پولیس کا شراب بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ، 200 سے زائد بوتلیں برآمد     No IMG     اٹلی , پناہ اور ملک بدری کے قوانین میں مزید سختی کی منظوری     No IMG     وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اقوم متحدہ کے اجلاس میں شرکت کےلیے نیویارک پہنچ گئے     No IMG     ترک وزیرِ خارجہ نے وینزویلا کے سرکاری دورے کے دوران قومی کرنسی سے تجارت پر زور دیا     No IMG     پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس     No IMG     تیونس میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے نتیجہ میں5 افراد ہلاک     No IMG     ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، برطانوی وزیراعظم تھریسامے     No IMG     شراب نوشی، چوری اور سمگلنگ سمیت دیگر سنگین الزامات کے نتیجے میں پی آئی اے کی 18ائیر ہوسٹس کی بیرون ملک ڈیوٹیاں لگانے اور جانے پر پابندی عائد     No IMG     پنجاب حکومت نے یروزگار نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے 30 لاکھ روپے آسان شرائط پر قرضہ دینے کا فیصلہ     No IMG     لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پانچ لاکھ بچے خطرے سے دوچار     No IMG     غزہ اقوام متحدہ ایجنسی کے فلسطینی ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف ہڑتال     No IMG     چین کے مالیاتی حکام نے فضائی آلودگی کی وجہ سے 158 کمپنیوں کے خلاف کارروائی     No IMG     امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کا سرکاری امداد لینے والے تارکینِ وطن کے گرین کارڈز بندکرنے پر غور     No IMG     اسرائیل,کا فلسطینی گاؤں کے انہدام کا فیصلہ     No IMG     بھارت میں جیپ کھائی میں گر نے سے 13 افراد ہلاک     No IMG    

ایران:کے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے مظاہروں کا چوتھا دِن، روحانی کا عوامی بے چینی کا اقرار
تاریخ :   01-01-2018

ایرانی (ورلڈ فاسٹ نیوز فار یو) صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور تنقید کا حق حاصل ہے۔ اُنھوں نے یہ بات ملک بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے چوتھے روز پہلے عام بیان میں کہی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ روحانی نے یہ مفاہمتی بیان اتوار کے روز احتجاج کے معاملے پر اپنی کابینہ سے گفتگو کے دوران دیا ہے۔ لیکن، اُنھوں نے روحانی کے حوالے سے یہ بات کہی ہے کہ مظاہرین کو چاہیئے کہ وہ ملک کے مسائل اور عوام کی زندگی میں بہتری کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر فارسی زبان میں شائع بیان میں، اُنھوں نے کہا ہے کہ سماجی بے چینی پھیلانا اور لوگوں کی ملکیت تباہ کرنا نا قابلِ قبول ہے۔

سال 2009کے صدارتی انتخابات کے بعد اب تک یہ ایران میں ہونے والے سب سے بڑے اور تسلسل سے ہونے والا حکومت مخالف احتجاج ہے، جو اتوار کے روز بھی جاری رہا، جس میں ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر ریلیاں نکالیں، جن کی اطلاع اِن مقامات کے مکینوں نے ‘وائس آف امریکہ’ کی فارسی سروس کو وڈیو کلپیں روانہ کرکے دی ہے۔

وی او اے کی فارسی سروس کو بھیجے گئے ایک وڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے تہران کی مرکزی شاہراہ، ولی اثر پر ایرانی پولیس کی وین کو الٹا دیا۔

دیگر وڈیو کلپوں میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے مغربی صوبہ آذربائیجان کے شمال مغرب میں واقع ارمیا شہر میں لوگ ”مرگ بَر مطلق العنان” کے نعرے مارے؛ جب کہ ایران کے مغربی صوبہ خوزستان کے شوشتر نامی شہر میں دیگر مظاہرین ”خوف زدہ نہ ہو، ہم سب اکٹھے ہیں” کے نعرے لگائے۔

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایرانی صدر روحابی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں ایران کے عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی جتانے کا ”کوئی حق نہیں”، چونکہ کئی ماہ قبل، ٹرمپ نے ایران کو ”دہشت گرد” قوم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ ”اس بات پر قریب سے نظر رکھے گی” آیا احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کا رد عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

Print Friendly, PDF & Email
ایران مظاہرین نے شام کے بحران میں تہران کی سرگرمی کو اپنے ملک کی معشیت کے بگاڑ کا ایک سبب قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں قابل سماعت قرار تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Translate News »