وزیراعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے واقعے پر رپورٹ طلب کر لی     No IMG     افغانستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں     No IMG     وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا افتتاح کردیا     No IMG     ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر اردوغان کے ساتھ ملاقات     No IMG     عمان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں شام کی عرب لیگ میں واپسی پر تاکیدکی     No IMG     سعودی عرب کی ایک کمپنی نے ترکی میں 100 ملین ڈالر کا سرمایہ لگانے کا اعلان     No IMG     روس کی سرحد پربرطانوی فوجی ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر شدید رد عمل     No IMG     چین ,نے سی پیک پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا     No IMG     چلی میں چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک     No IMG     فیصل آباد میں جعلی اکاﺅنٹ پکڑے گئے‘بنکوں کا عملہ بھی ملوث نکلا     No IMG     حمزہ شہبازعبوری ضمانت میں توسیع کے لیے ہائی کورٹ پہنچ گئے     No IMG     عوامی مقامات پر غیر مناسب لباس ممنوع، 5 ہزار ریال جرمانہ     No IMG     عالمی بینک نے پاکستان سے جوہری پروگرام، جے ایف 17 تھنڈر، بحری آبدوزوں اور سی پیک قرضوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     امریکی شہری پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں, امریکی محکمہ خارجہ     No IMG     ملک بھر میں شدید طوفان آنے کا خدشہ     No IMG    

بحیرہ شمال میں حادثہ ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے,بحیرہ شمال میں حادثہ ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے جرمنی میں شدید ردعمل
تاریخ :   05-01-2019

برلن ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) جرمنی کی گرین پارٹی نے کہا ہے کہ کیمیاوی مواد خطرناک سمندری راستوں سے ٹرانسپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایک سمندری طوفان کے باعث بحیرہ شمال میں ایک کارگو بحری جہاز سے دو سو ستر کنٹینرز سمندر میں گر گئے

 

تھے۔
بحیرہ شمال میں یہ حادثہ اس وقت رونما ہوا تھا، جب سمندری طوفان کی وجہ سے ایک کارگو بحری جہاز پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے تھے۔ ان کنٹینرز میں کھلونے، کپڑے، جوتے اور دیگر سامان لدا ہوا تھا۔

اس حادثے پر ماحول دوست کارکنان نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک مواد سے بھرے کنٹینرز کو سمندری راستوں سے ٹرانسپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم دوسری طرف بحری سفر کے ماہرین نے اس حادثے کی وجہ نئے کارگو بحری جہازوں کے بڑے سائز کو قرار دیا ہے۔

جرمن میں ماحول دوست اداروں اور سیاستدانوں نے کہا ہے کہ کارگو بحری جہازوں میں لادے جانے والے کنٹینرز میں ٹریکنگ نظام نصب کرنا چاہیے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں انہیں سمندر سے نکالا جا سکے۔

جرمن صوبے لوئر سیکسنی کے وزیر ماحولیات اولاف لیس نے صحافیوں کو بتایا، ’’بڑا مسئلہ سمندر میں گر جانے والے ان کنٹینرز کی تلاش ہے‘‘۔ یہ حادثہ اس صوبے کی سمندری حدود میں رونما ہوا تھا۔ اولاف لیس نے اس حادثے کی فوری تفتیش کا مطالبہ بھی کیا ہے، ’’اس تناظر میں ہمیں فوری طور پر کچھ کرنا ہو گا۔‘‘

گرین پیس سے وابستہ کیمیاوی آلودگی کے ماہر مانفرڈ سانٹن نے بھی کہا ہے کہ ایسے کنٹینرز میں ٹریکنگ نظام نصب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ این ڈی آر ریڈیو سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک مواد سے بھرے کنٹینرز کو کارگو بحری جہاز کے کونوں یا بالائی حصے میں اسٹور نہیں کرنا چاہیے۔

پاناما فلیگ والا MSC Zoe کارگو بحری جہاز منگل کی رات ایک طوفان کی زد میں آ گیا تھا، جس کے باعث اس پر لدے 270 کنٹینرز سمندر میں گر گئے تھے۔ یہ جہاز بیلجیم کے شہر اینٹورپ کی بندرگاہ سے جرمن بندرگاہ بریمر ہافن کی طرف رواں تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسے سمندری حادثوں کی وجہ سے سمندر میں گھل جانے والا خطرناک کیمیکل مادہ نہ صرف آبی حیات کے لیے تباہ کن ہے بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی۔

ڈچ حکام نے بتایا ہے کہ سمندر میں بہہ جانے والے بیس کنٹینرز ساحلی علاقوں سے ملے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آلودگی بھی پھیلی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ باقی ماندہ کنٹینرز کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے جرمن پارلیمان میں بھی ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کے 8 ممالک کا دورہ کریں گے
عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقرر
Translate News »