چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

ترکی سے بہتر تعلقات امریکہ کی ضرورت ہے، سابق سی آئی اے ڈائریکٹر
تاریخ :   23-08-2018

واشنگٹن ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) امریکہ کے سابق وزیر دفاع اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پینیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے چاہیئں ۔ ترکی نہ صرف امریکہ کا ایک اہم نیٹو اتحادی ہے بلکہ خطے میں اس کی ایک اہم حیثیت بھی ہے۔ شام میں روس کی

مداخلت اور ترکی کا روس پر اپنی توانائی کی ضروريات کے لیے بڑھتا ہوا انحصار امریکہ اور ترکی کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہےاپنے انٹرویو میں این ایس اے کے سابق ڈائریکٹر پنیٹا نے امریکہ اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کی۔ان کا کہنا تھا کہ جتنی دیر یہ مسئلہ چلے گا ترکی کا روس پر انحصار بڑھتا جائے گا ۔ مشرق وسطی کے دیگر ممالک بھی روس کی جانب دیکھنا شروع کر دیں گے ۔ میرے نزدیک امریکہ کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس خطے میں ہم نے ترکی اور آزاد خیال عرب ممالک کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو بحال نہ کیا اور یہ کہ اگر ایران داعش اور دہشت گردی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحاد قائم نہ کیا تو امریکہ کی حیثیت نہ صرف پوری دنیا کمزور ہو گی بلکہ سیکیورٹی کے لیے کیے جانے والے ضروری امریکی اقدامات بھی کمزور پڑ جائیں گے۔ اور ہمیں ایسا کرنے کے لیے ترکی کی ضرورت ہے۔امریکہ کے لیے ترکی کی اہمیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پینیٹا کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارا ایک اہم نیٹو اتحادی ہے۔ وہ یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم دنیا کے اس خطے میں اپنے فوجی مقاصد کے حوالے کے تعاون پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ترکی کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم ترکی کے ساتھ تعلقات کے ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ جس میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ جیسے پادری کا معاملہ ہے۔ وہاں بڑھتے ہوئے غیر جمہوری رویوں کا مسئلہ ہے۔ سٹیل، ایلومینیم اور دوسری چیزوں پر محصولات میں اضافے کا مسئلہ ہے، جس کا اثر اترکی کی معیشت پر پڑا ہے اور اس کی کرنسی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے ساتھ کشیدگی کے اور بھی کئی معاملات ہیں ۔ جن میں کردوں کا مسئلہ بھی ہے۔ امریکہ داعش کو شکست دینے کے لیے کردوں کی مدد کر رہا ہے لیکن ترکی علاقے میں کردوں کے کردار کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہمیں ترکی کے ساتھ ان امور کو حل کرنے کا کوئی طریقہ تلاش کرنا ہوگا ۔ مجھے توقع ہے کہ ہم اس بحران کا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے۔اسلامی دنیا میں ترکی کے کردار اور ماضی میں امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو موضوع بناتے ہوئے لیون پینیٹا نے کہا کہ اسلامی دنیا میں ترکی کی ہمیشہ ایک طاقت ور حیثیت رہی ہے۔ لیکن ترکی ایران سے مختلف ہے۔ وہ دوسرے مسلم ممالک سے بھی مختلف ہے۔ وہ ایک ایسی کلیدی قوت ہے جس کا تعلق یورپ سے بھی ہے اور مشرق وسطیٰ سے بھی ہے۔ اس حیثیت میں ترکی کا ایک اہم کردار ہے۔ اس لیے ترکی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا امریکہ کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔ میں جب ترکی جاتا تھا اور ان کی قیادت سے ملتا تھا تو میں نے انہیں ہمیشہ ہر معاملے میں تعاون پر آمادہ پایا۔ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ ہم وہ ماحول واپس لاسکتے ہیں۔ ایسا کرنا دونوں ملکوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ترکی میں زیر حراست امریکی پادری اینڈرو برونسن کے معاملے پر، جس پر ترکی یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث تھا اور جس کے فوری رہائی کے لیے صدر ٹرمپ کی سخت جملوں میں ٹویٹس دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر چکی ہیں، پینیٹا کا کہنا تھا کہ جہاں تک پادری کے مسئلے پر کھڑے ہونے والے اختلافات ہیں، تو میں یہ کہوں گا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سخت موقف اختیار کرتے ہیں ۔ ہم ترکی کو اس قسم کے شديد اقتصادی مسائل میں نہیں دھکیل سکتے کیونکہ اس کا اثر دنیا کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ترکی پر بہت اہم نوعیت کا انحصار ہے ۔ ہمارے وہاں فوجی مراکز ہیں۔ ہم اس صورت حال کا سامنا نہیں کر سکتے جب ترکی ہمیں فوجی مراکز بند کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ اگر ہم سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھیں تو ہم پادری کا مسئلہ اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے معاملات حل کر سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات، اہم امور پر مشاورت
سابق قانون ساز کو غلط الزام پر گرفتار کیا گیا,وکیل
Translate News »