سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجاپاکسے مستعفی ہوگئے     No IMG     سپریم کورٹ نے افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا     No IMG     بھارتی ارب پتی مکیشن امبانی کی شادی پر خزانوں کے منہ کھُل گئے     No IMG     ایرانی وزیر خارجہ کی قطر کے وزير اعظم سے ملاقات     No IMG     وزیر اعظم کا دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کرنے کا عزم     No IMG     فرانسیسی پولیس کا معذور افراد پر بھی ظلم و ستم     No IMG     چین کینیڈین شہریوں کو رہا کرے، امریکی وزیر خارجہ     No IMG     بھارتی ریاست کرناٹک میں زہریلی خوراک کھانے سے تقریباً ایک درجن یاتریوں کی ہلاکت     No IMG     یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں، آسٹریلیا     No IMG     برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے کے پاس اب فقط چار آپشنز موجود ہیں۔     No IMG     سپریم کورٹ کا دہری شہریت والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم     No IMG     باردوی سرنگ کے دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکار ہلاک     No IMG     آئی ایم ایف سے پیکج صرف پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھ کر لیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسد عمر     No IMG     ہنگری میں غلام ایکٹ کے خلاف مظاہرے     No IMG     امریکی ایوان نمائندگان نے روہنگیا مسلمانوں پر بربریت کونسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور     No IMG    

ایران:کے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے مظاہروں کا چوتھا دِن، روحانی کا عوامی بے چینی کا اقرار
تاریخ :   01-01-2018

ایرانی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور تنقید کا حق حاصل ہے۔ اُنھوں نے یہ بات ملک بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے چوتھے روز پہلے عام بیان میں کہی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ روحانی نے یہ مفاہمتی بیان اتوار کے روز احتجاج کے معاملے پر اپنی کابینہ سے گفتگو کے دوران دیا ہے۔ لیکن، اُنھوں نے روحانی کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ مظاہرین کو چاہیئے کہ وہ ملک کے مسائل اور عوام کی زندگی میں بہتری کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر فارسی زبان میں شائع بیان میں، اُنھوں نے کہا ہے کہ سماجی بے چینی پھیلانا اور لوگوں کی ملکیت تباہ کرنا نا قابلِ قبول ہے۔

سال 2009کے صدارتی انتخابات کے بعد اب تک یہ ایران میں ہونے والے سب سے بڑے اور تسلسل سے ہونے والا حکومت مخالف احتجاج ہے، جو اتوار کے روز بھی جاری رہا، جس میں ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر ریلیاں نکالیں، جن کی اطلاع اِن مقامات کے مکینوں نے ‘وائس آف امریکہ’ کی فارسی سروس کو وڈیو کلپیں روانہ کرکے دی ہے۔

وی او اے کی فارسی سروس کو بھیجے گئے ایک وڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے تہران کی مرکزی شاہراہ، ولی اثر پر ایرانی پولیس کی وین کو الٹا دیا۔

دیگر وڈیو کلپوں میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے مغربی صوبہ آذربائیجان کے شمال مغرب میں واقع ارمیا شہر میں لوگ ”مرگ بَر مطلق العنان” کے نعرے مارے؛ جب کہ ایران کے مغربی صوبہ خوزستان کے شوشتر نامی شہر میں دیگر مظاہرین ”خوف زدہ نہ ہو، ہم سب اکٹھے ہیں” کے نعرے لگائے۔

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایرانی صدر روحابی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں ایران کے عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی جتانے کا ”کوئی حق نہیں”، چونکہ کئی ماہ قبل، ٹرمپ نے ایران کو ”دہشت گرد” قوم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ ”اس بات پر قریب سے نظر رکھے گی” آیا احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کا رد عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران مظاہرین نے شام کے بحران میں تہران کی سرگرمی کو اپنے ملک کی معشیت کے بگاڑ کا ایک سبب قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں قابل سماعت قرار تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »