پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

بھارت میں جسم فروشی پر مجبور کرنے اور ان کے جنسی استحصال کے رونگٹے کھڑے دینے والے واقعات منظر عام پر
تاریخ :   07-08-2018

اترپردیش ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) بھارت, بہار کے بعد اترپردیش کے شیلٹر ہومز میں بھی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات نے پورے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ملک بھر کے فلاحی مراکز میں مقیم بے گھر لڑکیوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بہار کے مظفرپور اور اترپردیش کے دیوریا میں شیلٹرہومز میں رہنے والی لڑکیوں کی عصمت دری، انہیں جسم فروشی پر مجبور کرنے اور ان کے جنسی استحصال کے رونگٹے کھڑے دینے والے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد پورا ملک سکتے میں ہے۔ ان واقعات نے شیلٹر ہومز میں رہنے والی لڑکیوں کی سلامتی کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا کردیے ہیں اور یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کہیں اس طرح کا کھیل ملک کے دیگر شہروں میں واقع شیلٹرہومز میں بھی تو نہیں کھیلا جا رہا ہے؟
ان ہولناک واقعات کی گونج آج دوسرے دن بھی بھارتی پارلیمنٹ میں سنائی دی۔ ملک کے مختلف حصوں میں ان واقعات کے خلاف مظاہرے ہوئے جب کہ سپریم کورٹ نے معاملات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔
اپوزیشن اراکین نے اس طرح کے معاملات میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بہار اور اترپردیش کی حکومتوں نیز وفاقی حکومت کے خلاف اس معاملے میں تساہلی برتنے کا الزام لگایا اور ان دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے استعفی کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ اور اترپردیش میں بی جے پی برسراقتدار ہے۔

پوزیشن اراکین کے واک آؤٹ کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایوان کو یقین دلایا کہ قصور واروں کو سخت سزا دی جائے گی اور سبھی ریاستوں میں بچوں کے شیلٹرہومز کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا۔ دیوریا کے معاملے پر ان کا کہنا تھا،’’یہ واقعہ صحیح ہے اور اترپردیش حکومت نے اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد فوراﹰ کارروائی کرتے ہوئے لڑکیوں کے شیلٹر ہومز کی منتظمہ اور اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا ہے اور معاملہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات دیے ہیں۔‘‘

وزیر داخلہ کا کہنا تھا، ’’کسی کو بخشا نہیں جائے گا اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کسی ریاست میں اس طرح کے واقعہ کی اعادہ نہ ہو، اس کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے سبھی ریاستوں کو ضروری اقدامات کرنے کے لئے ایڈوائزری بھیجی جا رہی ہے۔‘‘
سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس نے ان واقعات نیز شیلٹرہومز کی پارلیمانی کمیٹی سے تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی پارٹی کی خواتین ونگ کے دہلی میں ایک اجلاس سے خطاب کے دوران خواتین اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’حیرت کی بات ہے کہ تمام موضوعات پر بولنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم مودی ان ریاستوں میں خواتین اور بچیوں پر ہونے والے جرائم کے بارے میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں بولتے، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔‘‘
دریں اثنا آج سپریم کورٹ نے مظفر پور شیلٹر ہوم میں جنسی زیادتیوں کے معاملے میں حکومت بہارکی سخت سرزنش کرتے ہوئے پوچھا، ’’ریاست میں شیلٹر ہوم کے لئے مالی امداد کون دے رہا ہے؟‘‘سپریم کورٹ نے اس انسانیت سوز واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے بہار کی نتیش کمار حکومت اور وفاقی وزارت برائے خواتین و بہبود اطفال کو نوٹس بھیج کر پوچھا تھا کہ مظفرپور شیلٹر ہوم میں کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا پتہ چلنے کے باوجود کسی نے آج تک اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ عدالت نے اس معاملے میں اب تک ہوئی پیش رفت کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
اس دوران خواتین اور بہبود اطفال کی وفاقی وزیر مینکا گاندھی نے تمام ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں شیلٹر ہوم چلائیں تاکہ لڑکیوں کو غیرسرکاری تنظیموں کے ذریعہ جنسی استحصال کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے اور شیلٹر ہومز پر نگاہ رکھنا بھی آسان ہوگا۔ خیال رہے کہ مرکزی حکومت شیلٹر ہومز چلانے کے لئے ریاستوں کو مالی امداد دیتی ہے لیکن ریاستی حکومتیں بالعموم یہ کام این جی اوزکے سپرد کر دیتی ہیں۔
یہاں بچوں کے فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم چائلڈ لائن کے ذمہ دار رشی کانت کا ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’بیشتر شیلٹر ہومز بدعنوانی اور جنسی استحصال کا اڈہ بن چکے ہیں۔ وہاں مقررہ تعداد سے بہت زیادہ لڑکیوں کو رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں کمروں میں جانوروں کی طرح ٹھونس دیا جاتا ہے اور ان کا استحصال عام بات ہے۔‘‘
خیال رہے کہ شیلٹر ہومز میں رہنے والی لڑکیاں بالعموم غریب اور کمزور گھروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں شیلٹر ہوم میں اس لئے رکھا جاتا ہے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں۔ لیکن بہار اور اترپردیش کے شیلٹر ہومز سے جو گھناونی باتیں سامنے آئی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔

مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں رہنے والی 42 میں سے 34 لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان سے عصمت فروشی کا دھندا کرایا جاتا تھا اور انکار کرنے پر انہیں مارا پیٹا جاتا تھا اور نشہ آور دوائیں دی جاتی تھیں۔ حتی کہ سات سال کی ایک بچی کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کی گئی۔ دیوریا کے شیلٹر ہوم میں رہنے والی 24 لڑکیوں کو آزاد کرایاگیا ہے جب کہ اٹھارہ لڑکیاں اب بھی لاپتہ بتائی جا رہی ہیں۔ یہاں کی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ جسم فروشی کے لئے بھیجا جاتا تھا۔
بہار اور اترپردیش کی حکومتوں نے گوکہ ان واقعات کی انکوائری شروع کرا دی ہے۔کئی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متعدد افسران کو بے پروائی برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید یہ معاملات بھی سرد خانے میں ڈال دیے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
اسرائیلی فوج کی غزہ پر ٹینک سے گولہ باری2 فلسطینی شہید
نوشہرہ ورکاںشہر اور گردونواح میں پتنگ بازی کا سلسلہ عروج پر
Translate News »