امریکی صدر شیر کی دم کے ساتھ کھیلنا ترک کردے ۔ مزاحمت یا تسلیم کے علاوہ کوئي اور راستہ نہیں۔     No IMG     افریقی ملک مراکش کی عدالت نے ایک بچی کی اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع     No IMG     دوست کو چاقو کے وارسے قتل کرنے والی حسینا کو سزائے موت     No IMG     بہاولپور جلسے میں کم تعداد پر عمران خان برہم لیکن پارٹی عہدیداران نے ایسی بات بتادی کہ کپتان کیساتھ جہانگیر ترین بھی حیران پریشان     No IMG     اکرام گنڈا پور کے قافلے پر خود کش حملہ، ڈرائیور شہید، تحریک انصاف کے امیدوار اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی     No IMG     پاکستان اچھا کھیلاہم بہت براکھیلے،زمبابوین کھلاڑی کا اعتراف     No IMG     پاکستان سمیت دنیا بھر میں28 جولائی کو مکمل چاند گرہن ہوگا     No IMG     حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں , شہباز شریف     No IMG     سعودی عرب غیر ملکی ٹرک ڈرائیوروں پر پابندی سے ماہانہ 200ملین ریال کا نقصان ہوگا     No IMG     امریکہ میں کال سینٹر اسکینڈل میں ملوث 21 بھارتی شہریوں کو20 سال تک کی سزا     No IMG     اسرائیی حکومت نے القدس میں سرنگ کی مزید کھدائی کی منظوری دے دی     No IMG     ویتنام کے شمالی علاقوں میں سمندری طوفان سے 20 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے     No IMG     شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا ملنے سے اب این اے 60 راولپنڈی کا الیکشن یکطرفہ ہو جائے گا     No IMG     حنیف عباسی نے انسداد منشیات عدالت کی جانب سے دی گئی عمرقید کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان     No IMG     اسرائیل کے مجرمانہ حملوں میں 4 فلسطینی شہری شہید     No IMG    

بزنس

  • اوپن مارکیٹ میںروپے کی قدر میں کمی ڈالر کی قیمت 130 روپے 10 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

    کراچی ( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو) اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید 40 پیسے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 40 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 130 روپے 10 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 130 روپے 10 پیسے کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ ڈیلرز کے مطابق انٹربنک مارکیٹ میں ڈالر 128.50 روپے کی سطح پر مستحکم ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے ۔ انٹر بنک میں امریکی ڈالر کی قدر 6 روپے 40 پیسے کے اضافے کے بعد128 روپے تک پہنچی جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی قدر 5 روپے 60 پیسے کے اضافے سے 165 روپے 8 پیسے ہوگئی، یورو کی قدر 4 روپے 43 پیسے کے اضافے سے 145 روپے 72 پیسے ہوگئی۔

    ڈالر کی اونچی اُڑان نے اسٹاک مارکیٹ پر بھی برے اثرات مرتب کئے ، ہفتے کے پہلے کاروباری روز پی ایس ایکس ہنڈریڈ انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

    ہنڈریڈ انڈیکس ایک ہی روز 40 ہزار اور 39 ہزار 500 کی نفسیاتی حد سے نیچے آگیا۔ اوپن مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث ڈالرکی خرید وفروخت کی سرگرمیاں محدود رہیں ، انتہائی ضرورت مند افراد من مانی قیمتوں پر ڈالر خریدنے پر مجبور ہوئے ،،ڈالر کی قدر بڑھنے سے بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا جبکہمہنگائی بڑھنے کے خدشات بھی مزید بڑھ گئے ۔ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔۔ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ہلچل مچ گئی ، ڈالر کی فروخت معطل ہوکر رہ گئی جب کہ شہریوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی کرنسی ڈیلرز بیرون ملک سفر پر جانے والے افراد کی فوری ضرروت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 130 روپے سے ڈالر فروخت کرتے رہے۔ جس کے بعد 17 جولائی 2018ء کو ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں 75 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 128 روپے 75 پیسے سے بڑھ کر 128.75 روپے ہو گئی ۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 129 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر بات کرتے ہوئے صدر فاریکس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے منفی اثر پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں کام 20 فیصد رہ گیا ۔ڈالراوپن مارکیٹ میں 128 روپے 50 پیسے پر فروخت کیا گیا۔ تاہم ابڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس کے تحت اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 130 روپے 10 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ انٹربنک مارکیٹ میں ڈالر 128.50 روپے کی سطح پر مستحکم ہو گیا ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے تیزی کا رجحان رہا ،مارکیٹ کے سرمائے میں 128ارب روپے سے زائد کا اضافہ

    کراچی( ورلڈفاسٹ نیوزفاریو ) عبوری حکومت کی قیام پر سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت ریپانس سامنے آرہا ہے جس کے زیر اثر حصص کی خریداری میں دلچسپی بڑھنے کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زبردست تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس1ہزار پوائنٹس بڑھ گیا جس سے انڈیکس ایک بار پھر43ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بحال ہو گیا جبکہ مارکیٹ کے سرمائے میں 128ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سرمائے کا مجموعی حجم 90کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ۔4تا7جون پر مشتمل گزشتہ کاروباری ہفتہ جمعتہ الوداع کے باعث 4 دنوں تک محدود رہا جس میں کاروبار کا آغاز مثبت ہوااور صرف3دنوں میں کے ایس ای100انڈیکس 1231.39پوائنٹس بڑھ گیا تاہم ایک روزہ مندی میں انڈیکس196.09پوائنٹس گھٹ گیا لیکن مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ریکارڈ کی گئی ۔اسٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ ہفتے بینکنگ ،گیس ،توانائی اور سیمنٹ سیکٹر ز کی سرگرمیوں میں تیزی رہی اس کی وجہ سے انڈیکس44ہزار پوائنٹس سے 58پوائنٹس کی دوری پر بند ہوا ۔ماہرین کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے عید الفطر کی تعطیلات کے وجہ سے محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کے سبب مارکیٹ قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے گی تاہم مارکیٹ کے مثبت پوزیشن پر ہی بند ہونے کا امکان ہے ۔گذشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای100انڈیکس میں 1035.3پوائنٹس کا اضافہ ریکار ڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 42912.81پوائنٹس سے بڑھ کر 43948.11پوائنٹس پر جا پہنچا اسی طرح673.18پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30انڈیکس 21663.83پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 31401.21پوائنٹس سے بڑھ کر31872.08پوائنٹس پر بند ہوا ۔کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کی بدولت مارکیٹ کے سرمائے میں ایک ہفتے کے دوران1کھرب28ارب88کروڑ70لاکھ29ہزار392روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 89کھرب 7ارب94کروڑ51لاکھ 76ہزار320روپے سے بڑھ کر90کھرب36ارب83کروڑ22لاکھ5ہزار712روپے ہو گیا ۔گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس ایک موقع پر 44333.17پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کے بادل چھا جانے سے انڈیکس42835.62پوائنٹس کی پست ترین سطح تک بھی گر گیا تھا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ10ارب روپے مالیت کے 16کروڑ64لاکھ89ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم 7ارب روپے مالیت کے 11کروڑ80لاکھ42ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر1382کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سی662کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،627میں کمی اور93کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔کاروبار کے لحاظ سے بینک آف پنجاب ،پاک الیکٹرون ،سوئی سدرن گیس ،سوئی نادرن گیس ،پیس پاک لمیٹڈ ،سونیری بینک لمیٹڈ ،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ ،لوٹے کیمیکل ،اینگرو فرٹیلائزر،گل احمد ،فوجی سیمنٹ ،ڈی جی کے سیمنٹ ،یونائیٹڈ بینک ،سلک بینک لمیٹڈ ،آدمجی انشورنس ،فرست دائود بینک ،بینک الحبیب لمیٹڈ ،پا ک انٹر نیشنل بلک ،اینگرو پولیمر ،بینک الفلاح ،ازگارڈن نائن اور کے الیکترک لمیٹڈ سر فہرست رہے ۔

  • ٹوکیو سٹاک سمیت دوسری ایشائی سٹاک مارکیٹس میں پیر کو تیزی کا رجحان رہا۔

    ہانگ کانگ۔ ۔( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو ) ٹوکیو سٹاک سمیت دوسری ایشائی سٹاک مارکیٹس میں پیر کو تیزی کا رجحان رہا۔یورپ اور وال سٹریٹ کے حصص بازار ایسٹر کے تہوار کے باعث بند رہے۔ٹوکیو کا نکی225 انڈکس میں 0.23 فیصد سی50.41 پوانٹس کا اضافہ ہوا جبکہ ٹاپکس انڈکس میں بھی 2.92 پوانٹس بڑھے۔ آسٹریلیا،نیوی لینڈ اور ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹس عوامی تعطیل کی وجہ سے بند رہیں۔چین کی شنگھائی سٹاک ایکسچینج کا مرکزی کمپوزٹ انڈکس فلیٹ رہا جس کی وجہ یوان کی قدر مستحکم ہونا ہے۔شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 0.88 پوانٹس اضافہ کے ساتھ 3,169.78 پر بند ہوا جبکہ شنزن انڈیکس4.71 پوانٹس کیاضافے کے ساتھ 1,858.43پر بند ہوا۔ سیئول کے کوسپی انڈیکس میں0.56 فیصد اضافہ ہوا اور انڈیکس وقفہ پر 2,459.54 پر بند ہوا۔

