پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

ترکی کی ایک عدالت نے جرمن خاتون صحافی میزالے تولو اور پانچ دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم
تاریخ :   18-12-2017

ترکی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )  کی ایک عدالت نے جیل میں قید جرمن خاتون صحافی میزالے تولو اور پانچ دیگر افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں بائیں بازو کے ایک گروہ کا رکن ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

تولو پر ’مارکسسٹ لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی‘ کا رکن ہونے کا الزام ہے۔ اس گروہ پر ترکی میں پابندی عائد ہے اور ترک حکومت نے اسے دہشت گرد گروہ کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ترکی میں جرمن صحافی کی حراست برلن اور انقرہ کے درمیان تناؤ کا باعث بنی رہی ہے۔

جرمن صحافی تولو کی وکیل کیدر ٹونک نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،’’ تولو کو جوڈیشل کنٹرول  کے تحت رہائی کا حکم سنایا گیا ہے۔ ‘‘ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تولو رہائی حاصل کرنے کے بعد بھی ہر ہفتے انتطامیہ کو رپورٹ کریں گی اور انہیں ترکی سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس عدالتی حکم پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا اڈےباہر کا کہنا تھا،’’ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، حتیٰ کہ تولو کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔‘‘ تولو کا کیس ان مختلف متنازعہ معاملات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں  نیٹو اتحادی ممالک ترکی اور جرمنی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی تولو کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ چانسلر میرکل کا کہنا ہے،’’  ایک حوالے سے سے یہ اچھی خبر ہے کہ تولو کو رہائی مل گئی ہے لیکن یہ مکمل اچھی خبر نہیں ہے کیوں کہ وہ ترکی سے باہر نہیں جا سکتی اور اب بھی اس کے خلاف کیس جاری ہے۔

تولو ای ٹی ایچ اے نامی نیوز ایجنسی میں بطور صحافی اور مترجم کام کرتی تھی۔ تولو نے استنبول کی عدالت کو بتایا  کہ اسے ترکی میں آزادی رائے کے اظہار  کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں تولو اپنے تین سال کے بیٹے کے ساتھ جیل میں قید رہی۔ اس کا شوہر سوات کورلو کو بھی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اسے نومبر میں رہائی مل گئی تھی۔

اس وقت بھی آٹھ جرمن شہری ترکی میں زیر حراست ہیں۔ ان میں جرمن اخبار ’ڈی ویلٹ‘ کے صحافی ڈینز یوچیل بھی شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکا نے سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے القدس پر فیصلے کے خلاف قرار داد ویٹو کردی ہے
بنگلہ دیش کے جنوبی شہر چٹاگانگ میں بھگدڑ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »