چیف جسٹس کے اعزاز میں فُل کورٹ ریفرنس کاایک جج نے بائیکاٹ کردیا، جانتے ہیں وہ معزز جج کون ہیں ؟     No IMG     الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل     No IMG     حکومت کا غیر قانونی موبائل فونز ضبط کرنے کا فیصلہ     No IMG     امریکہ نے پریس ٹی وی کی اینکر پرسن کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرلیا     No IMG     سندھ میں آئینی تبدیلی لائیں گے، فواد چودھری     No IMG     کسی کی خواہش پرسابق آصف زرداری کو گرفتار نہیں کرسکتے، نیب     No IMG     نئے پاکستان میں تبدیلی آگئی تبدیلی آگئی، اب لاہور ایئرپورٹ پر شراب دستیاب ہوگی     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹریزامےکیخلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی     No IMG     وزیراعظم کی رہائش گاہ پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب     No IMG     گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اب غیر ملکی کرنسی میں ادا کرنا ہوگا, وزیر خزانہ     No IMG     تائيوان, کے معاملے ميں مداخلت برداشت نہيں کی جائے گی, چين     No IMG     امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع ہی     No IMG     وزیراعظم سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ملاقات     No IMG     آپ لوگ کام نہیں کر سکتے چیف جسٹس نے اسد عمرکو دو ٹوک الفاظ میں کیا کہہ ڈالا     No IMG     شادی والے گھر میں آگ لگنے سے دلہن سمیت 4 خواتین جاں بحق     No IMG    

بھارتی سزا یافتہ جاسوس‘ کلبھوشن یادیو سے پاکستان میں ملاقات: بھارت میں اب داخلی سیاست گرم
تاریخ :   27-12-2017

 بھارتی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) جاسوس‘ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں ان کی اہلیہ اور والدہ سے حالیہ ملاقات کے بعد دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین سخت الفاظ کے تبادلے کے ساتھ ساتھ بھارتی داخلی سیاست میں بھی گرمی پیدا ہو گئی ہے۔اس معاملے کی گونج آج بدھ ستائیس دسمبر کو بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی سنائی دی۔ کلبھوشن یادیو کی ان کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ اسی ہفتے ملاقات کے دوران پاکستانی حکام کی مبینہ بدسلوکی پر اگرچہ تمام بھارتی سیاسی جماعتوں نے بیک آواز اپنے طور پر پاکستان کی ’مذمت‘ بھی کی تاہم ملکی اپوزیشن نے اس صورت حال کے لیے مودی حکومت کو بھی قصور وار ٹھہرایا ہے۔
اس معاملے کی سنگینی کے مدنظر مودی حکومت نے اس بارے میں پارلیمان میں ایک باقاعدہ بیان دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کل جمعرات اٹھائیس دسمبر کو اس سلسلے میں ملکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی لوک سبھا (ایوان زیریں) اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں بیان دیں گی۔

نئی دہلی میں ملکی پارلیمان میں آج اس وقت ایک عجیب و غریب صورت پیدا ہو گئی جب اپوزیشن کی سماج وادی پارٹی کے رکن نریش اگروال نے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر ایوان میں بات کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے کلبھوشن یادیوکو اپنے ملک میں دہشت گرد قرار دیا ہے، تو وہ اسی لحا ظ سے پھر ان کے ساتھ سلوک بھی کریں گے اور ’ہمارے ملک میں بھی دہشت گردوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے‘۔

نریش اگروال نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ بھارتی میڈیا صرف کلبھوشن یادیو ہی ہی بات کیوں کر رہا ہے جب کہ پاکستانی جیلوں میں سینکڑوں دیگر بھارتی شہری بھی قید ہیں۔اس بیان پر پارلیمان میں خاصا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ وزیر اعظم مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن گری راج سنگھ نے اس بیان کو ’بھارت کو شرمسار کر دینے والا‘ قرار دیا ۔ بی جے پی کے ہی ایک دوسرے رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے اگروال سے معافی مانگنے اور ایسا نہ کرنے پر ان کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ہندو قوم پرست جماعت ہندو مہاسبھا کے قومی صدر سوامی چکرپانی نے نریش اگروال کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے پہلے ایسے رہنماؤں کو گولی مار دینا چاہیے کیونکہ ایسے رہنما ’ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ‘ ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے قومی ترجمان جی وی ایل نرسمہن نے بھی اس بیان کو ’ملکی مفادات کے منافی‘ قرار دیا۔ نریش اگروال نے بعد ازاں میڈیا کے سامنے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ’مطلب یہ تھا کہ پاکستان سے کسی انسان دوست رویے کی توقع نہیں کرنا چاہیے‘۔
قبل ازیں اپوزیشن کی جماعت کانگریس نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت کو مودی حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دیا اور اس کے لیے حکومت اور وزیر خارجہ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ کانگریس کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج یا وزیر اعظم نریندر مودی کو کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو اسلام آباد بھیجنے سے قبل پاکستان میں اپنی ہم منصب شخصیات سے بات چیت کرنا چاہیے تھی۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ پاکستان سے اس سے زیادہ بہتر کی امید نہیں تھی لیکن جو کچھ ہوا، اس کے بعد ہم مودی حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جملہ حقائق پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرے گی۔

کانگریس کے ایک اور رکن پارلیمان پرمود تیواڑی نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ بھارتی عوام کو بتائے کہ کلبھوشن یادیو کو وطن واپس لانے کے حوالے سے اس کی پالیسی کیا ہے؟ کانگریس کے سینئر رکن اور سابق وزیر منیش تیواڑی نے مودی حکومت کے اقدامات پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا، ’’مودی حکومت کلبھوشن یادیو کی مدد کر رہی ہے یا انہیں نقصان پہنچا رہی ہے؟‘‘

منیش تیواڑی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’جب سے کانگریس کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ختم ہوئی ہے، بھارت دنیا میں الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی حکومت خارجہ پالیسی کے محاذ پر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ خطے میں چینی اثر و رسوخ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
اس دوران بی جے پی کے ایک سینئر رہنما اور رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ پاکستانی حکام کے رویے کو مہابھارت کی اساطیری کہانی کے ایک کردار دروپدی کے ’چیر ہرن ‘ (برہنہ کرنے) کے اس واقعے سے مماثل قرار دیا، جس کی وجہ سے مہابھارت کی جنگ ہوئی تھی۔ سوامی کا کہنا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں فوراً ایسا کرنا چاہیے۔ لیکن ہمیں اس کے لیے ابھی سے سنجیدگی سے تیاریاں شروع کر دینا چاہییں۔‘‘

دریں اثناء حکمران جماعت بی جے پی نے بھارتی عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی افراتفری پیدا نہ کریں کیوں کہ اس طرح یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان اور ماضی کے معروف فلمی اداکار شتروگھن سنہا نے کہا، ’’یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اور مرکزی حکومت وزیر اعظم مودی کی رہنمائی میں جس طرح کام کر رہے ہیں، وہ مثبت سمت میں کی جانے والی کوششیں ہیں۔ میں لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ اس معاملے سے متعلق کوئی افراتفری پیدا نہ کریں اور اسے سفارتی سطح پر پرامن طریقے سے حل کرنے دیا جائے۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ميں سروسز و مصنوعات پر پانچ فيصد ٹيکس
بھارت کا لائن آف کنٹرول پار کرکے کاروائی کرنے کا دعوی بے بنیاد ہے,پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »