امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

ترکی

  • ترک پولیس نے دہشت گرد تنظیم داعش کے معدوم کمانڈر ابوعمر الشیشانی کی بیوی کو گرفتار کرلیا

    استنبول ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) ترک پولیس نے وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے معدوم کمانڈر ابوعمر الشیشانی کی بیوی کو گرفتار کرلیا ہے۔

    عمر کا چچنیہ سے تعلق تھا اور اسے 2016 میں ہلاک کردیا گیا تھا ابو عمر الشیشانی داعش دہشت گرد تنظیم کا اہم کمانڈر تھا۔ ترک پولیس کے مطابق استنبول میں 5 افراد کو داعش کے ساتھ تعاون کے الزآم میں گرفتار کیا گیا ہے انا افراد میں ابو عمر الشیشانی کی بیوی بھی شامل ہے۔

  • ترکی ميں ہنگامی حالت کا خاتمہ

    ترکی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) ميں سن 2016 ميں ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد نافذ کردہ ايمرجنسی حالت کو قريب دو برس بعد بدھ اٹھارہ جولائی کو ختم کيا جا رہا ہے۔ اپوزيشن قوتوں کو ليکن خدشہ ہے کہ متنازعہ آئينی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ترکی ميں ہنگامی حالت مقامی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درميانی شب ايک بجے ختم ہو رہی ہے۔ انقرہ حکومت نے اس کی مدت ميں توسيع کے بارے ميں کوئی اعلان نہيں کيا اور يہی وجہ ہے کہ يہ ہنگامی حالت اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ تاہم ملکی اپوزيشن اب بھی کافی نالاں دکھائی ديتی ہے، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے پارليمان ميں پيش کيا جانے والا ايک مجوزہ قانون ہے۔ اپوزيشن کے مطابق نيا قانون ايمرجنسی نظام کے سب سے سخت اور متنازعہ معاملات کو سرکاری شکل دينے کی کوشش ہے۔

    ترکی ميں صدر رجب طيب ايردوآن کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی ناکام کوشش کے بعد دارالحکومت انقرہ اور ديگر کئی بڑے شہروں ميں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس پيش رفت کے پانچ دن بعد بيس جولائی سن 2016 کے روز صدر ايردوآن نے ايمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر ديا تھا۔ عموماً ہنگامی حالت کا نفاذ تين ماہ تک جاری رہتا ہے ليکن اس ميں سات مرتبہ توسيع کی گئی۔

    ترک حزب اختلاف انقرہ حکومت کی جانب سے پارليمان ميں پيش کردہ انسداد دہشت گردی کے مجوزہ قانون پر کافی برہم دکھائی ديتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے حکومت نواز اداروں پر اسے ’اينٹی ٹيرر‘ کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔ مرکزی اپوزيشن جماعت ری پبلکن پيپلز پارٹی (CHP) کے مطابق اس بل کی شقيں ايمرجنسی حالت کے مساوی ہی ہيں۔ جماعت کے ايک سينئر رکن اور پارليمان ميں نمائندگی کرنے والے اوزگور اوزل نے کہا، ’’اس بل کے مسودے ميں ہنگامی حالت کی مدت تين ماہ کے بجائے تين برس تجويز کی گئی ہے۔ بظاہر ايسا دکھائی دے رہا ہے کہ ايمرجنسی ختم کی جا رہی ہے جب کہ در حقيقت يہ اس ميں توسيع ہی کر رہے ہيں۔‘‘ علاوہ ازيں نئے مجوزہ قانون ميں بہت سی ديگر متنازعہ شقيں بھی شامل ہيں۔

    ترکی ميں صدراتی نظام رائج ہے اور صدر رجب طيب ايردوآن بے پناہ اختيارات کے حامل ہيں۔

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے 192 ممالک کے مابین ترک وطن کے ایک عالمگیر معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا

    ۔نیویارک( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے 192 ممالک کے مابین ترک وطن کے ایک عالمگیر معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ جس کا مقصد عالمی سطح پر ترک وطن کے عمل کو محفوظ اور منظم بنانا ہے جبکہ امریکا ان ممالک میں شامل نہیں۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر سے ہفتے کو ملنے والی مختلف خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اس ’’مائیگریشن پیکٹ‘‘ پر اتفاق رائے دراصل ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والے کٹھن مذاکرات کے بعد ایک ایسی مشترکہ دستاویز کی منظوری کی صورت میں ہوا، جس پر دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کے نمائندوں نے خوشی کا اظہار کیا۔معاہدے کی اسی سال دسمبر میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے وزرا کے مراکش میں ہونے والے ایک اجلاس میں توثیق ابھی باقی ہے۔

  • ترکی میں ریل گاڑی پٹری سے اترگئی جس کے نتیجے میں 24 مسافر ہلاک 73 زخمی ہوگئے

     ترکی (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو)میں ریل گاڑی پٹری سے اترگئی جس کے نتیجے میں 24 مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی کے شمال مغربی شہر تکیرداغ میں ایک ریل گاڑی پٹری سے اتر گئی جس سے 24 افراد ہلاک اور 73 زخمی ہوگئے۔ حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی استنبول شہر جارہی

    تھی اور اس میں 360 مسافر سوار تھے۔ ترک ذرائع کے مطابق ٹرین کی 6 بوگیوں ميں سے پانچ بوگیاں پٹری سے نیچے اتر گئیں۔ ترک حکام کے مطابق زخمی افراد کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

  • ترکی کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر رجب طیب اردوغان آج اپنے عہدے کاحلف اٹھائیں گے

     ترکی(ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر رجب طیب اردوغان آج اپنے عہدے کاحلف اٹھائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق رجب طیب اردوغان کی حلف برداری کی تقریب میں عالمی شخصیات بھی شرکت کریں گی، جس کے باعث تقریب کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حلف اٹھانے کے بعد ترک صدر آج ہی اپنی نئی کابینہ کا بھی اعلان کریں گے۔

  • ترکی میں صدر اردوغان نے 18 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا

     ترکی (ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) میں صدر اردوغان کی حکومت  نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں فوجی بغاوت میں معاونت فراہم کرنے کے شبہ میں 18 ہزار سے زائد ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ برطرف کردہ ملازمین میں 9 ہزار پولیس اہلکار، 5 ہزار فوجی اور 200 کے قریب مختلف جماعت کے اساتذہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہونے والی برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ 2016ء میں منتخب جمہوری صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں اب تک ایک لاکھ سے زآئد  سول و عسکرین ملازمین کو گرفتار اور عہدوں سے برطرف کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

  • ترکی گولن نیٹ ورک سے تعلق کے شبے میں 271 ترک فوجی گرفتار

    تُرکی (ورلڑ فاسٹ نیوز فار یو) کے ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے دو سال قبل بغاوت میں معاونت اور جلا وطن لیڈر فتح اللہ گولن کی تنظیم سے وابستگی کے شبے میں کم سے کم 271 فوجیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

    تُرکی سے نشریات پیش کرنے والے’ٹی آر ٹی نیوز‘کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے کئی صوبوں میں گولن نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن میں 271مشتبہ ’باغیوں‘ کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ گرفتار کیے گئےافراد امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔

    ترک اخبار’اسٹار‘ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل ہیں جن میں سے 10 کرنل کے عہدے کے افسر ہیں جب کہ متعدد ریٹائرڈ جرنیل بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔

    ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ترکی انسداد دہشت گردی پولیس نے جمعہ کو علی الصباح استنبول میں گولن نیٹ ورک کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔

    خیال رہے کہ ترکی میں جولائی 2016ء کو ملک میں ناکام بغاوت برپا کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق دو سال کے دوران عراقی پولیس نے بغاوت میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کو گرفتار کیا جب کہ ہزاروں سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔

  • ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل میں ایسا کام کردیا کہ پوری عرب دنیا میں کھلبلی مچ گئی،

    یروشلم(ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) ترک صدر رجب طیب اردگان نے جس طرح فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کے لئے آواز اٹھائی ہے اس کی وجہ سے اکثر لوگ انہیں امت مسلمہ کی آواز قرار دینے لگے ہیں۔ بہرحال فلسطین کی بات کی جائے تو اس معاملے میں وہ کچھ ایسے سرگرم ہوئے ہیں کہ خطے کے متعدد عرب ممالک، بلکہ خود فلسطین بھی پریشان ہو گیا ہے۔

    نیوز ویب سائٹ ”ہارٹز“ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران اردن، سعودی عرب اور حتیٰ کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بھی اسرائیل کو شکایت کی گئی ہے کہ مشرقی یروشلم میں ترکی کی سرگرمیاں ان کیلئے باعث تشویش ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ترک صدر یروشلم کے ایشو کی ملکیت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا بھی کہنا ہے کہ عرب ممالک کی جانب سے انہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی یروشلم کے علاقے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کیلئے سرگرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی مشرقی یروشلم کے علاقے میں اسلامی تنظیموں کو عطیات دے کر، اپنے شہریوں کی بڑی تعداد کو اس علاقے میں پہنچا کر، علاقے میں رئیل اسٹیٹ کی خریداری کر کے، اور ترک باشندوں کو اس علاقے میں ہونے والے مظاہروں میں متحرک کرکے اپنا اثر و رسوخ بڑھارہا ہے۔

