گجرانوالہ میں یوم پاکستان کی تقریب میں سکول کی دیوار گرنے سے 6 افراد جاں بحق     No IMG     79 واں یوم پاکستان: وفاقی دارالحکومت میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ     No IMG     پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG    

ایرانی, عہدیدار طالبان کی ترجمانی بند کریں,افغانستان
تاریخ :   11-01-2019

کابل ( ورلڈ فاسٹ نیوزفاریو ) افغانستان کی حکومت نے ایرانی عہدیداروں کی جانب سے شدت پسند گروپ طالبان کے حوالے سے بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو طالبان کی ترجمانی نہیں کرنی چاہیے۔

میڈیا کے مطابق افغان ایوان صدر کے ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایرانی عہدیدار طالبان کی زبان کیوں بول رہے ہیں کیا ایرانی عہدیدار طالبان کے ترجمان بن گئے ہیں۔ افغان ایوان صدر کی طرف سے شدید رد عمل کے بعد ترجمان کا بیان “فیس بک” سے ہٹا دیا تھا۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کےمستقبل میں طالبان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا مگر خطے کے ممالک اس بات سے متفق ہیں کہ طالبان کو افغانستان میں حکومت کی قیادت نہیں سونپی جانی چاہیے۔
اسی سیاق میں گذشتہ ہفتے کے روز ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقجی نے افغانستان کا دورہ کیا اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد طالبان کا ایک وفد ایران پہنچا۔ ایرانی حکومت کا کہناہے کہ طالبان کے وفد کی آمد کا مقصد افغانستان میں امن بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔
ایران اور طالبان کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا تھا مگر گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں نے اس تاثر کو کافی حد تک زائل کیا ہے۔ طالبان اور ایران کے درمیان پس چلمن رابطے اب اعلانیہ رابطہ کاری میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ کابل میں تعینات ایرانی سفیر محمد رضا بہرامی نے ایک بیان میں تسلیم کیا کہ تحریک طالبان اور ایران کے درمیان برہ راست رابطے 22 مئی 2018ٌٌء کے بعد سے شروع ہوئے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان رابطوں کے باوجود تعلقات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ہم تحریک طالبان کی سیاست کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
کینیڈا ,نے سعودی ٹین ایجر کو سیاسی پناہ دے دی
امریکہ,میں شٹ ڈاؤن کے خلاف سرکاری ملازمین کا مظاہرہ
Translate News »