  • پاکستانی سپر اسٹار فواد خان اور بھارت کی خوبرو اداکارہ دپیکا پڈوکون ایک بار پھر ساتھ جلوہ گر ہونے کو تیار

    دبئی( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )پاکستانی سپر اسٹار فواد خان اور بھارت کی خوبرو اداکارہ دپیکا پڈوکون ایک بار پھر ساتھ جلوہ گر ہونے کو تیار ہیں۔دبئی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں بالی ووڈ سمیت پاکستانی اسٹارز بھی شرکت کریں گے جن میں بھارتی اداکارہ ودیا بالن، کرن جوہر، جیکی شروف اور دپیکا پڈوکون بھی شامل ہیں،جب کہ پاکستان سے سپر اسٹار فواد خان اور اداکارہ مہوش حیات بھی تقریب

     

     

    میں شریک ہوں گی۔پاکستانی سپر اسٹار فواد خان ایک بار پھر دپیکا پڈوکون کے ساتھ اسٹیج پر دکھائی دیں گے۔اس سے قبل فواد اور دپیکا ایک ساتھ بھارتی معروف ڈیزائنر منیش ملہوترا کے شو اسٹوپر کے طور پر ایک ساتھ ریمپ پر واک کر چکے ہیں۔

  • متحدہ عرب امارات میں ڈیزل کی قیمت میں کمی اعلان کر دیا

    دبئی ( ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو )  متحدہ عرب امارت کی ایندھن کمیٹی نے اپریل کے لیے ایندھن کی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سُپر 98 پٹرول کی قیمت اب سے 2.33 درہم فی لیٹر ہو گی جو کہ مارچ میں بھی یہی تھی جبکہ سُپر 95 پٹرول کی قمیت 2.22 درہم فی لیٹر ہو گی ۔ اپریل کے لیے جاری ہونے والی تمام قیمتیں وہی ہیں جو کہ مارچ 2018 میں تھیں۔ قیمتوں میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی ہے ۔ تاہم ڈیزل کی قیمت میں کمی دیکھنے کو ملی ہے جو کہ اب 2.40 درہم فی لیٹر ہو گی ، مارچ میں ڈیزل کی قیمت 2.43 درہم فی لیٹر تھی۔

  • چین، دبئی اور کینیا میں پاکستانی چاول کی دھوم مانگ میں مزید اضافے

    کراچی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) چین، دبئی اور کینیا میں پاکستانی چاول کی دھوم مچ گئی۔ 8 ماہ میں چاول کی برآمدات میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی چاول کو خوب پسند کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جولائی سے فروری کے دوران چاول کی برآمدات 27 فیصد اضافے سے 1 ارب 22 کروڑ ڈالر تک پہنچ گی ہیں۔ گزشہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران صرف 96 کروڑ ڈالر کے چاول برآمد کیے گے تھے۔

    رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں چاول کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی چاول اپنے معیار اور کم قیمت کے باعث دنیا بھر میں پسند کیے جارہے ہیں۔ چین، دبئی اور کینیا کی منڈی میں پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستانی چاول کی برآمدات میں مزید اضافے کا رجحان جاری ہے۔

  • گوجرانوالہ۔ ہیٹرو سافٹ کے اشتراک سے چائنہ میں فری تعلیم کے حوالہ سے سیمینار کا نعقاد کیا گیاُُ۔

    گوجرانوالہ۔ ہیٹرو سافٹ اور AIAU کے اشتراک سے چائنہ میں فری تعلیم کے حوالہ سے سیمینار کا نعقاد کیا گیاُُ۔ گوجرانوالہ۔ ہیٹرو سافٹ اور AIAU کے اشتراک سے چائنہ میں فری تعلیم کے حوالہ سے سیمینار کا نعقاد کیا گیاُُ۔جس میں ملک کے نامور شخصیات نے شرکت کی۔ طلبا سے خطاب کرتے ہوئے عدنان صاحب کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی عوام کو تعلیم یافتہ کرنے کئلیے اچھے موقع دے رہا ہے جن سے ہمیں فائدہ حاصل کرنا چاہئے

    ۔اس موقع پر عمیر اشرف سانسی،عمر شہزاد،علی اسد،امیدالرحمن،عمر چٹھہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

     

  • سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست کے اواخر تک ملک کا مجموعی قرضہ تقریباً 21 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گی

     

    اسلام آباد (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست کے اواخر تک ملک کا مجموعی قرضہ تقریباً 21 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گیا جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران کی شرح سے 11.23 فیصد زیادہ ہے۔

    گزشتہ سال 31 اگست کو پاکستان کا قرض ساڑھے 19 کھرب روپے تک تھا۔

    مرکزی بینک کے ہفتہ کو سامنے آنے والے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت بدستور بینکوں سے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے جب کہ ماہرین اس بڑھتے ہوئے قرضے کو اخراجات اور بجٹ خسارے میں اضافے، ٹیکسوں کی کم وصولی اور بڑی تعداد میں ٹیکس کا دائرہ محدود ہونے اور بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

    پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک دہشت گردی کے علاوہ توانائی کے شدید بحران کا بھی سامنا رہا جس سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن موجودہ حکومت یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ ماضی کی نسبت ملک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مستقبل میں مزید فروغ پائے گی۔

    تاہم خاص طور پر وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کارروائیوں کے بعد سے حزب مخالف اور ماہرین اقتصادیات یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ضروری ہے کہ ملک کی اقتصادیات کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے اسحٰق ڈار منصب سے علیحدہ ہو جائیں اور حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ دے۔

    حکومت کو سیاسی طور پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور کاروباری طبقہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کو بھی معیشت کے لیے مضر قرار دیتا آ رہا ہے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی بینک بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں خبردار کر چکا ہے اور اس کے بقول پاکستان میں ترسیلات زر اور زرمبادلہ میں مسلسل کمی، مجموعی قرض، تجارتی اور بجٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

    لیکن وفاقی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیلنجز کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم ہے۔

    حکومتی عہدیداران بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ معیشت کی بحالی اور اس کا استحکام موجودہ حکومت کی ترجیح رہی ہے اور اس کی پالیسی کی وجہ سے ماضی کی نسبت صورتحال اتار چڑھاؤ کے باوجود بہتری کی طرف گامزن ہے۔

    حکمران جماعت کے قانون ساز اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن میاں عبدالمنان نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں اصلاحات بھی کی ہیں۔

    “2013-14 میں جب ہم آئے تھے تو ہمارا کل ریونیو کلیکشن 1955 ارب روپے تھا اور اس سال ہمارا ہدف 4000 ارب روپے ہے یعنی دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ جب یہ سارے سی پیک کے منصوبے اور توانائی کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔”

    ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ صورتحال کی بہتری کے لیے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدام کرنا ہوں گے۔

  • ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر (10 لاکھ 6 ہزار ارب پاکستانی روپی)کے قریب جا پہنچی

    لندن (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو)ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر (10 لاکھ 6 ہزار ارب پاکستانی روپی)کے قریب جا پہنچی ۔معروف سیلولر اورکمپیوٹر ساز کمپنی ایپل کے اثاثوں کی مالیت 1000 ارب ڈالر کے قریب ہوگئی ہے، رواں سال کے چوتھی ساماہی میں توقع کی جارہی تھی کہ ایپل کا نیا موبائل فون آئی فون ایکس مارکیٹ میں آنے کے بعد کمپنی کے اثاثوں میں کمی آسکتی ہے تاہم توقعات کے برعکس کمپنی کے اثاثوں میں حیرت انگیز طور پر اضافہ دیکھا گیا۔ایپل کمپنی کے ایک حصص کی مالیت 3.7 فیصد اضافے کے بعد بڑھ کر 174.26 ڈالر ہوگئی ہے۔ مارکیٹ کی سرمایہ کاری میں یہ اضافہ تقریبا 32 ارب ڈالر ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں آئی فون ایکس کی فروخت میں تیزی دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ 2017 میں آئی فون ایکس کے مجموعی طور پر 3 کروڑ سیٹس بنائے جائیں گے۔تجزیاتی فرم مورگن اسٹینلے کی مینیجنگ ڈائریکٹرکیٹی ہوربٹ کا کہنا ہے کہ ایپل کمپنی کی مختلف مصنوعات کو بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے جن میں آئی فون کے مختلف ماڈلز، آئی پیڈ، دی میک اور ایپل واچ بھی شامل ہیں۔