محکمہ موسمیات کی پیش گوئی 19سے 26فروری تک ملک بھر میں بارشوں کی نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے     No IMG     وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بڑا مطالبہ     No IMG     حکمرانوں کے تمام حلقے کشمیر کے معاملے پر خاموش ہیں, مولانا فضل الرحمان     No IMG     پاکستان, میں 20ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا: سعودی ولی عہد     No IMG     لاہور قلندرز 78 رنز پر ڈھیر     No IMG     ابو ظہبی میں ہتھیاروں کے بین الاقوامی میلے کا آغاز     No IMG     برطانوی ہوائی کمپنی (Flybmi) دیوالیہ، سینکڑوں مسافروں کو پریشانی     No IMG     یورپ میں قانونی طریقے سے داخل ہونے والے افراد کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیے جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے     No IMG     ٹرین کے ٹائلٹ میں پستول، سینکڑوں مسافر اتار لیے گئے     No IMG     یورپی یونین ,کے پاسپورٹوں کا کاروبار ’ایک خطرناک پیش رفت     No IMG     بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی اورتمام سرکاری سہولتیں واپس لے لی     No IMG     پی ایس ایل کے چھٹے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹوں سے شکست دےدی     No IMG     وزیرخارجہ کا ایرانی ہم منصب کو ٹیلیفون     No IMG     سعودی ولی عہد کا پاکستان میں تاریخی اور پُرتپاک استقبال     No IMG     پاکستان ,کو زاہدان کے دہشتگردانہ حملے کا جواب دینا ہوگا، ایران     No IMG    

بحیرہ شمال میں حادثہ ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے,بحیرہ شمال میں حادثہ ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے جرمنی میں شدید ردعمل
تاریخ :   05-01-2019

برلن ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمنی کی گرین پارٹی نے کہا ہے کہ کیمیاوی مواد خطرناک سمندری راستوں سے ٹرانسپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایک سمندری طوفان کے باعث بحیرہ شمال میں ایک کارگو بحری جہاز سے دو سو ستر کنٹینرز سمندر میں گر گئے

 

تھے۔
بحیرہ شمال میں یہ حادثہ اس وقت رونما ہوا تھا، جب سمندری طوفان کی وجہ سے ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے تھے۔ ان کنٹینرز میں کھلونے، کپڑے، جوتے اور دیگر سامان لدا ہوا تھا۔

اس حادثے پر ماحول دوست کارکنان نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک مواد سے بھرے کنٹینرز کو سمندری راستوں سے ٹرانسپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم دوسری طرف بحری سفر کے ماہرین نے اس حادثے کی وجہ نئے کارگو بحری جہازوں کے بڑے سائز کو قرار دیا ہے۔

جرمن میں ماحول دوست اداروں اور سیاستدانوں نے کہا ہے کہ کارگو بحری جہازوں میں لادے جانے والے کنٹینرز میں ٹریکنگ نظام نصب کرنا چاہیے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں انہیں سمندر سے نکالا جا سکے۔

جرمن صوبے لوئر سیکسنی کے وزیر ماحولیات اولاف لیس نے صحافیوں کو بتایا، ’’بڑا مسئلہ سمندر میں گر جانے والے ان کنٹینرز کی تلاش ہے‘‘۔ یہ حادثہ اس صوبے کی سمندری حدود میں رونما ہوا تھا۔ اولاف لیس نے اس حادثے کی فوری تفتیش کا مطالبہ بھی کیا ہے، ’’اس تناظر میں ہمیں فوری طور پر کچھ کرنا ہو گا۔‘‘

گرین پیس سے وابستہ کیمیاوی آلودگی کے ماہر مانفرڈ سانٹن نے بھی کہا ہے کہ ایسے کنٹینرز میں ٹریکنگ نظام نصب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ این ڈی آر ریڈیو سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک مواد سے بھرے کنٹینرز کو کارگو بحری جہاز کے کونوں یا بالائی حصے میں اسٹور نہیں کرنا چاہیے۔

پاناما فلیگ والا MSC Zoe کارگو بحری جہاز منگل کی رات ایک طوفان کی زد میں آ گیا تھا، جس کے باعث اس پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے تھے۔ یہ جہاز بیلجیم کے شہر اینٹورپ کی بندرگاہ سے جرمن بندرگاہ بریمر ہافن کی طرف رواں تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسے سمندری حادثوں کی وجہ سے سمندر میں گھل جانے والا خطرناک کیمیکل مادہ نہ صرف آبی حیات کے لیے تباہ کن ہے بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی۔

ڈچ حکام نے بتایا ہے کہ سمندر میں بہہ جانے والے بیس کنٹینرز ساحلی علاقوں سے ملے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آلودگی بھی پھیلی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ باقی ماندہ کنٹینرز کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے جرمن پارلیمان میں بھی ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کے 8 ممالک کا دورہ کریں گے
عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر
Translate News »