    سعودی عرب، اردن اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسرائیل سے شکوہ کیا گیا ہے کہ وہ علاقے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکتے ہوئے مطلوبہ اقدامات نہیں اٹھارہا ۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ترک سرگرمیوں میں گزشتہ سال شدت آئی ہے اور سینکڑوں ترک باشندوں کو مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ باشندے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف جھڑپوں میں بھی ملوث قرار دئیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ان میں سے متعدد کو گرفتار کیا ہے جبکہ کچھ کو ملک بدر بھی کیا گیا ہے اور ان کی دوبارہ واپسی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

  • ترکی میں عام انتخابات کے بعد ایک بار پھر کریک ڈاؤن کا آغاز فوجیوں سمیت 86 افراد گرفتار

     ترکی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) میں عام انتخابات کے بعد ایک بار پھر کریک ڈاؤن کا آغاز ہوگيا ہے ترکی کے مختلف علاقوں سے ایک فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے 86 افراد گرفتار کر لئے گئے جن میں حاضر سروس فوجی افسران بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق  دہشتگرد تنظیم ایف ای ٹی او کے 151 ارکان کے وارنٹ جاری کئے گئے جن میں سے 86 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں 30 حاضر سروس اور سابق فوجی افسران اور 13 امام جماعت شامل ہیں۔ ترک ذرائع کے مطابق گرفتار افراد نے 2016 میں ناکام فوجی بغاوت میں حصہ لیا تھا۔واضح رہے کہ ابھی مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ترکی میں 2016 میں ہونے والی ناکام فوج بغاوت کے پیچھے سعودی عرب، امارات اور امیرکہ کا ہاتھ تھا۔ ناکام فوجی بغاوت کے ماسٹر مائنڈ فتح اللہ گولن آج بھی امیرکہ میں مقیم ہیں اور ترکی کے مطالبے کے باوجود ماریکہ نے فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔

  • روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کو ترکی کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے پر مبارکباد

    روس (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)کے صدر ولادیمیر پوتین نے ترکی کے صدر رجب طیب  اردوغان کو ترکی کے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ ترکی کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کے صدر اردوغان کل ہونے والے صدارتی انتخابات میں 53 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے ہیں اور س طرح وہ ترکی کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل ایران کے صدر روحانی اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی ترک صدر اردوغان کو صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی تھی۔

  • صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر اپنے حریفوں کو شکست دے دی

     ترکی(ورڈ فاسٹ نیوز فار یو) کے موجودہ  صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر اردوغان نے 1۔53 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدارتی انتخاب کی دوڑ میں عوامی اتحاد کے رجب طیب اردوغان، جمہوریت عوام پارٹی کے محرم انجے، کرد سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صلاح الدین دمیر تش، فضیلت پارٹی کے تیمل کرمولا اولو اور وطن پارٹی کے دواُو پیرنچک کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں موجودہ  صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر اپنے حریفوں کو شکست دے دی۔ انہوں نے اپنے حریفوں کے مدمقابل 53.1 فیصد ووٹ لے کر سبقت حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوئے۔  ووٹرز کی تعداد کروڑ 63 لاکھ 22 ہزار 632 تھی جب کہ ساڑھے 30 لاکھ بیرون ملک مقیم شہریوں نے بھی ووٹ ڈالا۔

  • ترکی میں اتوار 24 جون کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد

    ترکی (ورڈ فاسٹ نیوز فار یو)میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات اتوار کو ایک ساتھ منعقد ہوں گے  ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ انتخابات کے  ذریعے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور ان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نیا مینڈیٹ لینا چاہتے ہیں۔ ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ 24 جون کو ہوں گے، یہ انتخابات 3 نومبر 2019 کو طے شدہ الیکشن سے 16ماہ قبل ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے ذریعے موجودہ صدر رجب طیب اردوغان اور حکمران جماعت نیا مینڈیٹ لینا چاہتے ہیں۔صدارتی الیکشن دو مرحلوں میں مکمل ہوگا۔پہلا مرحلہ 24 جون کو منعقد ہوگا۔کوئی بھی امیدوار اگر 51 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکا تو معاملہ دوسرے مرحلے تک جائے گا۔جس کا انعقاد 8 جولائی کو ہوگا۔صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردوغان کے مقابلے میں دیگر 5 امیدوار میدان میں ہیں ، جبکہ پارلیمانی انتخابات میں 600 نشستوں کیلئے ووٹنگ ہونی ہے۔ترکی میں جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔ان انتخابات کے بعد ملک میں صدارتی نظام نافذ کردیا جائے گا جس سے صدر کے اختیار ات میں اضافہ ہوگا۔