امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

بھارت میں خواتین پر جنسی تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
تاریخ :   17-12-2017

بھارتی دارالحکومت دہلی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )میں میڈیکل کی ایک 23 سالہ طالبہ پر اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعہ کے پانچ سال بعد ہفتے کے روز دہلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں خواتین کے خلاف تشدد کے لیے کام کرنے والے گروپ اور کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

‘میٹ دی سلیپ’ نامی تحریک سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مختلف شہروں کے پارکوں میں کچھ دیر کے لیے سونے کا مظاہرہ کیا ، جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ خواتین کو اس وقت تحفظ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جب وہ بہت کمزور ہوتی ہیں اور مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔

اجتماعی جنسی زیادتی کا ہدف بننے والی میڈیکل کی طالبہ پر چلتی بس پر چھ افراد نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ دسمبر 2012 میں اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ بس میں سفر کر رہی تھی۔وہ بعد ازاں اس حملے کے دوران نازک اعضا پر لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔

بھارت میں مسئلہ صر ف یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دہلی میں قائم جرائم کے اعدادوشمار کے قومی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں جنسی زیادتی کے 1996 مقدمات درج کرائے گیے ۔ یہ تعداد ایک سال پہلے کی تعداد 1893 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب اس ملک میں خواتین کی آزادی اور ان کے تحفظ کے لیے اٹھے والی آوازیں زیادہ بلند ہو گئی ہیں جہاں جنسی جرائم سے متعلق بات بدنامی کے خوف سے نہیں کی جاتی تھی۔

آل انڈیا پروگریسوو وومن ایسوسی ایشن کی ایک عہدے دار کویتا کرشنن کا کہتی ہیں کہ میرے خیال میں پچھلے پانچ برسوں میں جو سب سے زیادہ اچھی بات ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اب ان واقعات کے خلاف احتجاج کو طاقت مل گئی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہاہہے۔

حکومت نےشہروں کو محفوظ بنانے کی غرض سے خفیہ نگرانی کے کیمرے نصب کیے ہیں اور فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن کے مراکز قائم کر دیے ہیں لیکن سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خواتین ، لڑکیوں اور حتی کہ بچیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک ہفتے سے بھی کم مدت پہلے شمالی ریاست ہریانہ میں ایک چھ سالہ لڑکی کی نعش ملی جسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کا موازنہ 2012 کے بس میں سوار طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی سے کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کا م کرنے والے سرگرم کارکن جنسی زیادتی کے مقدمات میں بعض موقعوں پر قانون کے استعمال کے طریقہ کار پر بھی پر یشان ہیں۔

اس سال کے شروع میں جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں بالی وڈ کا ایک فلم ساز اس لیے سزا سے بچ گیا تھا کیونکہ جج نے اپنے فیصلے میں زبانی انکار کو لڑکی کی جانب سے جنسی عمل کے لیے رضامندی قرار دیا تھا۔

کویتا کرشنن کا کہنا ہے کہ خواتین کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی تنظیم خواتین کے تحٖفظ اور آزادی کے لیے پوری توانائی سے آواز اٹھاتی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*