پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے ہمارے سیاستدان تو اپنے 4 صوبے نہیں سنبھال سکتے۔شاہد خان آفریدی     No IMG     چین میں متعدد پاکستانیوں کی بیگمات گرفتار     No IMG     ساہیوال میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد گرفتار     No IMG     فیصل آباد میں وکلاء کا احتجاج     No IMG     اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان کالنگ ویب پورٹل کا افتتاح     No IMG     بلوچستان ریلوے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں, وفاقی وزیر ریلوے     No IMG     اسمبلی کی تقریر کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا,سابق وزیر اعظم     No IMG     اسرائیلی فوج ’فوری طور پر حملے بند, کرے، ترکی     No IMG     یورپی فوج‘ تشکیل دی جائے ,چانسلر انگیلا میرکل     No IMG     ترکی میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک     No IMG     آرمی چیف کی زیر صدارت کمانڈرز کانفرنس     No IMG     ٹریفک کےمختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق     No IMG     اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مندی کا رحجان     No IMG     ایف بی آرنے وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا     No IMG     نیب ادارہ ختم کر دیا جا ئے ، اہم ترین اعلان     No IMG    

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے بقول برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج سے متعلق کوئی نیا ریفرنڈم ناممکن ہے
تاریخ :   03-03-2018

برطانوی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) وزیر اعظم ٹریزا مے کے بقول برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج سے متعلق کوئی نیا ریفرنڈم ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عمل نہ کرنا سیاستدانوں پر عوامی اعتماد کے لیے تباہ کن ہو گا۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے ہفتہ تین مارچ کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کے عوام ایک بار اپنے ملک کے یورپی یونین سے انخلا کا فیصلہ کر چکے ہیں، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور اب اس فیصلے پر عمل درآمد میں سیاست دانوں کی کوئی بھی ناکامی عوام کے سیاسی قیادت پر اعتماد کے لیے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہو گی۔

جرمن جریدے ’دی وَیلٹ‘ اور چند دیگر یورپی اخبارات کے اتحاد ’لینا‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ اب تک کے پروگرام کے مطابق انیس مارچ 2019ء سے یقینی طور پر یوری یونین کا رکن نہیں رہے گا۔ برطانوی سربراہ حکومت کا یہ انٹرویو آج ہفتے کے روز ’دی وَیلٹ‘ اور کئی دیگر یورپی اخبارات میں شائع ہوا۔

ٹریزا مے نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ برطانیہ کے عوام اور سیاستدانوں کی اکثریت کی سوچ وہی ہے، جس کا اظہار وہ خود کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ڈی پی اے نے کئی تازہ عوامی جائزوں کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانیہ میں بریگزٹ کے حق میں عوامی تائید مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس پس منظر میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹُسک اور یورپی کمشین کے صدر ژاں کلود یُنکر بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر برطانیہ نے ابھی بھی یہ فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ بھی یونین کا رکن ہی رہنا چاہتا ہے، تو برسلز کی طرف سے اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

برطانوی عوام نے جون 2016ء میں ہونے والے ایک ریفرنڈم میں 52 فیصد کی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ لندن کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔ اس ریفرنڈم میں 48 فیصد برطانوی رائے دہندگان کی خواہش یہ تھی کہ ان کے ملک کو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی یورپی یونین کا رکن رہنا چاہیے۔قبل ازیں جمعہ دو مارچ کے روز لندن میں اپنے ایک انتہائی اہم پالیسی خطاب میں ٹریزا مے نے کہا کہ  اب تک یورپی سطح پر جو تجارتی معاہدے پائے جاتے ہیں، انہی کی طرز پر لیکن بریگزٹ کے بعد کے دور میں یورپی یونین کے برطانیہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کا تصور بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے برطانوی یورپی تجارتی تعلقات کے لیے نئے ماڈلز کا تیار کیا جانا لازمی ہو گا۔

ٹریزا مے نے کہا کہ یورپی یونین اب تک جن تجارتی ماڈلز پر عمل پیرا ہے، اور جن کا اطلاق یونین سے باہر کے ناروے اور کینیڈا جیسے ممالک پر بھی ہوتا ہے، وہ مستقبل میں لندن اور برسلز کے مابین تجارتی روابط کے سلسلے میں لندن کی خواہشات کی عکاسی نہیں کرتے۔

جرمن جریدے ’دی وَیلٹ‘ کے ساتھ انٹرویو میں ٹریزا مے نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ لندن اور برسلز کے مابین مارچ 2019ء کے بعد کے دور کے لیے ایک نیا اور قابل عمل کسٹمز معاہدہ قابل قبول ثابت ہو سکتا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
جرمنی اسلام دشمنی بڑھتی جا رہی ہے؟ گزشتہ برس اس یورپی ملک میں مسلمان مردوں، خواتین اور مساجد پر قریب ایک ہزار حملے کیے گئے
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی پولیس پنجاب کو بند کمرے میں بریفنگ کے لیے طلب کرلیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »