وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے پاک برطانیہ اور پاکستان سکاٹ لینڈ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات     No IMG     حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا آئی ایم ایف نے بیل آوٹ پیکج کیلئے اپنی شرائط سخت کردیں     No IMG     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی سروس کور سینٹر نوشہرہ کا دورہ     No IMG     جاپانی وزیراعظم شینزو آبے آسٹریلیا پہنچ گئے     No IMG     کیلیفورنیا ,کی جنگلاتی آگ ، ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی     No IMG     برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش ہو سکتی ہے     No IMG     ملائیشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات     No IMG     امریکی بلیک میلنگ کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا ہے     No IMG     زمبابوے بس میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے 42 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے     No IMG     زلفی بخاری کیس: ’دوستی پر معاملات نہیں چلیں گے‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار     No IMG     غزہ پرحملے, اسرائیل کو 40 گھنٹوں میں 33 ملین ڈالر کا نقصان     No IMG     تنخواہیں واپس لے لیں سپریم کورٹ کاحکم آتے ہی افسران سیدھے ہو گئے     No IMG     پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن باؤلرز کے نام     No IMG     چودھری پرویز الٰہی اپنے ہی جال میں پھنس گئے     No IMG     ق لیگ نے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف بغاوت کردی     No IMG    

ترکی ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں غیرموثر بنانے میں مدد دے گا؟
تاریخ :   09-08-2018

ایران ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )کے متنازع جوہری پروگرام پر تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے سے قبل کئی سال تک ترکی نے ایران پر عاید کردہ عالمی پابندیوں کو غیرموثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ترکی کے غیر سرکاری ادارے اور نجی سیکٹر نے اقتصادی ناکہ بندی کی دیوار کو پھلانگنے میں ایران کی ہرممکن مدد کی۔ ایرانی اور غیرملکی تجزیہ نگار تسلیم کرتے ہیں کہ ترکی نے ایران کے ساتھ اختلافات کے علی الرغم تہران کو ہر ممکن معاشی اور اقتصادی فایدہ پہنچنے کی کوشش کی۔

فارسی ویب سائیٹ ’تابناک‘ پر شائع ہونےوالے ایرانی اقتصادی تجزیہ نگار ڈاکٹر ولی گل محمد نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ چھ اگست کوٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عاید کردہ تازہ معاشی پابندیوں کے بعد ترکی ایک بار پھر ایران کے لیے معاشی سہولت کار کے طور پر سرگرم ہوسکتا ہے۔

مسٹر گل محمد نے کہا ہے کہ ترکی نے ماضی میں بھی مغرب کے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے غیرسرکاری چینلز کا استعمال کرکے ایران درآمدات و برآمدات کا تحفظ کیا اور تہران کو 20 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کے بعد تو گویا ترکی کو ایران میں معاشی اور تجارتی میدان میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ پابندیاں اٹھتے ہی ترکی نے ایران میں اپنی 300 کمپنیاں بھیجیں اور ترکی کے چار ہزار تجارتی وفود نے تہران کےدورے کیے۔

حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے طے پائے سمجھوتے سے علاحدگی اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تو ترکی نے کھل کر امریکی پابندیوں کی مخالفت کی۔ مگر ترکی اب دوراہے پر کھڑا ہے۔ انقرہ کو یہ فیصلہ کرنا ہے اسے ایران کےساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کرنا ہے یا امریکی پابندیوں کی تلوار کا سامنا کرنا ہے۔

تابناک ویب سائیٹ نے استفسار کیا ہے کہ آیا ترکی ایران پرامریکی پابندیوں کے خلاف کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو گا؟ ایسی صورت میں ترکی تہران پر پابندیوں کو کس حد تک غیر موثر بنا سکتا ہے۔

سنہ 2012ء کو ایران اور ترکی کا دو طرفہ تجارتی حجم 22 ارب ڈالر تھا۔ ترکی سے سونے کی بھاری مقدار ایران کو فروخت کی جا رہی تھی تاہم سنہ 2015ء کو جب ایران اور دوسرے ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تو ترکی اور ایران کے درمیان سونے کی تجارت کےحجم میں کمی آگئی۔ سنہ 2016ء میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک رہ گیا۔ عراق اور شام کے بارے میں دونوں ملکوں کے باہمی اختلافات کے باوجود تہران اور انقرہ کے درمیان تجارتی تعاون جاری رہا ہے۔

حالیہ ایک عشرےمیں ترکی کو بھی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترکی لیرہ غیرملکی کرنسی کےمقابلے میں بہت گراوٹ کا شکار رہا ہے۔ رواں سال کے دوران ترک لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں 20 فی صد کمی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کا غیرملکی قرضے کا حجم 4 کھرب ڈالرکے برابر ہے مگر ترکی ایران پر امریکی پابندیوں سے فائدہ اٹھا کر تہران کے ساتھ تجارت کو بڑھا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
ایرانی صدر نےشمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ دھوکے باز امریکیوں پر اعتبار نہ کرے
غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید جب کہ 8 زخمی ہوگئے
Translate News »