہیں رہ گیا ہے۔
ڈاکٹر مارٹن  نے جرمنی بھارت ترقیاتی تعاون کے ساٹھ برس مکمل ہونے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ ہمیں غربت کا خاتمہ کر کے، ہر ایک کو بہتر ذریعہ معاش فراہم کر کے اور ماحولیات کا تحفظ کر کے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنے کے ہمارے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو بھارت کا ترقیاتی شریک کار ہونے پر فخر ہے۔
جرمن سفیر کا مزید کہنا تھا،’’ آج جرمنی اور بھارت کے درمیان امداد دینے اور لینے والے کی شناخت ختم ہو گئی ہے اور ہم برابر کے شریک کار ہیں۔ دنیا کو بہتر بنانے کے لئے باہمی ترقیاتی تعاون آج ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔‘‘

خیال رہے کہ جرمنی گزشتہ چھ دہائیوں سے بھارت میں کروڑوں افراد کی ضروریات زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ تقریباً 8.5 ملین یورو کے ساتھ بھارت جرمنی کی طرف سے دنیا بھر میں باہمی ترقیاتی امداد کے لئے سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والا ملک ہے۔ جرمنی یورپ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور تکنیکی تعاون کے معاملے میں دوسرا سب سے اہم ترین پارٹنر ہے۔
جرمنی بھارت میں غربت کے خاتمے اور قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنے کے لئے بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر سرکاری تنظیموں کی مدد کر رہا ہے۔ جرمنی بھارت کے متعدد حکومتی ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد کر رہا ہے۔ ان میں روزگار کے مواقع میں اضافے کے لئے ووکیشنل ایجوکیشن، ٹریننگ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کی مدد شامل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بھارت اور جرمنی کے درمیان ترقیاتی اور تکنیکی تعاون کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دو برسوں میں دونوں ملکوں کے مابین مجموعی طور پر 18.76 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ اس میں بھارت نے 7.18 ارب ڈالر کی اشیاء جرمنی کو برآمد کیں جب کہ جرمنی سے 11.58ارب ڈالر مالیت کے مصنوعات درآمد کی گئیں۔ سن 2017ء میں جرمن کمپنیوں نے بھارت میں 1.2 ارب یوروکی سرمایہ کاری کی تھی۔گزشتہ دس برسوں میں باہمی تجارت کا حجم تین گنا بڑھ چکا ہے۔ اٹھارہ سو جرمن کمپنیوں نے بھارت میں چار لاکھ سے زائد ملازمت کے مواقع پیدا کئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
آسٹریا،حکومت نے موٹر وے پر حدرفتار میں اضافہ
پنجاب میں کس پارٹی کی حکومت ہو گی ؟ آج کی سب سے بڑی خبر آگئی
Translate News »