پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

ترکی سے بہتر تعلقات امریکہ کی ضرورت ہے، سابق سی آئی اے ڈائریکٹر
تاریخ :   23-08-2018

واشنگٹن ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) امریکہ کے سابق وزیر دفاع اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پینیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے چاہیئں ۔ ترکی نہ صرف امریکہ کا ایک اہم نیٹو اتحادی ہے بلکہ خطے میں اس کی ایک اہم حیثیت بھی ہے۔ شام میں روس کی

مداخلت اور ترکی کا روس پر اپنی توانائی کی ضروريات کے لیے بڑھتا ہوا انحصار امریکہ اور ترکی کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہےاپنے انٹرویو میں این ایس اے کے سابق ڈائریکٹر پنیٹا نے امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کی۔ان کا کہنا تھا کہ جتنی دیر یہ مسئلہ چلے گا ترکی کا روس پر انحصار بڑھتا جائے گا ۔ مشرق وسطی کے دیگر ممالک بھی روس کی جانب دیکھنا شروع کر دیں گے ۔ میرے نزدیک امریکہ کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس خطے میں ہم نے ترکی اور آزاد خیال عرب ممالک کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو بحال نہ کیا اور یہ کہ اگر ایران داعش اور دہشت گردی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحاد قائم نہ کیا تو امریکہ کی حیثیت نہ صرف پوری دنیا کمزور ہو گی بلکہ سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے ضروری امریکی اقدامات بھی کمزور پڑ جائیں گے۔ اور ہمیں ایسا کرنے کے لیے ترکی کی ضرورت ہے۔امریکہ کے لیے ترکی کی اہمیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پینیٹا کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارا ایک اہم نیٹو اتحادی ہے۔ وہ یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم دنیا کے اس خطے میں اپنے فوجی مقاصد کے حوالے کے تعاون پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ترکی کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم ترکی کے ساتھ تعلقات کے ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ جس میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ جیسے پادری کا معاملہ ہے۔ وہاں بڑھتے ہوئے غیر جمہوری رویوں کا مسئلہ ہے۔ سٹیل، ایلومینیم اور دوسری چیزوں پر محصولات میں اضافے کا مسئلہ ہے، جس کا اثر اترکی کی معیشت پر پڑا ہے اور اس کی کرنسی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے ساتھ کشیدگی کے اور بھی کئی معاملات ہیں ۔ جن میں کردوں کا مسئلہ بھی ہے۔ امریکہ داعش کو شکست دینے کے لیے کردوں کی مدد کر رہا ہے لیکن ترکی علاقے میں کردوں کے کردار کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہمیں ترکی کے ساتھ ان امور کو حل کرنے کا کوئی طریقہ تلاش کرنا ہوگا ۔ مجھے توقع ہے کہ ہم اس بحران کا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے۔اسلامی دنیا میں ترکی کے کردار اور ماضی میں امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو موضوع بناتے ہوئے لیون پینیٹا نے کہا کہ اسلامی دنیا میں ترکی کی ہمیشہ ایک طاقت ور حیثیت رہی ہے۔ لیکن ترکی ایران سے مختلف ہے۔ وہ دوسرے مسلم ممالک سے بھی مختلف ہے۔ وہ ایک ایسی کلیدی قوت ہے جس کا تعلق یورپ سے بھی ہے اور مشرق وسطیٰ سے بھی ہے۔ اس حیثیت میں ترکی کا ایک اہم کردار ہے۔ اس لیے ترکی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا امریکہ کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔ میں جب ترکی جاتا تھا اور ان کی قیادت سے ملتا تھا تو میں نے انہیں ہمیشہ ہر معاملے میں تعاون پر آمادہ پایا۔ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ ہم وہ ماحول واپس لاسکتے ہیں۔ ایسا کرنا دونوں ملکوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ترکی میں زیر حراست امریکی پادری اینڈرو برونسن کے معاملے پر، جس پر ترکی یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث تھا اور جس کے فوری رہائی کے لیے صدر ٹرمپ کی سخت جملوں میں ٹویٹس دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر چکی ہیں، پینیٹا کا کہنا تھا کہ جہاں تک پادری کے مسئلے پر کھڑے ہونے والے اختلافات ہیں، تو میں یہ کہوں گا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سخت موقف اختیار کرتے ہیں ۔ ہم ترکی کو اس قسم کے شديد اقتصادی مسائل میں نہیں دھکیل سکتے کیونکہ اس کا اثر دنیا کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ترکی پر بہت اہم نوعیت کا انحصار ہے ۔ ہمارے وہاں فوجی مراکز ہیں۔ ہم اس صورت حال کا سامنا نہیں کر سکتے جب ترکی ہمیں فوجی مراکز بند کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ اگر ہم سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھیں تو ہم پادری کا مسئلہ اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے معاملات حل کر سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات، اہم امور پر مشاورت
سابق قانون ساز کو غلط الزام پر گرفتار کیا گیا,وکیل
Translate News »