چودھری پرویزالٰہی سے فردوس عاشق اعوان کی ملاقات     No IMG     یوکرین کے مزاحیہ اداکار ملک کے صدر منتخب     No IMG     وزیروں کو نکالنے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی, بلاول بھٹو زرداری     No IMG     ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں سعد آباد محل میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا باقاعدہ اور سرکاری طور پر استقبال     No IMG     بھارت اور چین کے مابین پیر کے روز بیجنگ میں باہمی فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز     No IMG     بھارتی وزیر اعظم,ہمارا پائلٹ واپس نہ کیا جاتا تو اگلی رات خون خرابے کی ہوتی     No IMG     ملکی سیاسی پارٹیاں ووٹ تو غریبوں ،محنت کشوں کے نام پر لیتی ہیں مگر تحفظ جاگیرداروں اور مافیاز کو دیتی ہیں ,جواد احمد     No IMG     افغان سپریم کورٹ نے صدر کے انتخاب تک صدر اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع کردی     No IMG     آزاد کشمیر میں منڈا بانڈی کے مقام پر ایک جیپ کھائی میں گرنے سے 5 افراد ہلاک     No IMG     مصرمیں صدرکےاختیارات میں اضافے کےلیے ہونےوالے تین روزہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنےکا سلسلہ جاری ہے     No IMG     لاہور میں 3 منزلہ خستہ حال گھر زمین بوس ہونے کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان ایران کے پہلے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے     No IMG     سری لنکا میں کل ہونے والے آٹھ بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 افراد ہلاک اور 500 زخمی     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG    

ترکی ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں غیرموثر بنانے میں مدد دے گا؟
تاریخ :   09-08-2018

ایران ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو )کے متنازع جوہری پروگرام پر تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے سے قبل کئی سال تک ترکی نے ایران پر عاید کردہ عالمی پابندیوں کو غیرموثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ترکی کے غیر سرکاری ادارے اور نجی سیکٹر نے اقتصادی ناکہ بندی کی دیوار کو پھلانگنے میں ایران کی ہرممکن مدد کی۔ ایرانی اور غیرملکی تجزیہ نگار تسلیم کرتے ہیں کہ ترکی نے ایران کے ساتھ اختلافات کے علی الرغم تہران کو ہر ممکن معاشی اور اقتصادی فایدہ پہنچنے کی کوشش کی۔

فارسی ویب سائیٹ ’تابناک‘ پر شائع ہونےوالے ایرانی اقتصادی تجزیہ نگار ڈاکٹر ولی گل محمد نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ چھ اگست کوٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عاید کردہ تازہ معاشی پابندیوں کے بعد ترکی ایک بار پھر ایران کے لیے معاشی سہولت کار کے طور پر سرگرم ہوسکتا ہے۔

مسٹر گل محمد نے کہا ہے کہ ترکی نے ماضی میں بھی مغرب کے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے غیرسرکاری چینلز کا استعمال کرکے ایران درآمدات و برآمدات کا تحفظ کیا اور تہران کو 20 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کے بعد تو گویا ترکی کو ایران میں معاشی اور تجارتی میدان میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ پابندیاں اٹھتے ہی ترکی نے ایران میں اپنی 300 کمپنیاں بھیجیں اور ترکی کے چار ہزار تجارتی وفود نے تہران کےدورے کیے۔

حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے طے پائے سمجھوتے سے علاحدگی اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تو ترکی نے کھل کر امریکی پابندیوں کی مخالفت کی۔ مگر ترکی اب دوراہے پر کھڑا ہے۔ انقرہ کو یہ فیصلہ کرنا ہے اسے ایران کےساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کرنا ہے یا امریکی پابندیوں کی تلوار کا سامنا کرنا ہے۔

تابناک ویب سائیٹ نے استفسار کیا ہے کہ آیا ترکی ایران پرامریکی پابندیوں کے خلاف کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو گا؟ ایسی صورت میں ترکی تہران پر پابندیوں کو کس حد تک غیر موثر بنا سکتا ہے۔

سنہ 2012ء کو ایران اور ترکی کا دو طرفہ تجارتی حجم 22 ارب ڈالر تھا۔ ترکی سے سونے کی بھاری مقدار ایران کو فروخت کی جا رہی تھی تاہم سنہ 2015ء کو جب ایران اور دوسرے ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تو ترکی اور ایران کے درمیان سونے کی تجارت کےحجم میں کمی آگئی۔ سنہ 2016ء میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک رہ گیا۔ عراق اور شام کے بارے میں دونوں ملکوں کے باہمی اختلافات کے باوجود تہران اور انقرہ کے درمیان تجارتی تعاون جاری رہا ہے۔

حالیہ ایک عشرےمیں ترکی کو بھی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترکی لیرہ غیرملکی کرنسی کےمقابلے میں بہت گراوٹ کا شکار رہا ہے۔ رواں سال کے دوران ترک لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں 20 فی صد کمی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کا غیرملکی قرضے کا حجم 4 کھرب ڈالرکے برابر ہے مگر ترکی ایران پر امریکی پابندیوں سے فائدہ اٹھا کر تہران کے ساتھ تجارت کو بڑھا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
ایرانی صدر نےشمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ دھوکے باز امریکیوں پر اعتبار نہ کرے
غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید جب کہ 8 زخمی ہوگئے
Translate News »