پاک فوج نے ایک آپریشن میں 4 مغوی ایرانی فوجیوں کو بازیاب کرالیا     No IMG     دنیا بھر میں آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار ہولی منا رہی ہے     No IMG     افغانستان کے صوبے ہرات میں سیلاب سے 13 افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 63 ہوگئی     No IMG     لیبیا میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک     No IMG     اسرائیلی دہشت گردی، غرب اردن میں مزید3 فلسطینیوں کو شہید کردیا     No IMG     پیپلز پارٹی کےچیئرمین نے 3 وفاقی وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ کردیا     No IMG     وزیراعظم عمران خان کی ہولی کے تہوار پر ہندو برادی کو مبارک باد     No IMG     سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کردی     No IMG     سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد بھی تاخیر کا شکار     No IMG     وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 214 کی شق دو اے پر عمل کرنے میں ناکام     No IMG     روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگو نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات     No IMG     بھارت اور پاکستان متنازع معاملات مذاکرات کے مذاکرات کے ذریعے حل کریں,چین     No IMG     بریگزیٹ پرٹریزامے کی حکمت عملی انتہائی کمزورہے، ٹرمپ     No IMG     امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی کویت کے بادشاہ سے ملاقات     No IMG     نیوزی لینڈ میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے براہ راست اذان نشر ہوگی,جیسنڈا آرڈرن     No IMG    

ایران:کے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے مظاہروں کا چوتھا دِن، روحانی کا عوامی بے چینی کا اقرار
تاریخ :   01-01-2018

ایرانی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور تنقید کا حق حاصل ہے۔ اُنھوں نے یہ بات ملک بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے چوتھے روز پہلے عام بیان میں کہی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ روحانی نے یہ مفاہمتی بیان اتوار کے روز احتجاج کے معاملے پر اپنی کابینہ سے گفتگو کے دوران دیا ہے۔ لیکن، اُنھوں نے روحانی کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ مظاہرین کو چاہیئے کہ وہ ملک کے مسائل اور عوام کی زندگی میں بہتری کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر فارسی زبان میں شائع بیان میں، اُنھوں نے کہا ہے کہ سماجی بے چینی پھیلانا اور لوگوں کی ملکیت تباہ کرنا نا قابلِ قبول ہے۔

سال 2009کے صدارتی انتخابات کے بعد اب تک یہ ایران میں ہونے والے سب سے بڑے اور تسلسل سے ہونے والا حکومت مخالف احتجاج ہے، جو اتوار کے روز بھی جاری رہا، جس میں ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر ریلیاں نکالیں، جن کی اطلاع اِن مقامات کے مکینوں نے ‘وائس آف امریکہ’ کی فارسی سروس کو وڈیو کلپیں روانہ کرکے دی ہے۔

وی او اے کی فارسی سروس کو بھیجے گئے ایک وڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے تہران کی مرکزی شاہراہ، ولی اثر پر ایرانی پولیس کی وین کو الٹا دیا۔

دیگر وڈیو کلپوں میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے مغربی صوبہ آذربائیجان کے شمال مغرب میں واقع ارمیا شہر میں لوگ ”مرگ بَر مطلق العنان” کے نعرے مارے؛ جب کہ ایران کے مغربی صوبہ خوزستان کے شوشتر نامی شہر میں دیگر مظاہرین ”خوف زدہ نہ ہو، ہم سب اکٹھے ہیں” کے نعرے لگائے۔

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایرانی صدر روحابی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں ایران کے عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی جتانے کا ”کوئی حق نہیں”، چونکہ کئی ماہ قبل، ٹرمپ نے ایران کو ”دہشت گرد” قوم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ ”اس بات پر قریب سے نظر رکھے گی” آیا احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کا رد عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران مظاہرین نے شام کے بحران میں تہران کی سرگرمی کو اپنے ملک کی معشیت کے بگاڑ کا ایک سبب قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں قابل سماعت قرار تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »