آرمی چیف سے بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقات     No IMG     اسرائیل کی جیل میں آگ بھڑک اٹھی، کئی کمرے جھلس گئے     No IMG     اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی15 فلسطینی شہری گرفتار     No IMG     وزیر ریلوے شیخ رشید کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر     No IMG     فضائی حدود کی بندش، ائیرانڈیا کو کروڑوں کا نقصان     No IMG     دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی ,سعودی وزیر خارجہ     No IMG     ایران، عراق اور شامی افواج کے خون نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا, بشار الاسد     No IMG     آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور     No IMG     سابق وزیراعلی شہباز شریف کے خلاف ایک اور انکوائری شروع     No IMG     کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت     No IMG     روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روس میں کرائسٹ چرچ جیسا دہشت گرد حملہ نہیں ہونے دیں گے     No IMG     برطانوی حکام نے نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئی دہشت گردی کی طرز پر برطانیہ میں بھی واقعات پیش آنے کا خدشہ     No IMG     نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا     No IMG     نیوزی لینڈ مساجد پر دہشت گرد حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر میڈیا کی تنقید سے برہم     No IMG     نیوزی لینڈ کی قومی فٹسل ٹیم کے گول کیپر عطا الیان بھی کرائسٹ چرچ واقعے میں شہید     No IMG    

ترکی میں شامی بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں
تاریخ :   27-10-2018

استنبول ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) ترکی کے شہر استنبول میں جرمن چانسلر کے ساتھ ساتھ ترکی، روس اور فرانس کے صدور ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان رہنماؤں کی بات چیت کا مقصد شامی بحران کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔

ترکی کی میزبانی میں شام کے موضوع پر چار فریقی سربراہی اجلاس استنبول میں شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد جنگ سے تباہ حال ملک شام کے بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ اس دوران انسانی بنیادوں پر جاری کارروائیوں اور امداد میں اضافے کے علاوہ شام میں باغیوں کے آخری سب سے بڑے گڑھ ادلب میں فائر بندی کے نازک معاہدے میں توسیع جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے میزبان صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا، ’’آج دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم خلوص کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک تعمیری اتفاق پر پہنچیں گے اور عالمی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام نہیں ہوں گے۔‘‘ اس موقع پر ایردوآن نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل ماکروں، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو استنبول پہنچنے پر خوش آمدید کہا۔

ماہرین کی خیال میں ایک بڑا مسئلہ اس اجلاس میں شریک رہنماؤں کی شامی صدر بشارالاسد کے حوالے سے اختلافِ رائے ہے۔ روس صدر اسد کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری جانب جرمنی، فرانس اور ترکی کا شمار اسد مخالفین میں ہوتا ہے۔ تاہم اس دوران روس اور ترکی ادلب اور اس کے ارد گرد بفر زون قائم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل ترکی، ایران اور روس کے صدور شام کے موضوع پر ملاقات کرتے رہے ہیں تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس طرح کے کسی اجلاس میں یورپی یونین کے دو با اثر ممالک جرمنی اور فرانس کے رہنما بھی شریک ہیں۔ استنبول میں اجلاس شروع ہونے سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترک صدر ایردوآن اور روسی صدر پوٹن کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔ اس کے علاوہ میرکل اور ماکروں کے درمیان بھی شام کے موضوع پر بات چیت ہوئی تھی۔

2011ء میں شروع ہونے والے شامی بحران میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی بمباری کی وجہ سے شام کے متعدد شہروں کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور یہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے18 قاتلوں کو ملک بدر کر کے ترکی کے حوالے کرنے سے انکار
منشا بم اور اسکے بیٹے عاصم منشا کے جسمانی ریمانڈ میں 10روز کی توسیع
Translate News »