پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

بھارتی فوج کی فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے
تاریخ :   03-09-2018

سری نگر ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں پیر کو بھارتی فوج کی فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ اس دوران کئی مقامات پر مشتعل نوجوانوں اور سرکاری دستوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ عینی شاہدوں کا

کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں نے پلوامہ کے تقریباً ایک درجن دیہات گھیرے میں لے کر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس کا مقصد، جیسا کہ عہدیداروں نے بتایا، اس علاقے میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کو زندہ یا مردہ پکڑنا تھا۔عہدے داروں نے بتایا کہ آپریشن، علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر شروع کیا گیا تھا۔لیکن جونہی فوج گسو نامی گاؤں میں داخل ہوئی تو مقامی لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر بھارت کے خلاف نعرے لگائے اور پھر اُن کا فوج کے ساتھ تصادم ہوا۔ دارالحکومت سرینگر میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اُس کے بقول شرپسندوں نے فوج کی گاڑیوں پر پتھر برسائے اور ان میں سوار سپاہیوں پرمہلک حملے کئے۔فوج کی فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص جس کی شناخت 22 سالہ فیاض احمد وانی کے طور پر کی گئی ہے، بعد میں سرینگر کے ایک اسپتال میں چل بسا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق فوج نے نوجوان کے سر میں گولی ماری تھی۔ نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی پلوامہ کے مزید کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔اس سے پہلے پیر ہی کے روز پلوامہ کے نیرہ نامی گاؤں میں بھارت نواز علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سرگرم رکن معراج احمد پّرہ پر نامعلوم افراد نے قاتلانہ حملہ کیا۔ پولیس نے واقعے میں عسکریت پسندوں کو موردِ الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاسی کارکن پر اُس کے آبائی گاؤں میں گولی چلائی لیکن وہ اس حملے میں بال بال بچ گیا۔شورش زدہ ریاست کے صحافیوں کی انجمنوں نے پولیس اور دوسری سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے صحافیوں، رپورٹروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ دوسرے کارکنوں کو مبینہ طور پر مختلف بہانے بنا کر ہراساں کرنے اور ان کے کام میں رخنہ ڈالنے کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آزادئ تقریر و تحریر کو دبانے کی ان کوششوں کی مزاحمت کی جائے گی۔ان انجمنوں نے جن میں کشمیر ایڈیٹرس گلڈ بھی شامل ہے کہا ہے کہ اخبارات کو سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے ایسے پیغامات بھیجے جارہے ہیں جن میں اخبارات میں چھپے مواد کے بارے میں وضاحتیں طلب کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اخباری رپورٹروں پر ان کے سورسز یا خبروں کے ذرائع کو افشا کرنے کے لئے دباؤ ڈالا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران بھی مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔ پولیس نے ایک ہفتہ پہلے ایک مقامی جریدے کے رپورٹر آصف سطان کو اُس کے گھر پر رات کے گیارہ بجے چھاپے کے بعد حراست میں لیا تھا۔ کئی دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے بعد پولیس نے سنیچر کے روز رپورٹر کو باضابطہ طور پر گرفتار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے ہاتھ ایسا مواد لگا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹر جانے پہچانے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے سلسلے کی سازش میں ملوث تھا۔ تاہم کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
موجودہ انتخابات پر لعنت بھیجتا ہوں مشاہد اللہ خان
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال سے استعفے کا مطالبہ
Translate News »